539 total views, 1 views today

پی ٹی ایم علاقائی تنظیم ہے اور نہ صرف فاٹا تک ہی محدود ہے، اب یہ تمام پختونوں کی نمائندہ تحریک ہے، جس میں شمالی اور جنوبی پختونخواہ کے تمام پختون علاقے شامل ہیں۔ اس لیے خیال رہے کہ پی ٹی ایم کو حکومت سے مذاکرات کرتے وقت ان علاقوں کے عوام کے دیرینہ مسائل کو بھی شامل کرکے حالات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ تاکہ یہ تحریک بداعتمادی اور بدنامی سے بچ سکے۔ حال ہی میں گورنر خیبر پختونخوا، کور کمانڈر، اعلیٰ حکام، قبائلی اراکینِ پارلیمنٹ اور دیگر اراکین پر مشتمل اجلاس ہوا، جس میں قبائلی اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی سرپرستی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ صاحب نے اس موقع پر کہا کہ "مجھے مکمل اختیارات حاصل ہیں اور کوئی مجھے گائیڈ لائن نہیں دے رہا۔ مَیں وزیر اعظم عمران خان کی مشاورت سے فیصلے کرتا ہوں۔”
مذکورہ اجلاس میں محسن داوڑ اور علی وزیر کو بھی مدعو کیا گیا تھا، تاہم وہ نہیں آئے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ مذکورہ کمیٹی کو مکمل طور پر بااختیار بنایا گیا ہے۔ مذاکرات سے پہلے پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو یہ سوچنا ہوگا کہ جتنے بھی پی ٹی ایم کے فعال کارکنان پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، یا جن کو بھی نامعلوم مقامات پر بند کیا گیا ہے، ان کی فوری رہائی کی بابت اقدامات کرنے چاہئیں۔
قارئین، مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے۔ تاہم مذاکرات کے جتنے بھی دور ہوں، ان میں پہلے مذکورہ مطالبات رکھنا ہوں گے۔ اس کے بعد پی ٹی ایم کے بنیادی مطالبات کو حکومتی کمیٹی سے تسلیم کروا کر بعد ازاں مزید علاقوں کے دیرینہ مطالبات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا ہے۔
یاد ر ہے کہ پی ٹی ایم کے حکومتی جرگہ کے ساتھ مذاکرات کے پہلے بھی کئی دور ہو چکے ہیں، جو کہ بدقسمتی سے کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ مذکورہ مذاکرات کا پہلا نکتہ احتجاج کے دوران میں پکڑے گئے تمام مظاہرین کی رہائی اور دوسرا نکتہ  پی ٹی ایم کے رزمک جلسے کا التوا پذیر ہونا تھا۔ تاہم 22 جون 2018ء کو مزید مذاکرات کی دعوت دی گئی، مگر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ جرگہ کا بااختیار نہ ہونا تھی۔
ہم تھوڑا سا تاریخ کی جانب اگر دیکھیں، تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ 2009ء میں تحریک طالبان کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی نے جو امن مذاکرات کیے تھے، سوال یہ ہے کہ کیا وہ کامیاب ہوئے تھے؟ اور اس کے بعد ریاست نے غیر ریاستی عناصرکے ساتھ کیا عمل کیا تھا؟ کیا ہم آج تک اس کا خمیازہ نہیں بھگت رہے؟
قارئین، اس کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ہم پی ٹی ایم کے اسلام آباد دھرنے کے نتیجے میں وفاق کے ساتھ "کامیاب مذاکرات” کا حال بھی دیکھ چکے ہیں۔ مذاکرات میں امیر مقام، وزیرِ اعظم خاقان عباسی نے وعدہ بلکہ گارنٹی دی تھی کہ پی ٹی ایم کے تمام مطالبات کو مانا جائے گا۔ پچھلی وفاقی حکومت اور دیگر پارٹیوں کے سرکردہ راہنماؤں بشمول حکومتی پارٹی نے یہ تسلیم کیا تھا کہ پی ٹی ایم کے تمام مطالبات قانونی اور آئینی فریم ورک کے اندر ہیں اور پی ٹی ایم کے مجوزہ طور پر تمام تر جائز مطالبات کو حل کیا جائے گا، لیکن پھر کیا ہوا؟ آپ سب نے وہ دیکھا، کہ مطالبات پورے کرنا تو درکنار الٹا پی ٹی ایم کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی۔ چاہے وہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بلیک آوٹ ہو، یا سوشل میڈیا ہو، ہر جگہ پی ٹی ایم کے جائز مطالبات کا تمسخر اڑایا گیا۔ پی ٹی ایم کو دبانے کے لیے دوسری تحاریک شروع کی گئیں، تاکہ کسی طرح پی ٹی ایم کا زور توڑا جاسکے۔ پکڑ دھکڑ کے علاوہ جلسوں میں رکاؤٹیں ڈالی گئیں۔ پی ٹی ایم کے سپورٹرز کی منفی پروفائلنگ روز کا معمول بن گئی۔ سرکردہ لیڈر شپ کو ہراساں کیا جانے لگا۔ ان پر فائرنگ کے واقعات سامنے آئے اور اس طرح کئی ایک کو شہید کیا گیا، بیسیوں افراد کو زخمی کیا گیا۔ مذکورہ مذاکرات میں وفاقی حکومتی اراکین اور ریاستی اداروں کے سرکردہ راہنماؤں کا نہ ہونا شک کو یقین میں بدل دیتا ہے۔ یہ دیکھنے کے قابل ہوگا کہ اب ریاست اور پی ٹی ایم کے مابین آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟
قارئین، جب پختونوں کو لاپتا کرنے اور انہیں ماورائے عدالت قتل کرنے کا عمل شروع کیا گیا، زمینی مائینز بچھائے گئے، پشتونوں کو ہر جگہ دہشت گرد کی نظر سے دیکھا جانے لگا، اور حتی کہ ان کے ناجائز قتل عام سے گریز نہیں کیا گیا، پورے ایک عشرہ تک چیک پوسٹوں پر پختون روایات کے برعکس غیر انسانی رویہ روا رکھا گیا، بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو گھنٹوں لائینوں میں کھڑا کیا گیا، "امن کمیٹیاں” بنائی گئیں، اس ضمن میں اکثریتی امن کمیٹیوں نے معصوم لوگوں کی علاقائی اور داخلی چپقلش کی وجہ سے بے گناہوں کو سیکورٹی اداروں کے حوالہ کیا۔ لشکر پر لشکر تیار کیے گئے۔ بے گناہ لوگوں کے گھروں کو بموں سے اڑایا گیا۔
قارئین، سب کو یاد ہوگا کہ اُس وقت حالات کیا تھے؟ جو اس طرح کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اتنے منھ زور اور سرکش لوگ کہاں سے پیدا ہوئے؟ ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا۔ اس بابت سچائی کو معلوم کرنے کی غرض سے سچائی کی غیر جانب دار کمیشن مستقبل کے لیے عوام اور اداروں پر سے اعتماد کے لیے ایک پیمانہ تصور ہوگا۔
قارئین، میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ پی ٹی ایم کا یہ مطالبہ کہ سچائی اور مفاہمتی کمیشن کا مطالبہ سب سے بڑھ کر ہے، اس نسبت جنگی جرائم کو معلوم کرنے اور غیر جانب دار سچائی کی کمیشن پاکستان کے تابناک مستقبل کی طرف ایک قدم تصور ہوگی۔

………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے