265 total views, 1 views today

روغانےؔ بابا سوات میں پشتو زبان کے معروف شاعر ہیں۔ وہ کئی کتابوں کے خالق ہیں۔ شاعری میں انہوں نے غزل، چاربیتہ وغیرہ میں طبع آزمائی کی ہے لیکن قطعہ پر انہیں بہت مہارت حاصل ہے۔ اُن سے پچھلے دنوں ہماری خصوصی ملاقات ہوئی جس کا احوال حسب ذیل ہے:
ہم نے ان سے علیک سلیک کے بعد کہا کہ سب سے اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیں، تاکہ آپ کے چاہنے والوں کو اس حوالہ سے آگاہی حاصل ہو۔ انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ’’میری پیدائش یکم جنوری 1950ء کو مٹہ کے علاقہ درشخیلہ میں ہوئی۔ میرے والد کا نام عبید اللہ تھا جو ایک دینی عالم تھے۔ انہوں نے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ مردان میں ایک بڑا مدرسہ بھی بنایا تھا۔ مَیں نے پشتو میں ماسٹرز کرنے کے علاوہ پی ٹی سی اور سی ٹی بھی کیے ہیں۔ حالاں کہ میرا والد صاحب اس بارے میں میرے خلاف تھا، لیکن پھر بھی مَیں نے تعلیم حاصل کی۔ 1973ء میں، میں پی ٹی سی ٹیچر کی حیثیت سے دروس و تدریش کے شعبہ سے وابستہ ہوا اور تقریباً 26 سال تک ملازمت کرتا رہا۔ ‘‘
ہم نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ آپ ادب میں کیوں اور کیسے آئے؟ انہوں نے جواباً کہا کہ انسان پیدائشی طور پر شاعر ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی فنون پیدائشی ہوتے ہیں مثلاً مصوری، مجمسہ سازی وغیرہ۔ لیکن انسان کو جس طرح کے حالات موافق ہوں، تو وہ پھر وہی کام اختیار کرلیتا ہے۔ مَیں نے جماعتِ چہارم میں شاعری شروع کی تھی۔ میرے اساتذۂ کرام اکثر مجھ سے کہا کرتے تھے کہ اس چیز پر شعر لکھیں۔ اس بندے کے بارے میں شعر لکھیں۔ ’’مَیں تقریباً ہفتم جماعت میں تھا کہ میں نے شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا۔‘‘
ہمارا اگلا سوال تھا کہ آپ نے نثر میں بھی کچھ لکھا ہے کہ نہیں؟ جواب ملا کہ ’’مَیں نے نثر میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ خصوصاً افسانے لکھے ہیں۔ مَیں چوں کہ جدت پسند ہوں، اس لیے میری نثر بھی روایتی نثر کی طرح نہیں ہے۔ میری ایک نثری کتاب ’’کوربانہ خیالونہ‘‘ کو میرے ایک دوست نے ’’روحانی سفرنامہ‘‘ کا نام دیا ہے۔ میری نثر کے بارے میں کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ افسانہ ہے، سفرنامہ یا ناول وغیرہ۔‘‘
ایک سوال یہ بھی پوچھا گیا کہ آپ کے لکھنے کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ جواب ملا کہ ’’مَیں عام طور پر معاشرے کی اصلاح، ترقی، فلاح و بہبود وغیرہ کے بارے میں لکھتا ہوں اور میرے لکھنے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ دوسروں کو اس سے کچھ فائدہ ملے۔ ‘‘
ہم نے پوچھا کہ شاعری شروع کرتے وقت آپ کوکن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا؟ انہوں نے جواباً کہا کہ ’’شاعری شروع کرتے وقت گھریلو مسائل نے جکڑ رکھا تھا۔ میر اوالد چوں کہ ایک بڑا عالم دین تھا، اس لیے سب سے پہلے وہ میرے خلاف ہوا۔ وہ شاعری کرنے پر مجھے بہت مارتا تھا۔ وہ اس عمل کو بے کار اور بے فائدہ سمجھتا تھا۔ اس کے علاوہ بھی ڈھیر سارے چھوٹے موٹے مسائل تھے۔‘‘
ہم نے ان سے سوال کیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پشتو زبان کو زندہ رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟‘‘
روغانیؔ بابا کی طرف سے مختصر سا جواب ملا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پشتو زبان کی لکھائی پڑھائی کو کم از کم دسویں جماعت تک نصاب میں لازمی قرار دے۔ جب تک پشتو لازمی مضمون کی حیثیت سے نصاب میں جگہ نہیں پائے گی، تب تک اس کی ترقی کا سوچنا خام خیالی ہی ہے۔
ایک سوال یہ بھی پوچھا گیا کہ اب تک آپ نے کتنی اور کون کون سی کتابیں لکھی ہیں؟ روغانیؔ بابا نے جواباً کہا کہ ’’لکھی تو میں نے ڈھیر ساری ہیں، لیکن شائع ان میں ابھی تک صرف آٹھ ہی ہوئی ہیں، جن کی تفصیل کچھ یوں ہے: نوی نغمہ، زوریدلی احساسات، سندریز احساس، خود غرض، کوربانہ خیالونہ، د رنڑا ساسکی، سندری او خبری، اور انگریزی کتاب Selfish (خود غرض کا انگریزی ترجمہ)۔
پوچھا کہ بابائے قطعہ کا لقب آپ کو کب اور کس نے دیا تھا؟ جواب ملا کہ یہ مجھے تقریباً 2012-13ء میں ’’سندھ ادبی ٹولنہ‘‘ کی طرف سے دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس کی توثیق دیر، سوات، شانگلہ، افغانستان کے تمام ادبی حلقوں نے کی۔
تھوڑے سے توقف کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی زندگی کا کوئی یادگار واقعہ، جو آپ کو ابھی تک یاد ہو؟ کہنے لگے: ’’میری ساری زندگی بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے اور ان میں سے ہر واقعہ اپنی جگہ یادگار ہے، لیکن مَیں ان میں سے ایک ضرور بتاؤں گا۔ جب میں میٹرک فرسٹ ڈویژن سے پاس کرکے کالج میں داخلہ کے لیے گیا، تو میرے پاس روپے نہیں تھے۔ اُس دور میں سائنس کے داخلے کی فیس 75 روپیہ تھی، تو مَیں سیدھا پرنسپل صاحب کی آفس میں چلا گیا، اور ان کو بتایا کہ میرے پاس داخلہ کے پیسے نہیں ہیں۔ مجھے فری داخلہ دلوا دیں۔ انہوں نے مجھے آفس سے نکالا۔ مَیں سیدھا گھر آیا اور غم و غصے میں اپنے سارے سرٹیفکیٹس جلا دیے اور زمین داری کا کام شروع کیا۔اس کے ساتھ شاعری بھی کرتا تھا۔ شاعری میں تھوڑا بہت مشہور ہوا، تو جہانزیب کالج کے اُس وقت کے پرنسپل نے مجھے ایک مشاعرے کے لیے مہمانِ خصوصی کے طور پر دعوت دی۔ جب میری باری آئی، تو مَیں نے سب سے پہلے یہ بات کی کہ یہ وہی جہانزیب کالج ہے جس میں مجھے روپے نہ ہونے کی وجہ سے داخلہ نہیں ملا تھا اور آج میں اسی کالج میں مہمان خصوصی ہوں۔‘‘
تھوڑے توقف کے بعد ان سے پوچھاگیا کہ آپ قدیم شعراء میں کس سے زیادہ متاثر ہیں؟
جواب ملا: ’’سب بہت اچھے ہیں، لیکن میں رحمان بابا سے زیادہ متاثر ہوں۔ وہ میرا روحانی استاد بھی ہے۔‘‘
ایک چھوٹا سا سوال یہ پوچھا گیا کہ آج کی شہرت آپ کو کیسی لگتی ہے؟ انہوں نے ہنس کر جواب دیا کہ ’’مجھ سے زیادہ مشہور تو شیطان اور پیپسی کی بوتل ہے۔ میرے نزدیک شہرت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ میں نے شہرت کے لیے کبھی کچھ نہیں کیا۔‘‘
آخری سوال ان سے پوچھا گیا کہ نئی نسل کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟جواباً یوں گویا ہوئے: ’’میرے خیال میں صرف وہ قوم ترقی کرسکتی ہے، جو علم رکھتی ہو۔ کیوں کہ علم ہی انسان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتا ہے۔ قانون اور انصاف کے تحت انسان اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے نئی نسل کوصرف یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ اپنے سینوں کو علم کے نور سے منور کریں۔‘‘
آخر میں ان سے اجازت لی اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس نشست میں شریف الدین بھی میرے ساتھ تھے۔

……………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے