379 total views, 1 views today

عام انتخابات میں ابھی بھی کئی مہینے باقی ہیں، مگر انتخابات کی تیاریاں ایسے زور وشور سے جاری ہیں، گویا انتخابات اگلے مہینے ہونے والے ہوں۔ انتخابات کیا، پھر سے وہی جھوٹے وعدے کئے جائیں گے۔ سیاست دان ایک مرتبہ پھر سے وہی سبز باغ دکھائیں گے۔

عام انتخابات کے سلسلے میں باقاعدہ جلسے جلوس شروع ہو گئے ہیں۔ گذشتہ انتخابات کی طرح اب کی بار بھی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جائے گی۔ عوام جب سیاست دانوں کو منتخب کرکے انہیں ممبر اسمبلی بناتے ہیں، تو وہی سیاست دان اگلے الیکشن تک عوام کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ہمارے روایتی سیاست دان پھر آئندہ الیکشن کی تیاریوں تک غائب رہتے ہیں۔ کئی سال سے ہماری نظروں سے اوجھل منتخب نمائند ے الیکشن قریب آنے پر اَب سوات میں دکھائی دینے لگے ہیں۔ ملک بھر کی طرح سوات میں بھی انتخابات کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ سیاسی جماعتیں الیکشن کی تیاریوں میں مصروفِ عمل نظر آرہی ہیں۔ کوئی امیدواروں کی جانب سے ٹکٹ کی درخواستیں لینا شروع کرچکا ہے، تو کسی نے امیدواروں میں ٹکٹ تقسیم بھی کردیئے ہیں۔ ان میں ان کا حساب الگ سے ہے جنہیں اختلافات کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سوات میں ہر پارٹی یہ کوشش کر رہی ہے کہ صوبائی و قومی اسمبلی کی تمام (چھے صوبائی اور دو قومی) سیٹوں پر الیکشن جیتا جائے، جو زمینی حقائق کو مدنظررکھتے ہوئے ناممکن نظر آرہا ہے۔

سوات کی سیاسی فضا اگر اس طرح برقرار رہی، تو یقین جانئے 2018ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی ایک سیٹ جیتنے کی بھی امید نہیں ہے۔ آج یعنی اتوار کے دن کا یہ تازہ واقعہ کتنے شرم کی بات ہے، جس میں سوات کے دو ایم پی ایز فضل حکیم اور عزیزاللہ گران اور ان کے کارکنان آپس میں دست وگریباں ہوئے اور مینگورہ ڈگری کالج کی افتتاحی تختی پر ناموں کے بڑے چھوٹے حروفوں پر تصادم ہوا۔ اس موقعہ پر بھی عزیزاللہ گران نے کارکنان میں اشتعال پیدا کیا اور افتتاحی تختی پر ہرے رنگ کی سپرے کروا کر فضل حکیم اور ایم این اے مراد سعید کے ناموں کو مٹا دیا۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے عوام سے محض نوے دنوں میں تبدیلی لانے کا وعدہ کیا تھا۔ سربراہ پی ٹی آئی کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کرواکے اقتدار کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ بلدیاتی انتخابا ت ہونے کو تو ہوئے ہیں، مگر ابھی تک بلدیاتی نمائندے برائے نام ہی ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی خاطر خواہ انتظاما ت نظر نہیں آ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے عوام سے محض نوے دنوں میں تبدیلی لانے کا وعدہ کیا تھا۔ سربراہ پی ٹی آئی کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کرواکے اقتدار کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ بلدیاتی انتخابا ت ہونے کو تو ہوئے ہیں، مگر ابھی تک بلدیاتی نمائندے برائے نام ہی ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی خاطر خواہ انتظاما ت نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اب چونکہ انتخابات دوبارہ قریب ہیں، تو دوسری پارٹیوں کی طرح تحریک انصاف بھی سیاسی گرما گرمی میں کافی ایکٹیو نظر آرہی ہے۔ میر ا نہیں خیال کہ پی ٹی آئی پہلے کی طرح سوات سے تمام کی تمام سیٹیں جیت سکے گی۔ اس کی بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک طرف تو پارٹی میں اندرونی اختلافات وقتاً فوقتاً نظر آر ہی ہیں، تو دوسری طرف پارٹی میں ٹکٹ کے حصول کی جنگ زوروں پر ہے۔ پی کے اسّی کی بات کی جائے، توموجودہ ایم پی اے فضل حکیم کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی امیدوار میدان میں اترنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ پارٹی میں کئی لوگوں کی جانب سے ٹکٹ کے حصول کیلئے خاطر خواہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جس میں سہیل سلطان ایڈووکیٹ، جانان جان اور محمد زاہد باز خان قابلِ ذکر ہیں۔

چونکہ محکمہ واپڈامرکز کے ساتھ ہے اور مرکز میں حکومت بھی مسلم لیگ ن کی ہی ہے، اس لئے اگر الیکشن مہم میں مسلم لیگ ’’بجلی‘‘ کے نام پہ ووٹ مانگے گی، تو میر ا نہیں خیال کہ عوام اس دفعہ ن لیگ کو قابلِ اعتبار سمجھیں گے۔ ’’مشیر صاحب‘‘ نے ایک مرتبہ پھر سوات سے الیکشن لڑنے کا عزم کیا ہوا ہے۔ ان کے لئے عرض کرتا چلوں کہ سوات کے عوام ایک ہیں۔پھر چاہے آپ پی کے اسّی سے الیکشن لڑیں یا پی کے اکیاسی سے۔ یہاں یہ بات سمجھ سا بالاتر ہے کہ تین حلقوں سے باقاعدہ شکست کے بعد بھی مشیر صاحب ایک بار پھر سوات سے الیکشن لڑنے جا رہے ہیں۔

ہر سیاسی پارٹی میں اختلافات ہوا کرتی ہیں۔ کچھ دن پہلے مسلم لیگ کے ایک رہنما سے بات کر رہا تھا کہ ٓاخر وجہ کیا ہے کہ ن لیگ میں اختلافات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے، تو ان کا کہناتھا کہ یہاں ہر کوئی لیڈر بننے کی دوڑ میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی ورکر بننے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اب شدید لوڈ شیدنگ کی وجہ سے سوات کے عوام ن لیگ سے سخت نالاں ہیں۔ چونکہ محکمہ واپڈامرکز کے ساتھ ہے اور مرکز میں حکومت بھی مسلم لیگ ن کی ہی ہے، اس لئے اگر الیکشن مہم میں مسلم لیگ ’’بجلی‘‘ کے نام پہ ووٹ مانگے گی، تو میر ا نہیں خیال کہ عوام اس دفعہ ن لیگ کو قابلِ اعتبار سمجھیں گے۔ ’’مشیر صاحب‘‘ نے ایک مرتبہ پھر سوات سے الیکشن لڑنے کا عزم کیا ہوا ہے۔ ان کے لئے عرض کرتا چلوں کہ سوات کے عوام ایک ہیں۔پھر چاہے آپ پی کے اسّی سے الیکشن لڑیں یا پی کے اکیاسی سے۔ یہاں یہ بات سمجھ سا بالاتر ہے کہ تین حلقوں سے باقاعدہ شکست کے بعد بھی مشیر صاحب ایک بار پھر سوات سے الیکشن لڑنے جا رہے ہیں۔دوسری طرف اگر ن لیگ میں اختلافات اسی طرح جا ری رہیں، تو یہ آئندہ انتخابات میں بمشکل ایک ہی سیٹ جیت سکتی ہے۔ پی کے اسّی، پی کے اکیاسی اور تریاسی میں مسلم لیگ ن کے لئے پارٹی ٹکٹ کی تقسیم بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس سے ماورا حلقوں میں ن لیگ کی اعلیٰ قیادت باآسانی ٹکٹوں کی تقسیم انجام دے سکتی ہے۔

 پی کے اسّی میں تو ن لیگ میں اختلافات کایہ حال ہے کہ سٹی اجلا س میں سٹی صدر کو سرے سے مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ٹکٹ کس کو دیا جائے گا؟ اس طرح پی کے تریاسی میں بھی حنیف خان، فیروز شاہ، سید افضل شاہ، فیاض علی شاہ، عظمت علی خان اور جلات گجر ٹکٹ کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ان میں حنیف خان نے بلدیاتی انتخابات میں سونامی اور جماعت اسلامی کو شکست سے دو چار کرکے تحصیل کی سیٹ کے انتخابات جیتے تھے۔ دوسری طرف سید افضل شاہ بھی ڈسٹرکٹ کونسلر ہیں۔ اب دیکھنایہ ہے کہ آخر ٹکٹ ملے گا کسے؟

پی کے اسّی میں تو ن لیگ میں اختلافات کایہ حال ہے کہ سٹی اجلا س میں سٹی صدر کو سرے سے مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ٹکٹ کس کو دیا جائے گا؟ اس طرح پی کے تریاسی میں بھی حنیف خان، فیروز شاہ، سید افضل شاہ، فیاض علی شاہ، عظمت علی خان اور جلات گجر ٹکٹ کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ان میں حنیف خان نے بلدیاتی انتخابات میں سونامی اور جماعت اسلامی کو شکست سے دو چار کرکے تحصیل کی سیٹ کے انتخابات جیتے تھے۔ دوسری طرف سید افضل شاہ بھی ڈسٹرکٹ کونسلر ہیں۔ اب دیکھنایہ ہے کہ آخر ٹکٹ ملے گا کسے؟

پی کے اسّی میں تو اختلافات کایہ حال ہے کہ سٹی اجلا س میں سٹی صدر کو سرے سے مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ٹکٹ کس کو دیا جائے گا؟ اس طرح پی کے تریاسی میں بھی حنیف خان، فیروز شاہ، سید افضل شاہ، فیاض علی شاہ، عظمت علی خان اور جلات گجر ٹکٹ کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ان میں حنیف خان نے بلدیاتی انتخابات میں سونامی اور جماعت اسلامی کو شکست سے دو چار کرکے تحصیل کی سیٹ کے انتخابات جیتے تھے۔ دوسری طرف سید افضل شاہ بھی ڈسٹرکٹ کونسلر ہیں۔ اب دیکھنایہ ہے کہ آخر ٹکٹ ملے گا کسے؟ اگر یہ سب ایک ہی امیدوار کو سپورٹ کریں گے، تو یہ پی ٹی آئی کے لئے کسی خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔کیونکہ وہاں بھی پی ٹی آئی شدید اختلافات کی زد میں ہے۔ محب اللہ کے ساتھ ساتھ کئی امیدوار وں نے لنگوٹ کس لیا ہے۔ اس کے علاوہ ’’ن‘‘ کیلئے مزید مشکلات بھی پیدا ہوگئی ہیں۔



 جماعت اسلامی اس صورتحال میں باقی پارٹیوں کی نسبت بہتر پوزیشن میں ہے۔ پارٹی نے باہمی صلاح و مشورے سے سوات کے تمام حلقوں کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم کو یقینی بنا لیا ہے۔ الیکشن مہم میں جماعت اسلامی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی آ رہی ہے۔ اس بار جماعت اسلامی نے الیکشن مہم کا باقاعدہ آغاز کالام کے جلسے سے شروع کر دیا ہے۔

جماعت اسلامی اس صورتحال میں باقی پارٹیوں کی نسبت بہتر پوزیشن میں ہے۔ پارٹی نے باہمی صلاح و مشورے سے سوات کے تمام حلقوں کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم کو یقینی بنا لیا ہے۔ الیکشن مہم میں جماعت اسلامی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی آ رہی ہے۔ اس بار جماعت اسلامی نے الیکشن مہم کا باقاعدہ آغاز کالام کے جلسے سے شروع کر دیا ہے۔

جماعت اسلامی اس صورتحال میں باقی پارٹیوں کی نسبت بہتر پوزیشن میں ہے۔ پارٹی نے باہمی صلاح و مشورے سے سوات کے تمام حلقوں کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم کو یقینی بنا لیا ہے۔ الیکشن مہم میں جماعت اسلامی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی آ رہی ہے۔ اس بار جماعت اسلامی نے الیکشن مہم کا باقاعدہ آغاز کالام کے جلسے سے شروع کر دیا ہے۔ یہ ایک قسم کا اشارہ ہے کہ جماعت اسلامی کو سوات سے سیٹوں کی ضرورت ہے۔ اگر جے آئی کی الیکشن مہم اسی طرح جار ی رہی، تو صوبائی اسمبلی کی ایک دو سیٹیں ہاتھ آسکتی ہے۔

 اے این پی بھی الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہے، جس کا اظہار ان کے جلسے جلوس، ریلیوں اور شمولیتی پروگرامات سے بخوبی ہوتا ہے۔ 2013ء کے الیکشن میں شدید نا کامی کے بعد اے این پی اپنی پوزیشن مظبوط کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ اب کی بار اے این پی کافی حد تک عوام میں اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو بحال کرلے گی۔ سوات میں ورکرز کنونشنز کا انعقاد اور آپسی دوریوں کو ختم کرنے کا عمل اے این پی کے لئے آنے والے الیکشن میں فائدہ مندثابت ہوگا۔

اے این پی بھی الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہے، جس کا اظہار ان کے جلسے جلوس، ریلیوں اور شمولیتی پروگرامات سے بخوبی ہوتا ہے۔ 2013ء کے الیکشن میں شدید نا کامی کے بعد اے این پی اپنی پوزیشن مظبوط کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ اب کی بار اے این پی کافی حد تک عوام میں اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو بحال کرلے گی۔ سوات میں ورکرز کنونشنز کا انعقاد اور آپسی دوریوں کو ختم کرنے کا عمل اے این پی کے لئے آنے والے الیکشن میں فائدہ مندثابت ہوگا۔

اس تمام تر صورتحال میں اے این پی بھی الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہے، جس کا اظہار ان کے جلسے جلوس، ریلیوں اور شمولیتی پروگرامات سے بخوبی ہوتا ہے۔ 2013ء کے الیکشن میں شدید نا کامی کے بعد اے این پی اپنی پوزیشن مظبوط کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ اب کی بار اے این پی کافی حد تک عوام میں اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو بحال کرلے گی۔ سوات میں ورکرز کنونشنز کا انعقاد اور آپسی دوریوں کو ختم کرنے کا عمل اے این پی کے لئے آنے والے الیکشن میں فائدہ مندثابت ہوگا۔ صورتحال اس طرح رہی، تو اے این پی سوات کی اہم سیٹوں میں سے دو تین سیٹیں جیتنے کی پوزیشن میں لگ رہی ہے۔ یہاں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ اے این پی بھی پی کے اسّی اور پی کے اکیاسی میں اختلافات کاشکارہے۔

جے یو آئی کی پالیسی کے مطابق امیدوار کو ٹکٹ کی درخواست کے ساتھ بیانِ حلفی بھی جمع کرانا ہوگی۔ جس کے مطابق اگر کسی امیدوار کو ٹکٹ نہ ملے، تو اسے سیاسی وفاداری کی تبدیلی، یا آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جے یو آئی کی یہ پالیسی تمام سیاسی پارٹیوں کیلئے مثال ہے۔

جے یو آئی کی پالیسی کے مطابق امیدوار کو ٹکٹ کی درخواست کے ساتھ بیانِ حلفی بھی جمع کرانا ہوگی۔ جس کے مطابق اگر کسی امیدوار کو ٹکٹ نہ ملے، تو اسے سیاسی وفاداری کی تبدیلی، یا آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جے یو آئی کی یہ پالیسی تمام سیاسی پارٹیوں کیلئے مثال ہے۔

بعض اوقات عین الیکشن کے موقعہ پر ٹکٹ کے معاملے پر سیاسی وفاداری تبدیل ہونے کو ملتی ہے۔ اکثر سیاست دان اُسی پارٹی کی کشتی میں سوار ہوتے ہیں جہاں انہیں ٹکٹ سے نوازا جاتا ہو۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے جے یو آئی نے پالیسی بنائی ہے۔ پالیسی کے مطابق امیدوار کو ٹکٹ کی درخواست کے ساتھ بیانِ حلفی بھی جمع کرانا ہوگی۔ جس کے مطابق اگر کسی امیدوار کو ٹکٹ نہ ملے، تو اسے سیاسی وفاداری کی تبدیلی، یا آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جے یو آئی کی یہ پالیسی تمام سیاسی پارٹیوں کیلئے مثال ہے۔ جے یو آئی میں کئی اہم افراد کی شمولیت سے پارٹی مقبولیت میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ جس میں پی کے تریاسی سے اشفاق خان ایڈووکیٹ اور پی کے اسّی سے اعجاز خان کی شمولیت قابل ذکر ہے۔ دونوں اپنے اپنے حلقہ سے مضبوط امیدوار مانے جاتے ہیں۔ اس طرح پی کے اسّی میں اسحاق زاہد اور اور مولانا حجت اللہ بھی ٹکٹ کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔ جے یو آئی بھی اس دفعہ سوات میں گزشتہ ادوار سے زیادہ اچھی کارکردگی دکھانے کی کوشش کرے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی اب بہتری کی طرف رواں دواں ہے۔ پارٹی میں ریاستِ سوات کے خاندان کی شمولیت کے بعد بہت بہتری آئی ہے۔ اب پارٹی کی جانب سے پہلے سے زیادہ شمولیتی تقاریب اور جلسے جلوس دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ پارٹی کی نئی کابینہ بھی اپنی پارٹی کی پوزیشن کو اس قابل بنانے کی کوشش کررہی ہے کہ اس دفعہ کم از کم ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کو اپنے نام کرسکے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اب بہتری کی طرف رواں دواں ہے۔ پارٹی میں ریاستِ سوات کے خاندان کی شمولیت کے بعد بہت بہتری آئی ہے۔ اب پارٹی کی جانب سے پہلے سے زیادہ شمولیتی تقاریب اور جلسے جلوس دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ پارٹی کی نئی کابینہ بھی اپنی پارٹی کی پوزیشن کو اس قابل بنانے کی کوشش کررہی ہے کہ اس دفعہ کم از کم ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کو اپنے نام کرسکے۔

آخر میں آتے ہیں کافی عرصہ سے اندرونی اختلافات اور گروپ بندی کی شکار پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف جو اب بہتری کی طرف رواں دواں ہے۔ پارٹی میں ریاستِ سوات کے خاندان کی شمولیت کے بعد بہت بہتری آئی ہے۔ اب پارٹی کی جانب سے پہلے سے زیادہ شمولیتی تقاریب اور جلسے جلوس دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ پارٹی کی نئی کابینہ بھی اپنی پارٹی کی پوزیشن کو اس قابل بنانے کی کوشش کررہی ہے کہ اس دفعہ کم از کم ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کو اپنے نام کرسکے۔ اگر پیپلز پارٹی کو اندورنی اختلافات سے دور رکھا گیا، تو وہ سوات کی سیاسی تاریخ کو بدل کر رکھنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اب ٹکٹ کس کو ملے گااور الیکشن کو ن جیتے گا؟ یہ وقت بتائے گا، مگر عوام کو اس دفعہ سوچ سمجھ کر اپنے قیمتی ووٹ کا استعما ل کرنا ہوگا۔ دعا گو ہوں کہ جو بھی ایوان میں جائے، اللہ اس کو سوات کے عوام کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کا اہل بنائے، تاکہ عوام کی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔




تبصرہ کیجئے