724 total views, 1 views today

پندرہویں صدی عیسوی میں فرانس کے شہر’’اوٹون‘‘ میں چوہوں کے خلاف ایک مقدمہ چلایا گیا۔ چوہوں پر یہ الزام تھا کہ وہ بڑی کثرت سے خوف ناک شکل میں گلی کوچوں میں جمع ہو جاتے ہیں، جس سے لوگوں کے آرام و سکون میں خلل پڑتا ہے۔ چوہوں کے دفاع کے لیے فرانس کا مشہور وکیل ’’شاسانیہ‘‘ میدان میں آیا اور اس نے عدالت سے وقت مانگا کہ چوں کہ چوہوں کی آبادی زیادہ تر بچوں، بوڑھوں اور بیماروں پر مشتمل ہے، اس لیے اگر عدالت کچھ مہلت دے دے، تو چوہے حاضر ہوسکتے ہیں۔ اس کے باوجود عدالت کے دیے گئے مقررہ وقت پر چوہے پیش نہیں ہوئے، جس پر وکیلِ صفائی نے کہا کہ جنابِ والا اگر چہ چوہے معزز عدالت کے احکام کی تعمیل کرنا چاہتے ہیں، لیکن اگر وہ یہاں آئیں، تو انہیں بلیوں کی جانب سے ایذا رسانی کا خوف ہے۔ چیف جسٹس نے جواباً ریمارکس دیے کہ اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ملزموں کو امن و سلامتی سے عدالت میں حاضر ہونے کے مواقع فراہم کریں۔ وکیلِ صفائی نے درخواست کی کہ عدالت حکم دے کہ جب چوہے عدالت میں حاضری کے لیے آرہے ہوں، تو تمام بلیوں کو بند کر دیا جائے۔ چناں چہ عدالت نے درخواست منظور کرلی اور حکم دیا کہ تمام بلیاں اور کتے عام سڑکوں پر نہ چلیں، تاکہ چوہوں کو عدالت میں حاضر ہوتے وقت کوئی ڈر نہ رہے ، لیکن شہریوں نے ان احکام کی تعمیل نہ کی اور کتوں اور بلیوں کو سڑکوں سے نہ ہٹا سکے۔ نتیجتاً عدالت نے فیصلہ سنایا کہ چوہوں کو بری کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ ہر ایک کو قانوناً اپنی صفائی پیش کرنے کی سہولتیں حاصل ہونی چاہئیں۔ چوں کہ چوہے اس سہولت سے محروم رہے، لہٰذا وہ بری الذمہ ہیں۔
عزیزانِ من! مغربی اقوام میں فرانس وہ پہلا ملک تھا جس نے 13ویں صدی عیسوی میں حیوان کو بھی اپنے کیے کا جواب دہ قرار دیا تھا اور اس پر عدالتوں میں اس طرح مقدمہ چلایا جاتا تھا جس طرح انسان پر چلایا جاتا ہے ۔ اس کے بعد تقریباً 16ویں صدی عیسوی تک بلجیم، ہالینڈ، جرمنی، اٹلی اور سویڈن نے بھی یہی قانون اپنے ہاں جاری کیا۔ بعض اوقات عدالت حیوان کو حوالات بھیج دیتی اور بعض اوقات اس کو سنگسار کرکے مارڈالنے کی غرض سے سزا دی جاتی، یا اس کا سر کاٹ دیا جاتا یا پھر اسے جلا دیا جاتا تھا۔ عدالت کے الفاظ بھی قانون ہی کے مطابق ہوتے تھے کہ’’حیوان کو سزائے موت دی جاتی ہے، تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔‘‘
عزیزانِ من! یہ اس قوم کے تخیلات تھے اور یہ اس کے عقل و شعور کا معیار تھا جسے آج علم و دانش کا پیکر سمجھا جاتا ہے۔ اس قوم کی تہذیب اس وقت بلا شبہ دنیا کی غالب تہذیب ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے لیے دلائل دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ یہ حقیقت تو اندھوں کو بھی نظر آرہی ہے۔ البتہ ایک مسلمان کے لیے یہ بات بسا اوقات الجھن کا باعث بنتی ہے کہ غلبہ تو مسلمانوں کا حق ہے۔ کیوں کہ اسلام اللہ کا سچا دین ہے اور مسلمان اللہ کے ماننے والے ہیں اور اہلِ مغرب، کافر اور اسلام دشمن ہیں۔ اس الجھن کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ اس دنیا میں ترقی کا انحصار اس امر پر نہیں ہے کہ آدمی کا عقیدہ صحیح ہو، اور وہ اللہ اور رسول کو مانتا ہو، بلکہ اس کا انحصار اس امر پر ہے کہ آدمی اسبابِ دنیا فراہم کرنے پر قادر ہوجائے۔ جیسا کہ ایک زمانے تک مسلمان دنیاوی اسباب کے لحاظ سے برتر تھے۔ لہٰذا جو قوم اور تہذیب دوسروں سے بڑھ کر اسبابِ دنیا فراہم کرنے پر قادر ہو، وہی طاقتور اور غالب ہوتی ہے۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ کافر قوم اس طرح کے عارضی غلبہ کے باوجود آخرت کے عذاب سے دوچار ہوگی۔ وہ تہذیبی ترقی اور دنیاوی غلبہ جو مسلمانوں نے پروردگارِ عالم کے مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے حاصل کیا تھا، اسے حاصل کرنے کے لیے اہلِ مغرب نے اپنے مذہب تک کو پسِ پشت ڈال دیا۔ چناں چہ اہلِ مغرب نے بڑی آسانی سے خدا اور مذہب دونوں کو اپنی زندگی سے نکال دیا۔ انہوں نے جو نئے اصولِ زندگی اختیار کیے، وہ یہ تھے کہ انسانوں کی اجتماعی زندگی میں خدا اور مذہب کا کوئی دخل نہیں۔ اگر کوئی اپنی ذاتی زندگی میں خدا اور آخرت کو ماننا چاہے، تو مان لے، عوام کے نمائندے پارلیمنٹ میں جو قانون چاہیں، بنالیں اور جس فعل کو چاہیں حلال یا حرام قرار دے لیں۔ ریاست کی بنیاد اس نظمِ اجتماعی پر ہے جس کی بنیاد رنگ، نسل، زبان اور علاقے کے اشتراک جیسے اصولوں پر ہو۔ ہر فرد کو سرمایہ بڑھانے کی لامحدود آزادی حاصل ہے اور معاشرتی زندگی میں جنسی اباحیت اور عورتوں کی مادر پدر آزادی وغیرہ۔ یہ اصول اہلِ مغرب کا نظریۂ حیات ہیں اور اہلِ مغرب پوری شدت سے ان اصولوں پر عمل کررہے ہیں۔ اگر چہ اخلاقی لحاظ سے پورے کے پورے گر گئے ہیں، لیکن یہی اصول ان کی دنیا بھی تعمیر کررہے ہیں، یہی چیز ان کو قوتِ عمل بھی مہیا کرتی اور ان کو مسلسل محنت پر بھی اکساتی ہے۔ آپ امریکہ اور یورپ میں کہیں بھی چلے جائیں، کام کے اوقات میں ہر آدمی آپ کو اپنے کام میں جتا نظر آئے گا۔ کاہلی اور کام چوری کا وہاں کوئی تصور نہیں۔ اہلِ مغرب کی ترقی کا دوسرا راز ان کے اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ یورپ، امریکہ، آسٹریلیا سب کو مغربی فکر و تہذیب متحد کیے ہوئے ہے۔
تیسری بات جو مغربی اقوام کی ترقی کا سبب ہے وہ ان کی تنظیم ومنصوبہ بندی ہے۔ 1973ء میں شاہ فیصل نے مغربی قوموں کی زیادتیوں کے مقابلے میں تیل کا ہتھیار استعمال کیا جس پر اہلِ مغرب نے ایسی منصوبہ بندی کی کہ آئندہ کوئی مسلمان مغرب کے خلاف تیل کا ہتھیار استعمال نہ کرسکے۔ چناں چہ شاہ فیصل کو قتل کیا گیا۔ عراق اور کویت کو سازش سے لڑا کر امریکہ نے یورپی اتحادیوں کی مدد سے سعودی عرب اور خلیج کے تیل پر قبضہ کرلیا اور اپنی فوجیں وہاں پر اتاردیں۔
اہلِ مغرب کا چوتھا اصول حیات یہ ہے کہ جو بھی قواعد و ضوابط بنائے گئے ہیں، ان پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں ٹیکس چوری کوئی نہیں کرتا۔ رشوت دے کر قانون سے کوئی نہیں کھیلتا۔ یہاں تک کہ ٹریفک قوانین کی بھی خلاف ورزی نہیں کی جاتی۔
پانچواں اصول جو اہلِ مغرب کی بقا کا ضامن ہے، وہ ان کا ایثار و قربانی ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ، فرانس اور امریکہ نے کھربوں ڈالر اور کروڑوں انسانی جانوں کی قربانی دی۔ کمیونزم کے خلاف سرد اور گرم جنگ کو امریکہ اور یورپ نے ذاتی جنگ کے طور پر لڑا۔ افغانستان اور عراق میں امریکہ اور اتحادیوں کے کھربوں ڈالر خرچ ہوئے اور ہزاروں فوجی مارے گئے لیکن پھر بھی امریکی رائے عامہ اپنی حکومت کے لیے ہموار ہے۔
آپ یہودیوں کو لیجیے جو دنیا کی ایک چھوٹی سی کمیونٹی ہیں، لیکن اسرائیل کو قائم رکھنے کے لیے ہر یہودی باقاعدگی سے اپنی آمدنی کا 10 فیصد اسرائیل کو دیتا ہے۔ اسرائیل کو ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ صرف امریکی یہودیوں کے ہاں سے آتے ہیں۔
تعلیم کے لحاظ سے بھی اہلِ مغرب آگے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں تعلیم کی شرح 99 فیصد ہے۔ صرف امریکہ میں چار ہزار یونیورسٹیاں ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ برطانیہ تعلیم پر 5 فیصد، فرانس 11 فیصد اور جرمنی 9.5 فیصد اپنے بجٹ سے خرچ کرتے ہیں۔ امریکہ کا تو ایک یونیورسٹی کا بجٹ سارے پاکستان کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ تحقیق امریکہ میں ہورہی ہے۔ امریکہ اپنی کل آمدنی کا 2.8 فیصد ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر خرچ کرتا ہے۔ اس کے بعد سب سے زیادہ تحقیق یورپ میں ہوتی ہے۔
مغرب میں سیاسی نظام بھی مستحکم ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں دو جماعتی نظام آسانی سے چل رہا ہے۔ کسی فوجی جرنیل کی ہمت نہیں کہ سیاسی نظام کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے۔ 1787ء میں امریکی آئین بنا تھا اور آج تک اس میں صرف 27 ترامیم ہوئی ہیں۔ مغرب کا میڈیا اتنا تیز ہے کہ جھوٹ کو سچ پیش کرکے اسے سچ ثابت کر بھی سکتا ہے۔ جن لوگوں کو اس نے مجاہد کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، جب مفاد بدلا تو انہی لوگوں کو دہشت گرد بھی ثابت کیا۔ مغرب کی معاشی برتری کی وجہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے بنا مشینی انقلاب ہے، جس نے صنعتی انقلاب برپا کرکے پیداوار کو کثرت اور منڈیوں کو وسعت دی۔
عزیزانِ من! یہ وہ چند اصول ہیں جن پر اہلِ مغرب عمل کرکے بامِ عروج تک پہنچے ہیں، ورنہ ان کی تہذیب کاتو یہ عالم تھا کہ حیوانات بھی ان کے ہاں جواب دہ تھے اور مسلمان جو تہذیب کے لحاظ سے برتر قوم تھے، آج قرآن وسنت کے بتائے ہوئے اصولوں کو ترک کر کے زوال کا شکار ہو رہے ہیں۔
آخر میں میری گزارش ہے کہ اس ملک کے اعلیٰ عدلیہ کو چاہیے کہ پرویز مشرف کو ان کے کیسز سے بری کردیا جائے۔ کیوں کہ فرانس کی عدالت چوہوں کو امن دیتی ہے، پھر بھی جب چوہے پیش نہیں ہوتے، تو چیف جسٹس انہیں بری کردیتے ہیں۔ ہمارے سابق چیف جسٹس نے بھی پرویز مشرف کو امن کی ضمانت دی تھی، لیکن پھر بھی وہ پیش نہیں ہوئے۔ لہٰذا جب فرانس کی عدالت سے چوہے بری ہوسکتے ہیں، تو یہاں پرویز مشرف کو چوہا سمجھ کربری کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔