543 total views, 1 views today

اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹنے اور عوام اور اداروں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے "نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ایکٹ 06-2005ء” منظور کیا گیا۔ اسی ایکٹ کے تحت سن 2010ء میں "پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز” قائم کی گئیں۔ ایک طرف دہشت گردی اور اس کے خلاف ہونے والے آپریشن میں عوامی اور سرکاری عمارتیں، سڑکیں، پل اور جنگلات تباہ ہوئے، تو دوسری طرف اسی سال یعنی 2010ء میں غیر متوقع تباہ کن سیلاب نے عوام کو کہیں کا نہ چھوڑا، تو سرکار نے متاثرین کی دوبارہ بحالی اور آباد کاری کے لیے "پراونشل ری کنسٹرکشن ری ہبیلی ٹیشن ایند سیٹلمنٹ اتھارٹی” (پارسا) کے قیام کا فیصلہ کیا، جسے خیبر پختون خواہ کے ڈئزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ساتھ ایک ایگزیگٹو سمری کے ذریعے منسلک کر دیا گیا۔ چوں کہ زیادہ تر نقصانات ملاکنڈ ڈویژن میں ہوئے تھے۔ لہٰذا اس ادارے کا ایک دفتر ڈویژنل صدر مقام سیدو شریف میں قائم کیا گیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک پارسا نے مختلف بیرونی امدادی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ سوات میں فضاگٹ پارک کی دوبارہ آباد کاری، ڈویژن بھر کی تحصیل میونسپل کمیٹیوں اور سرکاری اداروں کو خدمات میں درکار مختلف ساز و سامان کی فراہمی، کھیلوں اور ثقافت کے فروغ، سیکڑوں مقامات پر چھوٹی بڑی سڑکوں، آب نوشی اور نکاسیِ آب کے منصوبوں، ہیڈ ورکس، ہسپتالوں اور مراکزِ صحت کی دوبارہ تعمیر و بحالی، جزوی یا کلی طور پر تباہ ہونے والے مکانات کے 10,000 مالکان کو معاوضہ دینے اور ادبی سرگرمیوں کے لیے "یو این ڈی پی” نے 564 ملین روپے، "یو ایس ایڈ” نے 101 ملین امریکی ڈالرز، اٹلی کے ادارے نے 875 ملین روپے، جرمنی نے 5.4 ملین یورو اور صوبائی حکومت نے 1.5 بلین روپے دیے۔ پارسا کی طرف سے فراہم کردہ مالی امداد سے ہونے والے تعمیراتی کام کی ذمہ داری صوبائی محکمے "سی اینڈ ڈبلیو” کی ہے، جس کے لیے اس کے زیرِ سایہ ایک خاص شعبہ یا یونٹ بنایا گیا ہے۔ پارسا کو آغاز میں ایک منجھا ہوا بیوروکریٹ، کرپشن سے پاک، تجربہ کار اور مخلص ڈائریکٹر جنرل ملا جو 2013ء تک یہاں خدمات انجام دیتا رہا۔ زیادہ کام اور کم وسائل کے باوجود تین سال کے لیے بنائے گئے اس ادارے کو کارکردگی کی بنیاد پر توسیع دی گئی۔ موجودہ حکومت اس کو مستقل حیثیت دینے کی منظوری دے چکی ہے۔ کیوں کہ یہ ادارہ وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن گذشتہ دو تین سالوں سے ضلع سوات میں پارسا کی مالی امداد سے چلنے والے منصوبے جس میں زیادہ تر سکول ہیں، سست روی کا شکار ہیں۔ 32 سکولوں کے دو سال پرانے تعمیراتی ٹھیکوں پر تاحال کام شروع نہیں کیا جاسکا۔ جب کہ ان کی منظور شدہ میعاد ختم ہوچکی ہے۔ 34 سکولوں میں 38 فی صد کام باقی ہے۔ ان سکولوں میں ہزاروں بچے پڑھ رہے ہیں، جو کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر منصوبے ملاکنڈ ڈویژن میں ہیں، جن کے لیے یہاں پارسا میں 17 گریڈ کے صرف7 افسران تعینات ہیں، جنہوں نے ان منصوبوں میں اپنا کام مکمل کرکے "سی اینڈ ڈبلیو” میں قائم یونٹ کو نفاذ کے لیے دے دیا ہے، مگر منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے "سی اینڈ ڈبلیو” میں موجود یونٹ اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوتا نظر آ رہا ہے۔ مزید تاخیر سے یہ منصوبے مزید مہنگے ہو رہے ہیں اور دیگر کے علاوہ ہزاروں طلبہ وطالبات کا مستقبل تاریک ہوتا جا رہا ہے۔
سکولوں کے علاوہ دیگر منصوبے بھی تکمیل کے منتظر ہیں۔ مصنوعی اور قدرتی آفات سے بروقت نمٹنے کا عمل ایک مضبوط، پائیدار اور مستعد نظام کا تقاضا کرتا ہے، جو بدقسمتی سے قائم نہیں ہو پا رہا۔ حالاں کہ عمومی طور پر پاکستان اور خصوصی طور پر ملاکنڈ ڈویژن کو قدرتی آفات کا مسلسل سامنا رہتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے علاقائی اور ملکی سطح پر رونما ہونے والے اثرات ہم 2010ء میں دیکھ چکے ہیں، جن کے لیے ہم کسی بھی طرح تیار نہیں تھے۔ ذکرہ شدہ مسائل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ قومی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک پوری وزارت قائم کی جائے جو کہ حکومت بھول ہی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ڈھانچے کو پلان کے مطابق اضلاع تک پھیلانا گذشتہ دس سال سے ممکن نہیں ہو رہا، اس پر توجہ دینا لازمی ہے۔ صوبائی حکومت پارسا کو منصوبے خود نافذ کرنے کے لیے اختیارت دے اور "سی اینڈ ڈبلیو” کو عمومی سرکاری تعمیرات کے کام تک محدود کرے، تو کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ پارسا کی استعدادِ کار کو بڑھانے اور متعلقہ تربیت یافتہ تجربہ کار افسران اور عملے کی تعیناتی سے مشکلات میں کمی آسکتی ہے۔ "ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز” کے ڈھانچے کو فوری طور پر مکمل کرنا از حد ضروری کام ہے۔ کیوں کہ پورے صوبے میں "ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز” کا قیام اور متعلقہ افسران اور عملے کی تعیناتی دس سال سے نہیں ہو پا رہی۔ لہٰذا کسی بھی ضلع میں ہنگامی صورتِ حال میں درکار اشیا کے گودام ابھی تک قائم نہیں ہوئے۔
آخر میں ضلع ناظم سوات محمد علی شاہ خان، کمشنر ملاکنڈ رینج، ڈپٹی کمشنرز اور ملاکنڈ ڈویژن کے منتخب نمائندوں سے التماس ہے کہ اپنے علاقے کے فنڈز کے مؤثر اور بروقت استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

……………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے