1,028 total views, 1 views today

اگلی صبح ہمیں فلوریڈا ٹو ڈے آفس جانا تھا، جس کے لیے ’’باب‘‘ نے ہمیں ساڑھے آٹھ بجے تیار ہونے کا کہا۔ لہٰذا مَیں ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے ہوٹل کی لابی میں تیار کھڑا تھا۔ باب وقت کا پابند تھا، اس کے لیے ساڑھے آٹھ بجے کا مطلب ساڑھے آٹھ ہی تھا۔ وہ ہمیشہ وقت سے پہلے ہی پہنچ جاتا تھا۔ مَیں نے اسے کبھی دیر کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے باب اپنی گاڑی میں ہوٹل کے باہر موجود تھا، تاہم فاطمہ ابھی تک اپنے کمرے سے نیچے نہیں آئی تھی۔ اس لیے مَیں نے ہوٹل کے استقبالیہ سے اس کے کمرے کا فون ملایا، جس پر اس نے اپنی پتلی آواز میں کہا: ’’فضل صاحب، آرہی ہوں، کیا جلدی ہے؟‘‘ میں نے فون بند کیا اور کچھ لمحوں بعد ’’میم صاحبہ‘‘ بن سنور کر نیچے آئی، جس کے چہرے پر ندامت نامی کوئی چیز نظر نہ آئی۔ میں نے دل ہی دل میں اسے ’’سست لڑکی‘‘ کا خطاب دیا۔ ہم باب کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے اور آفس کی طرف روانہ ہوا۔ ہوٹل کے سامنے والی سڑک سے بائیں جانب مین ہائی وے کی طرف چل پڑے جو یہاں کے مشہور ’’انڈین ریور لیگون‘‘ کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ باب نے ہمیں بتایا کہ انڈین ریور لیگون اصل میں تین لیگونوں یعنی ساحلی جھیلوں سے مل کر بنا ہے، جو کہ بحر اوقیانوس کے ساحل پر واقع ہے۔ اس کے ساحل پر بے شمار ریسٹورنٹ اور کشتی چلانے والی کمپنیاں ہیں۔ ہم تھوڑی ہی دیر میں ’’فلوریڈا ٹوڈے‘‘ کے آفس میں داخل ہوئے۔ آفس اور سڑک کے بیچ ایک خوبصورت جھیل اور وسطی عمارت کے ارد گرد بہت بڑی کار پارکنگ ہے۔ پارکنگ میں جگہ جگہ درخت لگے ہوئے ہیں جب کہ درمیان میں ایک اور چھوٹی سی جھیل ہے جس میں ہر وقت بطخ اور دوسرے پرندے موجود ہوتے ہیں۔ جھیل کے وسط میں آفس کی طرف لکڑی کا پُل ہے۔ باب نے جھیل کنارے پارکنگ ائیریا میں گاڑی پارک کی اور عمارت کی طرف ہمیں لے گیا۔ اس نے کہا کہ جھیل میں اکثر نہنگ (Alligators) ہوتے ہیں جو خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

فلوریڈا ٹوڈے کے آفس میں بنی چھوٹی سی مگر خوبصورت جھیل۔ (فوٹو: فضل خالق)

نہنگ (مگر مچھ) کا سن کر فاطمہ نے یک دم کہا مجھے وہ دیکھنے ہیں۔ یہ سن کر مجھے فاطمہ چھوٹی بچی ہی لگی۔ خیر، آگے کچھ ہی دنوں میں مجھے یقین ہوگیا کہ اس میں بچوں کی ڈھیر ساری عادتیں موجود تھیں۔ ہم جب عمارت کے اندر جانے والے دروازے کی طرف بڑھے، تو وہاں کوئی چوکیدار یا سیکورٹی والا نہیں تھا۔بس ساتھ ہی ایک کمپیوٹرائزڈ لاک لگا ہوا تھا، جس کا مخصوص ’’پاس ورڈ‘‘ تھا۔ باب نے ’’پاس ورڈ‘‘ ملایا، تو شیشے کا دروازہ کھل گیا اور ہم اندر داخل ہوگئے۔ہماری حیرانی اس بات پر تھی کہ نہ تو بیرونی گیٹ کے ساتھ کوئی چوکیدار یا سیکورٹی کا نظام تھا اور نہ عمارت کے اندر جانے کے لیے کوئی چوکیدار ہی تھا۔ جب ہم آفس میں داخل ہوئے، تو خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ میں سمجھا صبح کا وقت ہے، اس لیے ابھی آفس کوئی نہیں آیا ہوگا، مگر ایسا نہیں تھا۔ آفس میں تمام سٹاف ممبر موجود تھے جو اپنے اپنے کمپویٹرز کے سامنے کام میں مگن تھے۔ با ب ہمیں ہر ایک سٹاف ممبر کے پاس لے جاتا اور اس سے ملواتا جاتا۔ وہ بھی ہم سے گرمجوشی سے ملتے۔ اس کے بعد وہ ہمیں آفس کے تمام حصو ں میں لے گیا، یہاں تک کہ اخبار کے پرنٹنگ پریس والے حصے میں بھی لے گیا۔ آخر میں وہ ہمیں ہمارے بیٹھنے کی جگہ پر لے گیا۔ ہمیں دوسرے سٹاف کے قریب ہی جگہ دی گئی۔ جب ہم اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے، تو باب اپنے کمرے میں گیا۔ نئی نشست پر جہاں میں نے تقریباً ایک مہینے کام کرنا تھا، اپنے آپ کو ایڈجسٹ کیا۔ آفس کا جائزہ لیا اور اپنے پہلے پراجیکٹ کے بارے میں سوچنے لگا۔
’’فلوریڈا ٹوڈے‘‘ کا آفس ایک بہت بڑے ہال کو سیکڑوں چھوٹے چھوٹے لکڑی کے کیبنوں اور پارٹیشنز میں تقسیم کیا گیا ہے جب کہ چاروں طرف شیشے سے بنے چھوٹے چھوٹے کمرے بنائے گئے ہیں،جن میں منجیریل سٹاف بیٹھتا ہے۔ آفس صاف ستھرا تھا، جس میں ایک طرف چائے، کافی اور پانی کی برقی مشینیں لگی ہوئی تھیں، جب کہ درمیان میں چھوٹی سے کھلی جگہ تھی جس میں سٹاف وقتاً فوقتاً مختلف سرگرمیوں کے لیے جمع ہوتا تھا۔ یہاں کے دفاتر گو کہ جاپان کے دفاتر کی طرح صاف اور خاموش ہیں، مگر امریکی دفاتر میں سٹاف اپنے ساتھ پارسل خوراک لاتا ہے۔ کانوں میں ہینڈز فری لگا کر گانے سنے جاتے ہیں اور موبائل فون پر بوقتِ ضرورت باتیں بھی ہوا کرتی ہیں، جب کہ جاپان میں جتنا میں نے دیکھا ہے، وہاں آفس میں کھانا کھایا جاتا ہے،نہ موسیقی سنی جاتی ہے اور نہ موبائل فون کا استعمال ہی کیا جاتا ہے۔




فلوریڈا ٹوڈے کے آفس کا اندرونی منظر، جو ایک بڑے ہال میں قائم ہے۔ (فوٹو: فضل خالق)

مَیں نے ساتھ بیٹھی فاطمہ کو دیکھا، تو وہ اپنے موبائل فون پر مصروف تھیں کہ اتنے میں باب آیا اور کہا کہ صبح کی ایڈیٹوریل میٹنگ میں ان کے ساتھ شرکت کی جائے۔ ہم ان کے ساتھ ایک چھوٹے سے ہال میں گئے، جہاں تمام ایڈیٹرز موجود تھے جب کہ درمیان میں میز کے اوپر ایک چھوٹا سا گول نماٹیلی فونک سپیکر لگا ہوا تھا، جس سے اخبار سے منسلک دوسرے شہروں کے ایڈیٹر صاحبان رابطہ میں تھے۔ میٹنگ میں اس دن کے حوالہ سے اہم خبروں اور تجزیوں کا جائزہ لیا گیا اور لائحہ عمل بنایا گیا، جس میں سب نے بھر پور حصہ لیا۔ ٹیلی فون پر موجود دوسرے شہروں سے ایڈیٹرز نے بھی رائے دی۔ تقریباً ایک گھنٹا بعد میٹنگ ختم ہوئی اور ہم سب اپنی اپنی نشستوں پر واپس آ کر بیٹھ گئے۔ جیسا کہ باب نے ہمیں ’’فلوریڈا ٹوڈے‘‘ کے لیے کالم لکھنے کاکہا تھا، اس لیے میں نے اپنا پہلا کالم امریکہ کے عوام کے بارے میں میری سالوں سے غلط فہمیاں اور یہاں تقریباً پندرہ دن گزارنے کے بعد اپنے تجربات پر تحریر کیا۔ جس طرح سیاسی طور پر امریکہ کا پوری دنیا میں اثر و رسوخ ہے اور بحیثیت ایک سپر پاؤر کے یہ تقریباً تمام ترقی پذیر ممالک کو امداد دیتا ہے اور اس کے بدلے میں ان کی خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بشمول بہت سارے دوسرے ممالک کے پاکستان شروع ہی سے امریکی امداد پر چلتا نظر آتا ہے، جس کے بدلے میں ہماری خارجہ پالیسی امریکہ کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے۔ تاہم اس پس منظر میں ہماری عوام کی برین واشنگ ایسی ہوئی ہے کہ ہم امریکہ کو پھربھی ’ویلن‘‘ ہی کی طرح دیکھتے ہیں۔ یہاں ہم غلط فہمی میں ہیں۔ غلط فہمی یہ کہ ہم امریکی حکومت اور عوام دونوں کو یکساں طور پر ’’ویلن‘‘ سمجھتے ہیں اور دل ہی دل میں نہ صرف امریکی ریاست بلکہ عوام کو بھی اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ امریکہ جانے سے پہلے یہی حال میرا بھی تھا،مگر جب میں امریکہ پہنچا اور وہاں کے لوگوں سے ملا، بازاروں میں گھوما پھرا، سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا، تو امریکی عوام کے بارے میں میری رائے یکسر تبدیل ہوگئی۔ مَیں نے یہاں کے لوگوں کو مہذب اور بااخلاق پایا اور پاکستانیوں کے لیے ان کے رویوں میں کوئی سختی محسوس نہیں کی۔ یہاں تک کہ بعض علاقوں میں چند لوگوں نے پاکستان کا نام تک نہیں سنا تھا۔ عمومی طورپر امریکی عوام خوش اخلاق اور بہت سوشل ہونے کے ساتھ ساتھ تعریف کرنے میں بڑی سخاوت سے کام لیتے ہیں۔ ان میں فیملی سسٹم مضبوط ہے اور اپنی ثقافت و روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہالی ووڈ کی فلموں کے برعکس سیاہ فام لوگ آپ کو سڑکو ں یا گلیوں میں ماریں گے نہیں، بلکہ دوستانہ رویہ رکھیں گے۔ میرا کالم ان ذکر شدہ باتوں پر محیط تھا۔ اس لیے میں نے اسی دن لکھ کر باب کو بھیجا، جو انہوں نے ’’ایزاڈورا‘‘ جو کہ ایک پُرکشش خاتون تھی اور ایڈیٹوریل صفحہ کی ایڈیٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ٹی وی پروگرام کی ہوسٹ بھی تھی، کو بھیجا۔ فاطمہ نے بھی اسی دن اپنا کالم لکھا اوربھیج دیا۔
یہاں امریکہ کے دور دراز اسٹیٹس میں اخبار کے آفس کا معمول ہمارے ملک کے معمول کے الٹ ہے۔ ہم پاکستان میں دوپہر کے بعد آفس آتے ہیں اور اکثر شام کو دیر تک کام کرتے ہیں، کیوں کہ یہاں خبریں شام ہی کو آنا شروع ہو جاتی ہیں، جب کہ امریکہ میں تمام عملہ بشمول رپورٹز صبح سویرے آفس آتے ہیں اور چاربجے چھٹی کرکے چلے جاتے ہیں۔ با ب نے ہمیں کہا تھا کہ آفس کے بعد وہ ہمیں ’’کوکووا بیچ‘‘ لے کر جائے گا۔ اس لیے اس دن ہم نے اپنا کام ختم کیا اور باب کے ساتھ ہوٹل گئے۔ تھوڑی دیر بعد باب اپنی بیوی ڈانا اور بیٹی جیسیکا کو بھی ساتھ لایا اور ہم کوکوا بیچ کی طرف روانہ ہوئے۔ بحر اقیانوس پر واقع کوکوا بیچ ’’بریوارڈ کاؤنٹی‘‘ کے بے شمار ساحلوں میں سے ایک ہے جس کا شمار دنیا کی خوبصورت ترین بیچوں میں ہوتا ہے۔ یہ پوری دنیا میں اپنی نیلگوں اور شفاف پانی کے لیے مشہور ہے۔ باب نے گاڑی پارک کی اورہم کوکووا بیچ پر مشہور ریسٹورنٹ ’’کوکووا بیچ پیئر‘‘ گئے، جہاں بہت سارے لوگ پہلے سے موجود تھے۔ ہم اندرونی گول ہال کی طرف گئے جو سمندر کے اوپر بنایا گیا ہے۔ لکڑی کے اس گول ہال سے سمندر کی جانب پانی میں لکڑی سے بنا ایک گھاٹ بنایا گیا ہے، جو آخر میں ایک گول نما چبوترے پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ ہم اس گھاٹ پر گول چبوترے کی طرف گئے۔

شان دار ’’کوکووا بیچ‘‘ پر لکھاری کی لی جانے والی ایک یادگار تصویر۔ (فوٹو: فاطمہ)

بحراوقیانوس کے نیلگو ں پانی کے درمیان لکڑی کا گھاٹ اتنا خوبصورت لگ رہا تھا کہ مجھے اس پر کسی مصور کی دلکش پینٹنگ کا گمان ہو رہا تھا۔ ہم نے وہاں تصویریں بنائیں اور پھر ریسٹورنٹ کی طرف گئے، جہاں ہم نے اپنے من پسند کھانے کا آرڈر دیا۔ ریسٹورنٹ کے باہر کوکوا بیچ کا خوبصورت نظارہ ہمیں اپنے سحر میں لے رہا تھا جس پر سیکڑوں لوگ، مرد و زن، نوجوان اور بچے سمندر کی تیز لہروں میں تیرتے ہوئے لطف اندوز ہورہے تھے۔ (جاری ہے)

………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے