472 total views, 2 views today

“ایوان ریڈلی” برطانیہ کی معروف صحافی ہیں۔ آپ کی سروسز کی پوری دنیا معترف ہے۔ جس دن نیویارک میں “نائن الیون” کا دلسوز واقعہ رونما ہو رہا تھا، وہ اُس وقت برطانیہ میں ٹی وی پر یہ دردناک مناظر دیکھ رہی تھیں۔ یہ واقعہ حقیقت میں پوری انسانی عالم کے لیے حیران کن تھا۔ کیوں کہ اسی واقعے کی وجہ سے انسانی تاریخ کا دھارا بدل گیا تھا۔ جس وقت ہمارے حکمران پرویز مشرف کو اس واقعے کی اطلاع کراچی میں دی جا رہی تھی، عین اسی وقت “ایوان ریڈلی” نیویارک جانے کا قصد کر رہی تھیں، لیکن فلائٹ شیڈول میں تبدیلی کی وجہ سے وہ فوراً وہاں نہ جاسکیں۔ ایک دو دن بعد ان کو آفس سے اطلاع ملی کہ اسلام آباد جانے کی تیاری کی جائے۔ کیوں کہ اس پوری کہانی کا “ڈراپ سین” پاکستان اور افغانستان میں ہی ہوگا۔ آپ اسلام آباد پہنچیں، تو یہاں پوری دنیا سے بے شمار جرنلسٹس پہلے ہی پہنچ گئے تھے، جس کی وجہ سے ہوٹلوں میں کمرہ نہیں مل رہا تھا۔ بڑی مشکل سے ایک ہوٹل میں کمرہ ملا اور ساتھ ساتھ ایک گائیڈ بھی، اور پھر یہاں سے ایک ایسی داستان شروع ہوئی جس نے “ایوان” کی کایا پلٹ دی، اور یوں اس زندگی بدل کر رِہ گئی۔
“ایوان ریڈلی” اپنی کتاب “اِن دی ہینڈز آف دی طالبان” میں اپنے پورے سفر کی روداد لکھتی ہیں۔ “ایوان” نے پاکستان پہنچتے ہی افغانستان کے ویزے کے لیے بہت کوشش کی، لیکن ویزہ نہ مل سکا اور یہی وجہ تھی کہ وہ یہاں سے افغانستان بھیس بدل کر ایک مقامی گائیڈ کی رہنمائی میں روانہ ہوئیں۔ پھر وہاں ایسے واقعات پیش آئے جن کی وجہ سے وہ طالبان کے ہاتھوں گرفتار ہوئیں اور دس دن طالبان کی قید میں رہ کر بعد میں جب آزاد ہوئیں، تو انہوں نے مذکورہ کتاب لکھی جس میں اپنی قید کے تمام واقعات قلم بند کیے۔ طالبان کے حوالے سے ان دنوں پوری دنیا میں ایک ہی سوچ کو پروان چڑھایا گیا تھا، کہ یہ انسان نما جانور ہیں، اور ان کے ہاتھوں پوری انسانیت تباہ ہونے جا رہی ہے۔ مذکورہ صحافی اپنی اس کتاب میں پوری تفصیل سے اپنی کیفیات لکھتی ہیں، جن کا ایک ایک لفظ پڑھ کر ایسا لگتا ہے، جیسے پوری کائنات رُک سی گئی ہو، اور نظامِ حیات میں یوں اچانک کچھ بہت ہی بڑی تبدیلی رونما ہونے والی ہو، اور یہی وجہ ہے کہ پڑھتے وقت رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
“ایوان” کو جب گرفتار کیا گیا، تو اس لمحے وہ کانپ رہی تھی، اور طالبان کا ایک ٹولا اس کے گرد موجود تھا، لیکن آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ “میں سنگ سار ہو رہی تھی، یہ یقین تھا مجھے۔ اسی وجہ سے آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے اور یہ دعا بار بار منھ سے نکل رہی تھی کہ کاش پہلا پتھر پڑتے ہی میں مر جاؤں، تاکہ سنگ باری کی اذیت سے نہ گزروں۔ وہ مجھے دیکھ رہے تھے اور کچھ بول نہیں رہے تھے اور یہ وہ لمحات تھے جن کی وجہ سے میں کرب سے گزر رہی تھی۔ ایسے میں اچانک ایک موٹر کار رُکی اور اس سے ایک خاتون نمودار ہوئی جو سیدھا میری جانب لپکی اور پہنچتے ہی میری تلاشی لینے لگی۔ وہ میری تلاشی لے رہی تھی اور طالبان کے فوجی نظریں جھکائے کھڑے رہے۔” اور عین اسی لمحہ میں جو ایک “مہذب قوم” کی بیٹی تھی کو احساس ہوا کہ جن کو پوری دنیا جانور سمجھنے پر تلی ہوئی ہے، وہ جانور نہیں بلکہ حقیقی انسان ہیں اور ایک عورت کی تلاشی لینے کو گناہ سمجھتے ہیں۔
ان دس دنوں میں “ایوان” نے ہر طرح کی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا، لیکن ہر بار طالبان کا رویہ شفقت آمیز رہا۔ وہ لکھتی ہیں: “ملا عمر ایک دن خود قیدخانے تشریف لائے، اور ہاتھ میں تسبیح پکڑے، نظریں جھکائے، انتہائی مہذب انداز میں ترجمان کی وساطت سے مجھ سے گفتگو کی اور مجھے دلاسا دیا کہ آپ کو بہت جلد قید سے آزاد کردیا جائے گا۔”
ایوان لکھتی ہیں: “مَیں نے ایک دفعہ اپنے گندے کپڑے دھوئے اور اپنا زیرِ جامہ باہر جیل کی دیوار پر لٹکایا، جس کی وجہ سے کہرام مچ گیا۔ جیل کے حکام نے مجھے میرا زیرِ جامہ وہاں سے ہٹانے کو کہا۔ مَیں نے صاف انکار کیا اور وجہ پوچھی۔ اس نے نہایت اطمینان سے صاف جواب دیا کہ عورتوں کے کپڑے اور زیرِ جامہ دیکھ کر ہوسکتا ہے کہ طالبان فوجیوں کے ذہن میں خرافات سے بھرے خیالات آجائیں، اس لیے ہٹاؤ ان کو۔ مَیں نے نفی میں سر ہلایا اور بھرپور احتجاج کیا۔ تھوڑی دیر بعد نائب وزیر خارجہ خود آئے اور مجھ سے درخواست کی کہ یہ کپڑے ہٹائیں، کیوں کہ طالبان کی ذہنی کیفیات منفی رجحان حاصل کرسکتی ہیں۔ مَیں حیران تھی کہ یہ کس مٹی کے بنے لوگ ہیں جن پر چند ہی لمحے بعد شاید دنیا کی طاقتور افواج حملہ آور ہوجائیں اور ان کو طالبان کی ذہنیت کی پڑی ہوئی ہے۔”
“ایوان ریڈلی” امریکی اور برطانوی حملے کے دن طالبان کی قید سے آزاد ہوئیں، اور بعد میں پھر طالبان کے رویوں سے متاثر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئیں۔ کہتی ہیں: “شکر ہے کہ مجھے ابوغریب یا گوانتاناموبے جیل میں قید نہیں کیا گیا تھا، ورنہ میری لاش کے ٹکڑے بھی شائد نہ مل پاتے۔”
قارئین، یہ تصویر کا ایک رُخ ہے جس میں مسلمانوں نے ایک غیرمذہب کے ساتھ بہترین سلوک روا رکھا اور جس کی وجہ سے اس کی پوری دنیا ہی بدل گئی۔ آپ کو اگر وقت ملے، تو اس کتاب کا ایک بار مطالعہ ضرور کیجیے۔ اب تصویر کا دوسرا رُخ دیکھتے ہیں، جس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک مسلمان لڑکی امریکہ کے ہاتھ لگتی ہے۔ اس کا قصور کیا تھا؟ اس پر الزام تھا کہ اس نے امریکی فوجی کی بندوق اٹھانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے اس پر گولیاں چلا دی گئیں۔ بغیر کسی تحقیق کے امریکی میڈیا پر اس کے خلاف پروپیگنڈے چلائے گئے، اور اس کا تعلق میڈیا اور ایف بی آئی نے القاعدہ سے جوڑ لیا۔ ڈاکٹر عافیہ کو امریکی حکام نے 2003ء میں اغوا کیا اور بعد میں گرفتار کرکے اس پر مختلف مقدمات چلائے۔ 86 سال کی قید ہوئی۔ تصویر کے اِس رُخ میں ظلم و بربریت کی انتہا ہے۔ بگرام کی امریکی جیل سے ایک قیدی کی رہائی جب ہوئی، تو وہ کہتے ہیں کہ “اس جیل کی کسی کوٹھڑی سے ایک عورت کی اتنی دردناک اور اذیت ناک چیخیں سنائی دیتیں کہ جنہیں سن کر میرا دم گُھٹتا اور خدا کی قسم میں آج تک ہزاروں میل دور رہ کر بھی وہ اذیت ناک چیخیں بھول نہیں پا رہا۔ مَیں آج بھی ان چیخوں کو یاد کرتا ہوں، تو میرے آنسو نکل پڑتے ہیں۔ اس عورت پر اتنے مظالم ڈھائے گئے ہیں کہ اللہ کی پناہ!”
بعد میں یہ ثابت ہوا کہ یہی قیدی نمبر 650 ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہی تھی، جس پر جیل کے اندر گولیاں بھی چلا دی گئیں اور جس کی وجہ سے اس کو شدید چوٹیں بھی آئیں۔ کیا اس تضاد کی کوئی وجہ ہوسکتی ہے کہ جس میں ایک طرف امن و آشتی اور محبت کے پیغامات دیے جائیں اور دوسری طرف نفرت، ہٹ دھرمی اور جنگ و جدل سے ہی کام لیا جائے۔ تصویر کے دونوں رُخ سامنے ہیں۔ آپ اندازہ لگا لیجیے کہ ہمارے سیاست دان پچھلے کئی سالوں سے عافیہ کی قید اور رہائی پر بھی سیاست کا غلیظ کھیل کھیل رہے ہیں۔ دوسرے رُخ میں سب سے بھیانک کردار ہمارے حکمرانوں کا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی درد سے بلک رہی ہے۔ اس کی زندگی میں معصومیت اور لاچارگی کی ہزار داستانیں موجود ہیں۔ کسی کو قید و بند کی صعوبتوں کا اندازہ کیسے ہوسکتا ہے جب زندگی میں ایک بار بھی “باطل” کے ہتھے نہ چڑھا ہو؟ کسی کو یہ اندازہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب زندگی میں ایک بار بھی جھوٹ اور سچ کے درمیان ذاتی مفادات سے ہٹ کر سچ کی بات نہ کی ہو؟ کوئی کیسے اُس درد کا اندازہ لگا سکتا ہے جب ایک بار بھی اپنی پوری زندگی میں ضمیر کا قیدی نہ بنا ہو؟
سوچئے، عافیہ صدیقی کے بارے میں، اس میں بلاشبہ ایک ماں کی بے شمار محبتیں، ایک بہن کی بے شمار چاہتیں اور ایک بیٹی کی ملک و ملت کے لیے لاتعداد ہٹ دھرمیاں موجود ہیں۔ کیا ہم قوم کی اس عظیم بیٹی کے ساتھ ناانصافی نہیں کر رہے جو اس کے ساتھ ترازو کے دوسرے پلڑے میں پاکستانی سیاست دانوں کو تول رہے ہیں؟ کیا ناانصافی نہیں جو ایک طرف ایک انسانی وجود اُمتِ مسلمہ کی خاطر اپنی ہر چیز داؤ پر لگائے اور دوسری طرف نام نہاد سیاست دان ان تمام تکالیف کا کریڈٹ لیں؟ کریڈٹ ہی کی وجہ سے تو سب کچھ داؤ پر لگ چکا ہے، جو باقی بچ گیا ہے، وہ بھی کریڈٹ ہی کی وجہ سے ملیامیٹ ہوجائے (اللہ نہ کرے)۔ 21ویں صدی کے صحرا نشین بننے کی بجائے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہماری بہن اپنے گھر آئے اور بس! پھر یہ سوچنا چاہیے کہ جب وہ آئے گی، تو کیا ہم نظریں ملا پائیں گے؟

…………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے