373 total views, 3 views today

مسلم لیگ نون کے سابق صدر میاں محمد نواز شریف، موجود صدر میاں شہبار شریف، مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنماسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر رہنماؤں کو مقدمات کا سامنا ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو بعض مقدمات میں سزا بھی ہوئی ہے، جب کہ بعض مقدمات زیر سماعت ہیں۔ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نیب کی تحویل میں ہیں۔ ان پر کرپشن، اختیارات کا ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین الزامات پر شد و مد کے ساتھ تحقیقات ہو رہی ہیں۔ اس وجہ سے مسلم لیگ نون شور مچار رہی ہے کہ ایک پارٹی کا احتساب کیوں؟ نیب نے جن الزامات میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو گرفتار کیا ہے، تو اس نوع کے الزامات برسرِاقتدار پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے بعض سینئر مرکزی رہنماؤں پر بھی ہیں۔ انھیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟ ان کا احتساب کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس لیے مسلم لیگ نون احتسابی عمل کو مشکوک اور انتقامی کارروائی سمجھتی ہے۔ حالاں کہ یہ مقدمات تحریک انصاف نہیں بلکہ پی پی پی اور مسلم لیگ نون نے ایک دوسرے کے خلاف بنائے تھے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ جس نے بھی قوم کی دولت لوٹی ہے، ان سب کا احتساب ضرور ہوگا۔ ان میں کسی سے بھی رعایت نہیں برتی جائے گی اور قومی خزانہ لوٹنے والوں سے پائی پائی وصول کی جائے گی۔ اب تیسرا این ار اُو نہیں ہوگا۔ اگر ایک این ار اُو کے بعد دوسرا این ار اُو نہ کیا جاتا، تو قومی خزانہ کو اس طرح بے دردی سے نہ لوٹا جاتا۔
جس طرح اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف گرفتار ہوئے، ٹھیک اسی طرح گذشتہ دنوں نیب نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور پنجاب کے سینئر وزیر کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ لاہور نیب دفتر اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات میں بیان ریکارڈ کرانے گئے تھے۔ نیب کا کہنا ہے کہ علیم خان لاہور میں خریدی گئی ایک ہزار پانچ سوکنال اراضی کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے۔ اس لیے انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔ علیم خان نے گرفتاری کے فوراً بعد وزارت سے استعفا دیتے ہوئے الزامات کا عدالتوں میں سامنا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کی گرفتاری کا طریقۂ کار اور ٹائمنگ ایسی ہے کہ جسے پورے ملک میں دھماکا خیز اقدامات کے طور پر محسوس کیا گیا۔ علیم خان کی گرفتاری کے ملک میں بڑے چرچے ہیں اوراس پر سازشی نظریے سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ادارہ نیب ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتا ہے۔ ایک یہ کہ تحریک انصاف کے اس قدر اہم رکن پر ہاتھ ڈال کر نیب یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کسی کا طرف دار نہیں۔ دوسرا یہ کہ چار سال قابل ایل این جی کی خریداری کے بارے میں سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی متوقع گرفتاری اور پہلے سے گرفتار اپوزیشن لیڈر اورمسلم لیگی صدر میاں شہباز شریف کی گرفتاری سے ایک توازن قائم رکھنا ہے جب کہ تیسرا مقصد یہ ہے کہ آخر انھیں کلین چٹ دے کر وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کے لیے موزوں ٹھہرایا جائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ کا بھی یہ کہنا ہے کہ علیم خان کی گرفتاری دکھاوا اور اپوزیشن رہنماؤں کے احتساب کو بیلنس کرنے کی کوشش ہے۔ کچھ لوگ یہ سازشی نظریہ پیش کرتے ہیں کہ علیم خان وزارتِ اعلیٰ پنجاب کے عہدے کے خواہش مند تھے، لیکن نیب میں ان کے خلاف جاری تحقیقات ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ اس لیے عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیا۔ اب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی سے ناخوش اسٹبلشمنٹ کے اشیر باد سے علیم خان کو گرفتار کیا گیا ہے، تاکہ انھیں آبِ زم زم سے نہلا کر پاک وصاف کر کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے قابل بنایا جائے۔
بعض تجزیہ نگار یہ کہتے ہیں کہ علیم خان کی دولت کے ذرائع کے بارے میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کاازخود نوٹس اور اثاثوں کی غلط نشان دہی پر جرمانہ عائد کرکے منی ٹریل کی تلاش ترک کر دینا بھی سازشی نظریہ کا حصہ ہے۔ اس سازشی نظریے کا اثر سب سے زیادہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پر پڑا، جو کئی سالوں سے پی ٹی آئی پارٹی فنڈز کے حصول، خرچ اور عمران خان کی جانب سے اثاثوں کی غلط نشان دہی جیسے الزامات کے بارے میں مقدمات کی سماعت کررہا ہے، اور اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے، تو عمران خان الیکشن کے لیے نااہل قرار پائیں گے۔ جب کہ چیف جسٹس کی طرف سے بنی گالہ میں تین سو کنال اراضی پر محیط رہائش گاہ کی زمین ریگولرائز کرانے کی اجازت بھی سازشی نظریہ کے زمرے میں آتی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشیداور دیگر کو ڈیل یاڈھیل کی سازش نظر آ رہی ہے، جس پر شیخ رشید پاکستان تحریک انصاف سے ناراض لگ رہے ہیں۔ چوں کہ سندھ میں پی پی پی کے بڑوں کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور ان پر بھی ہاتھ ڈالے جانے کا خدشہ ہے، اس لیے وہ ڈیل یا ڈھیل پر محتاط انداز میں بات کررہے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ ڈیل ہو یا ڈھیل، دونوں صورتوں میں پیپلز پارٹی کے لیے صورتحال فائدہ مند بات ہوگی، جس طرح سابق صدر جنرل (ر) مشرف نے بے نظیر بھٹو سے ڈیل کی، تواس کے نتیجہ میں میاں نواز شریف بھی جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آگئے۔ اس طرح پیپلز پارٹی بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکتی ہے۔ حالاں کہ وزیر اعظم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ڈیل ہوگی اور نہ ڈھیل، ملک لوٹنے والوں کا بہر صورت احتساب ہوگا۔

………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے