179 total views, 1 views today

چاپلوسی، خوشامد اور شخصیت پرستی بہت بری عادتیں ہیں، جو انسان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتی ہیں اور انسان کو حقیقت سے کوسوں دور کر دیتی ہیں۔خو شامد کے بارے میں حضرت ہمامؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عثمانؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے ان کی خوشامد کرنے لگا، تو حضرت مقدار بن الاسودؓ نے مٹی لے کر اس کے چہرے پر مل دی اور کہا کہ حضورؐ نے ارشاد فریا ہے: “جب تم خوشامد کرنے والے لوگوں سے ملو، تو ان کے چہرے پر مٹی ڈال دو۔” خوشامد کے بارے میں قرآنِ کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: “جو لوگ اپنے نا پسند کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور(پسندیدہ کام) جو وہ کرتے نہیں، ان کے لیے چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے، ان کی نسبت یہ خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے رستگار ہو جائیں گے، انھیں درد دینے والا عذاب ہوگا۔” (آلِ عمران، آیت 188)
خوشامد، چاپلوسی یا شخصیت پرستی کا عنصر ہر کسی میں پایا جاتا ہے اور نہ یہ ہر کسی کے کام ہے۔ اس کے لیے ضمیر کو تھپکی دے کر سلانا پڑتا ہے۔ اس صفت کے حامل لوگ ہر دور میں پیدا ہوتے ہیں۔ کسی زمانے میں بادشاہوں کے درباروں میں ابوالفضل اور ابوالحسن فیضی جیسے چاپلوس موجود ہوتے تھے، جو کسی دوسرے کو دربار میں ٹکنے نہیں دیتے تھے اور ان کے مشوروں اور سفارش کے بغیر کسی کام کا ہونا ناممکن ہوتا تھا۔ برصغیر عرصۂ دراز سے بادشاہوں اور برطانوی سامراج کے زیرِ تسلط رہا ہے۔ لہٰذ ا ان میں غلامانہ اور خوشامدانہ خصوصیات پیدا ہونا کوئی انہونی نہیں۔ شخصیت پرستی کے بارے میں ایک مفکر نے کہا ہے: “شخصیت پرستی، بت پرستی سے زیادہ خطرناک ہے۔ کیوں کہ بت کا تو دماغ نہیں ہوتا، جو خراب ہو جائے لیکن جب انسان کی پوجا اور خوشامد کی جائے، تو وہ فرعون بن جاتا ہے۔” پاکستان میں خوشامد یا چاپلوسی کی یہ مہلک بیماری ہمارے ہاں زندگی کے ہر شعبہ میں پائی جاتی ہے، اور اقتدار کی شمع جہاں کہیں بھی فروزاں ہو، تو اس کی کشش خود غرض پروانوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے۔ پاکستان میں جائز تعریف سے گریز کیا جاتا ہے، لیکن خوشامد میں پاکستان پوری دنیا میں آگے ہے۔ ویسے تو یہاں خوشامد کی ڈھیر ساری کہانیاں مشہور ہیں، لیکن میں یہاں اک آدھ کا ہی ذکر کرنا چاہوں گا۔ ’’دروغ بر گردنِ راوی!‘‘
بھٹو کا زمانہ تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی فیصل آباد کے ایک سینئر رہنما ریلی سے جوشِ خطابت میں کچھ زیادہ ہی کہہ گئے: “بھٹو سورج، عوام اس کی روشنی، بھٹو چاند، عوام اس کی کرنیں، بھٹو پھول عوام اس کی خوشبو!” ساتھ کھڑے ایک نظریاتی کارکن نے نعرہ لگایا: “بھٹو دیگ اور ہم اس کے چمچے!” تو خطاب کرنے والے لیڈر نے کہا: “تم نے میرے من کی بات کہہ دی، مَیں بھی یہی کہنے والا تھا!”
مسلم لیگ نون کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک دفعہ دو ممبرانِ اسمبلی اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد نواز شریف کے ساتھ چائے کی پیالی پر کھیت سے منڈی تک جانے والی سڑک کے حوالہ سے بات کر رہے تھے، جس پر نواز شریف کو بہت فخر تھا۔ ایک ممبر نے میاں نواز شریف کی خواہش کے مطابق کہا: “سر! آپ کے دورِ حکومت میں پنجاب میں اتنے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے ہیں کہ شیر شاہ سوری کے بعد اب تک نہ ہوئے ہوں گے۔” میاں نواز شریف نے خوش ہوتے ہوئے دوسرے ممبر کی طرف دیکھ کر کہا: “آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟” دوسرے ممبر نے بنا سوچے سمجھے کہا، سر! اُس نے بڑی بیوقوفانہ بات کی ہے۔ کہاں آپ کی شاندار کارگردگی اور کہاں شیر شاہ سوری! مجھے کہنے کی اجازت دیجیے کہ طوفانِ نوح کے بعد اگر پنجاب میں ترقی ہوئی ہے، تو آپ ہی کے دور میں ہوئی ہے۔ نواز شریف کھل کر ہنسے اور ممبر اسمبلی سے کہا: “آپ نے میچ جیت ہی لیا۔”
قارئین، شخصیت پرستی اور خوشامد یا چاپلوسی میں پاکستان تحریک انصاف ان دونوں جماعتوں سے کسی صورت پیچھے نہیں۔ جب پلوامہ حملے کو جواز بنا کر مودی سرکار نے پاکستان کو سبق سکھانے کی خاطر سرجیکل سٹرائیک کا ڈراما رچایا۔ انڈین ائیر فورس کے جنگی ہوائی جہاز خیبر پختونخوا کے علاقہ “جبہ” کے جنگل میں بم گرا کر واپس بھاگ گئے، تو دوسرے دن پاکستان کے جنگی ہوائی جہازوں نے پیغام دینے کے لیے حقیقی سرجیکل سٹرائیک کے بعد انڈین ائیر فورس کے دو جنگی طیارے مار گرائے، جن سے ایک پائلٹ بھی زندہ گرفتار ہوا۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے جذبۂ خیر سگالی کے طور پر دوسرے دن گرفتار پائلٹ ونگ کمانڈر “ابھے نندن” کو رہا کرنے کا اعلان کیا۔ بظاہر تو یہ کوئی انہونی بات نہ تھی۔ کیوں کہ جنگوں میں فوجی مارے جاتے ہیں، جنگی طیارے مار گرائے جاتے ہیں، گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں اور گرفتار شدگان کو بعد میں رہا بھی کیا جاتا ہے۔ کارگل کی جنگ میں گرفتار پائلٹ کو بھی تو رہا کیا گیا تھا، مگر تحریکِ انصاف کے ممبرانِ اسمبلی اور حکومتی ارکان نے خوشامدی و چاپلوسی کی انتہا کرتے ہوئے یہ بچکانہ حرکت کی کہ عمران خان کو “نوبل انعام کا مستحق” قرار دیا، اور قومی اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ عمران خان نے شخصیت پرستوں اور خوشامدیوں کی ایک نہ سنتے ہوئے بیان دیا کہ نوبل انعام کا حق دار میں نہیں بلکہ وہ ہوگا جو کشمیرکا مسئلہ کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق حل کرے گا۔ نوبل انعام اگرچہ تمام تر تحفظات کے باوجود عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایوارڈ ہے، جو زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں کارکردگی اور انقلابی کارنامہ سرانجام دینے پر دیا جاتا ہے، جس کے لیے کسی پارلیمانی پارٹی، حکومت یا عوام کی سفارش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس سے پہلے عیسائی رہنما جے اے سالک اور سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی کے لیے یہ کوشش کی گی تھی، لیکن ان میں کسی کو بھی یہ انعام نہیں ملا۔ اگرچہ ایدھی میرٹ پو پورا اترتے تھے۔ 1980ء میں عرب اسرائیل تنازعہ کے تناظر میں مصری صدر انور سادات، پی ایل او کے رہنما یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر اعظم نہوت بیگن کو مشتر کہ طور پر یہ انعام دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے نوبل انعام دینے والی کمیٹی پر یہ الزام لگا کہ اس ایوارڈ کے لیے اُنہی اشخاص کو نامزد کیا جاتا ہے جن کی وجہ سے مغربی پالیسیاں آگے بڑھنے کی امید ہو۔ ملالہ یوسف زئی کو ملنے والے نوبل انعام پر بھی پاکستان میں یہ تأثر پایا جاتا ہے کہ ملالہ کے نام پر اس کے والد ضیاء الدین یوسف زئی، طالبان کے خلاف اور خواتین کی تعلیم کے حق میں ڈائریاں لکھتے اور عبدالحئی کاکڑ کی بھرپور مدد سے “بی بی سی” سے نشر کرواتے۔ ایسا مغربی پالیسی کے مطابق کیا گیا۔
خیر، اگر حکومتی ارکان کی خواہش کے مطابق عمران خان کو نوبل انعام مل بھی جاتا ہے، تو اُس کی پوزیشن مزید کمزور ہو جائے گی۔ کیوں کہ اپوزیشن پارٹیاں عمران کے وزیر اعظم بننے کے عمل کو خلائی مخلوق اور عالمی سازش کا حصہ قرار دے رہی ہیں۔ اب اگر ایسے میں وزیر اعظم کو نوبل انعام ملتا ہے، تو…… آپ سمجھدار ہیں کہ اس سے کیا طوفان کھڑا ہوسکتا ہے!

……………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے