593 total views, 1 views today

سوات کی بے پناہ خوب صورتی میں اگر ایک طرف یہاں کا صاف و شفاف پانی کار فرما ہے، تو دوسری جانب اس کا حسن دوبالا کرنے میں یہاں کے بلند و بالا برف پوش پہاڑوں کی موجودگی بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ کیوں کہ ان پہاڑوں پر سردیوں میں برف پڑتی ہے اور وہ گرمیوں میں پگھل کر دریا، ندی اور نالوں کی صورت میں پوری وادئی سوات کو سرسبز و شاداب بناتی ہے۔ یہی برف پگھل کر چشموں، جھرنوں اور آبشاروں کی صورت میں سوات کے حسن اور رعنائی کو سُرور افزا اور دل پذیر بناتی ہے۔ اس طرح سوات کا موسم اگر معتدل، صحت بخش اور خوشگوار ہے، تو وہ یہاں کے سرسبز پہاڑوں اور سر بہ فلک چوٹیوں کی بدولت ہے۔
وادئی سوات کے چاروں جانب اُونچے اُونچے پہاڑوں کے طویل سلسلے ہیں۔ اس کے شمالی اطراف کے پہاڑ بہت بلند ہیں۔ ان میں بیشتر پہاڑ سال بھر برف سے ڈھکے رہتے ہیں۔ سوات کے مشرق کی طرف بھی پہاڑوں کے طویل سلسلے پھیلے ہوئے ہیں۔ سوات کے مغربی پہاڑ بھی بہت بلند و بالا ہیں جو ضلع سوات اور دیر کے درمیان حدبندی کا کام دیتے ہیں۔ ان پہاڑوں میں جا بہ جا خوب صورت درّے ہیں جن پر لوگوں کی پیدل آمد و رفت جاری رہتی ہے۔ ان پہاڑوں میں گھنے جنگلات بھی ہیں جن کی لکڑی بہت مضبوط، قیمتی اور کار آمد ہے۔ ان پہاڑی سلسلوں میں بہت سے آبشار، چشمے اور جھیلیں ہیں جن کی وجہ سے وادئی سوات سیاحوں کی جنت کہلاتی ہے۔
وادئی سوات کے چند مشہور پہاڑ یہ ہیں:
ایلم: یہ پہاڑ سطحِ سمندر سے 9250 فٹ بلند ہے۔ جو ضلع بونیر اور سوات کے درمیان حدِ فاصل کا کام دیتا ہے۔ سوات میں سب سے زیادہ سرسبز یہی پہاڑ ہے۔ رام تخت اس پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے جو ہندوؤں کی ایک عبادت گاہ (تیرتھ) ہے۔ جس کی زیارت کے لیے متحدہ ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے ہندو یاتری آیا کرتے تھے۔
دوہ سرے: یہ پہاڑ سطحِ سمندر سے 10 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ پہاڑ بھی ایلم کی طرح زرخیز ہے جو “ایلم” سے ملحق سوات اور ضلع بونیر کے درمیان واقع ہے۔ دوہ سری بانڈہ اس پہاڑ کا درہ ہے جس پر مخوزی اور سوات کے لوگ آتے جاتے ہیں۔
فلک سیر: فلک سیر سوات کے شمالی پہاڑوں کے سلسلے کالام میں واقع ہے۔ اس کی بلندی قریباً 20 ہزار فٹ ہے۔ اس کا قدیم نام پالا سر بتایا جاتا ہے۔
مانکیال (مانڑکیال): سوات کوہستان میں یہ ایک مشہور پہاڑ ہے۔ جو وادئی بحرین میں واقع ہے۔ یہ پہاڑ سطحِ سمندر سے 18750 فٹ بلند ہے۔ قدرتی مناظر اور خوب صورتی کے لحاظ سے یہ سوات کا حسین ترین پہاڑ ہے۔ یہاں مرغِ زرّیں کے علاوہ دوسرے پہاڑی مرغ بھی پائے جاتے ہیں جو حسن اور دلکشی میں لاثانی ہیں۔ اس کی چوٹی ہمیشہ برف کی سپید چادر سے ڈھکی رہتی ہے۔
کڑاکڑ: یہ سوات اور ضلع بونیر (اباخیل اور سالارزی) کے درمیان واقع ہے۔ اس کی چوٹی سطح سمندر سے 4500 فٹ بلند ہے۔ اس کے درّہ میں ایک پختہ سڑک بنائی گئی ہے جس کے پیچ و خم ہر سیاح کی توجہ اپنی طرف مبذول کروالیتے ہیں۔ یہ سڑک سوات اور بونیر کو ملاتی ہے۔ اس پہاڑ کی برف پوش چوٹی پشاور سے باہر ترناب فارم کے قریب سے بھی نظر آتی ہے۔
جواڑے: یہ ضلع بونیر میں سطح سمندر سے7 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ بابوزو اور گوکند درّہ کے درمیان اس کے اُوپر راستہ چلا گیا ہے۔ پیدل آمد و رفت کے لیے یہ موزوں راستہ ہے۔
کلیل کنڈؤ: یہ بھی سطح سے 7 ہزار فٹ کی اُونچائی پر واقع ہے۔ بابوزو اور گوکند درہ (بونیر) کے درمیان اس کے اُوپر راستہ گیا ہے۔ پیدل آمد و رفت کے لیے یہ بہت آسان راستہ ہے۔
گاڈوا: یہ سوات اور غوربند کے درمیان واقع ہے۔
گنہگار: یہ پہاڑ ضلع سوات اور دیر کے درمیان سطح سمندر سے 15 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس پہاڑ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہاں سبز، سرخ، سفید اور دیگر کئی رنگوں کی برف نظر آتی ہے جو سیاحوں کے لیے یقینا باعثِ حیرت و دلچسپی ہے۔ اگرچہ عام طور پر برف سپید رنگ کی ہوتی ہے لیکن یہاں چوں کہ ہمیشہ برف جمی رہتی ہے اور بہت کم پگھلتی ہے، اس لیے اس کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔ یہ دلکش پہاڑ سارا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں مشہور ہے کہ قدیم زمانے میں اس سے ایک بزرگ نے پتھر مانگے تھے، تاکہ وہ انہیں تعمیراتی کام میں استعمال کر سکیں، لیکن اس پہاڑ نے دینے سے انکار کیا تھا جس کی پاداش میں بزرگ نے اُسے بددُعا دی اور اس وجہ سے یہ پہاڑ ہمیشہ برف کی سپید چادر اُوڑھے رہتا ہے۔
کروڑہ: یہ لیلونئی کے قریب واقع ہے جو پہاڑوں سے گرا ہوا ایک تنگ درّہ (وادی) ہے۔ یہ منگورہ اور لیلونئی (ضلع شانگلہ) کے مابین رابطے کا راستہ بھی ہے جو کہیں کچی اور کہیں پختہ سڑک کے ذریعے سوات کے مرکزی شہر منگورہ سے ملا ہوا ہے۔
شلخو: سوات اور کانڑا (داموڑئی) کے درمیان یہ ایک چوٹی ہے جس پر پیدل راستہ بھی موجود ہے۔ شلخی سر، یخ تنگی کے قریب غوربند اور پورن کے درمیان واقع ہے۔
داموڑئی: یہ ضلع شانگلہ میں اُونچے پہاڑوں کے درمیان ایک خوب صورت درّہ ہے جس کی بیچوں بیچ ایک ندی بہ رہی ہے۔ یہاں کافی لوگ آباد ہیں۔ یہ منگورہ سے ایک نیم پختہ سڑک کے ذریعے ملا ہوا ہے۔ اس سے آگے ایک سڑک اُولندھر اور دوسری سڑک چکیسر تک چلی گئی ہے۔
جبے سر: یہ متوڑیزی (چارباغ) اور غوربند الپورئی کے درمیان واقع ہے جو سطح سمندر سے 9 ہزار فٹ بلند ہے۔ اس کی چوٹی پر ایک سرسبز میدان ہے جو سیاحوں کے لیے غیر معمولی دل کشی کا باعث ہے۔
درال بانڈہ: یہ 10 ہزار فٹ کی بلندی پر پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع میدان ہے۔ جس میں قدرتی جھیلیں ہیں۔ یہاں کا پانی بہت ٹھنڈا، شیریں، ہاضم اور قدرتی دوا کا سا اثر رکھتا ہے۔
چکیل سر: 12 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ایک پہاڑی بانڈہ (دیہات) ہے۔ جو بہت خوب صورت اور سیر و سیاحت کی بہترین جگہ ہے، تاہم اس درہ نما بانڈہ میں سیاحوں کے لیے سہولتوں کا فقدان ہے۔
قادر سر: بہا، فاضل بانڈہ اور نیک پی خیل کے درمیان ایک مشہور چوٹی ہے۔ تاریخی لحاظ سے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ کیوں کہ دیر اور سوات کے مابین لڑائیوں میں اس کی حیثیت محاذِ جنگ کی سی ہوا کرتی تھی۔
ڈوما: مداخیل اور اور سورے امازی (چملہ، بونیر) کی حدود میں واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈوما کافر کے دورِ حکومت میں اس چوٹی کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی، جس کو تین سو سال قبل باکو خان نے شکست دی تھی۔
پیرسر: چکیسر (ضلع شانگلہ) کی بلند تاریخی چوٹی ہے اور سکندرِ اعظم کی وجہ سے شہرت کی حامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پیرسر کی بلند چوٹی پر اس وقت کے مشہور راجہ اُرنس کا مضبوط قلعہ تھا جس کو فتح کرنے کے لیے سکندرِ اعظم نے اس پر حملہ کیا تھا۔ (فضل ربی راہیؔ کی کتاب “سوات سیاحوں کی جنت” سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے