424 total views, 1 views today

سوشل میڈیا پر جاری بحث پہلے مَیں سمجھتا تھا کہ منظم نہیں لیکن اب سمجھ آیا کہ منظم منصوبے کے تحت چل رہی ہے۔ حکومتی حلقوں میں اب برملا کہا جا رہا ہے اور اس کی حمایت میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں ہر کوئی تجربات کر رہا ہے۔ اگرچہ تبدیلی اور ترمیم بری بات نہیں بلکہ زندگی کا آئینِ نو تو زندگی کی نشانی ہے، لیکن پاکستان اس وقت ڈوب رہا ہے۔ 12 کروڑ کی نوجوان آبادی میں اکثریت مشکلات سے دوچار ہے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ صدارتی نظام کیا ہے اور اس کا ملک کو کیا فائدہ ملے گا؟ دراصل، صدارتی نظام بھی پارلیمانی نظام کی طرح جمہوری نظام ہوتا ہے۔ اس میں بھی عوام کی رائے سے حقِ حکمرانی حاصل ہوتا ہے۔ صدارتی نظام میں کئی امیدوار صدر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑتے ہیں، اور جیتنے والا ملک کا صدر بن جاتا ہے۔ انتظامیہ کا سربراہ صدر ہوتا ہے۔ صدر اپنی صواب دید سے کابینہ بناتا ہے۔ کابینہ ممبرز کا تعلق پارلیمنٹ سے ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ پارلیمنٹ یا باہر سے کسی بھی آدمی کو صدر اپنی کابینہ میں شامل کر سکتا ہے۔
امریکہ میں اس وقت صدارتی نظام رائج ہے۔ امریکی پارلیمنٹ کو "کانگرس” کہا جاتا ہے جس کے دو ایوان ہیں۔ ایک ایوانِ بالا جسے سینٹ کہا جاتا ہے اور دوسرا ایوانِ نمائندگان۔ صدارتی نظام میں مقننہ اور انتظامیہ الگ الگ چیز ہوتی ہیں۔ جب کہ پارلیمانی سسٹم میں جو پاکستان میں رائج ہے، اس میں انتظامیہ پارلیمان کے قریب قریب اور کابینہ ارکان کا تعلق پارلیمان سے لازمی ہوتا ہے۔
صدارتی نظام پاکستان کے 62 کے آئین میں شامل تھا۔ ایوب خان اسی نظام کے تحت ایک دفعہ صدر بھی بنے تھے، مگر "کثیرالقومی” ملک پاکستان جو ایک فیڈریشن ہے، مختلف النسل لوگ اس میں بستے ہیں، یہاں یہ تجربہ ناکامی کا شکار ہوچکا ہے۔ گو کہ پارلیمانی نظام بھی ناکام رہا ہے، مگر صدارتی نظام سے ریلیف ملنے کے امکانات بھی زیادہ نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ صدارتی نظام میں صدر کو ایم پی ایز اور ایم این ایز کی من مانیوں سے نجات مل جاتی ہے اور وہ یکسوئی سے اپنی کابینہ بنا کر ملک چلا پائے گا، جب کہ حقیقت یہ نہیں! حقیقت اور اصل مرض کچھ اور ہے۔ اصل بیماری اس ملک میں وہ بیوروکریسی ہے جو انگریز نے اسی کام کے لیے بٹھا رکھی ہے کہ وہ ملک کو آگے جانے نہ دے، ایک ڈی سی کے پاس وائسرائے جتنا اختیار ہوتا ہے۔ حالاں کہ وہ عوام کے پیسوں سے پلنے والا عوامی ملازم ہوتا ہے جو عوام کو جواب دہ ہوتا ہے۔ سول و ملٹری بیورو کریسی کو جب تک پٹّا نہ ڈالا جائے، اس ملک میں نہ قانون کی حکمرانی ہو سکتی ہے، نہ آئین کی اور نہ کسی صدر کی۔ صدارتی سسٹم میں بیورو کریسی کو آسانی ہوگی۔ اسٹیبلشمنٹ آسانی دے نال ایک شخص یعنی صدر کو کنٹرول کر سکے گا۔ جنرل مشرف، ایوب خان کی طرح ایک مضبوط فوجی حکمران رہے ہیں۔ اس کے بارے میں جنرل شاہد عزیز اپنی کتاب "یہ خاموشی کہاں تک؟” میں لکھتے ہیں کہ جنرل مشرف کے آنے کے بعد ہم خوش تھے کہ اب ملک ٹریک پر آئے گا، مگر جلد ہمیں احساس ہوا کہ اس ملک میں بیورو کریسی ہمیں کام نہیں کرنے دے رہی اور مختلف حیلوں بہانوں سے ہمارے رفتار کو کم کر رہی ہے۔ رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔”
اگر جنرل مشرف جیسا مضبوط صدر یا فوجی آمر اسٹیبلشمنٹ کے سامنے بے بس تھا، تو ایک منتخب صدر بے چارہ کیا کر سکے گا؟
پارلیمانی نظام میں بھی سارے قاتل، چور اور جاگیر دار پارلیمنٹ پہنچ جاتے ہیں۔ اِکا دُکا عام لوگ بھی پہنچ جاتے ہیں، مگر اس وقت پارلیمنٹ پر نظر دوڑائیں، تو وہاں سرمایہ دار، کارخانے دار، سمگلر، ظالم، جابر، قاتل، مافیا کنگز اور علاقائی جاگیردار ہی بیٹھے ہیں۔ شاہد خٹک یا مراد سعید جیسے لوگ اِکا دُکا ہیں جن کے پَر پہلے ہی سے کاٹے گئے ہوتے ہیں اور فیصلہ سازی سے ہزاروں میل دور رکھے گئے ہوتے ہیں۔
اس وقت اگر دیکھا جائے، تو تیسری دنیا کے تمام ممالک عالمی طاغوت کے بھاری پنجے کے نیچے دبے ہیں۔ عالمی طاغوت کے براہِ راست نمائندے اس ملک کی بیوروکریسی ہوتے ہیں، جو سول و ملٹری دونوں جگہ موجود ہیں۔ چند دن پہلے سوڈان میں فوجی بغاوت کے ذریعے عالمی طاغوت کے حکم کی بجا آوری کی گئی۔ اسی طرح چند سال قبل مصر میں ہوا۔ تیسری دنیا کے ممالک حقیقی معنوں میں آزاد نہیں بلکہ دیسی کتوں کے ذریعے عالمی کفر کے گماشتے بنے ہیں۔ جد و جہد، کوشش اور سیاسی بیداری ہی سے اس غلامی کے نظام سے بچا جا سکتا ہے۔
عوام کو صاف صاف بتایا جائے کہ نظام پارلیمانی ہو یا صدارتی، ان کے دکھ ویسے ہی رہیں گے۔ کسی نئی الجھنوں میں پڑنے کی بجائے حکمرانوں سے پوچھا جائے کہ جب کچھ "ڈیلیور” نہیں کرسکتے، تو نئے بہانے مت بنائیں "ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔” کچھ ڈیلیور کیا جائے۔ نظام بدلنا ہے، تو اسٹیبشلمنٹ کو پٹّا ڈالا جائے، جو ہمارے نوکر ہیں، لیکن اپنے آپ کو مالک قرار دے چکے ہیں۔ برائی کا سرچشمہ بیوروکریسی ہے۔

…………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے