640 total views, 1 views today

کیلاشی قبیلے میں خاتون کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا، مگر وہ گھر کی سربراہ ہوتی ہے۔ بڑے فیصلے خاتون ہی کرتی ہے۔ گھر کا خرچہ چلانا ہو، بازار سے سودا سلف لانا ہو، یہ ذمہ داریاں خاتونِ خانہ ہی نبھاتی ہے۔ وہ باہر جاتی ہے، کام بھی کرتی ہے۔ اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ البتہ کیلاشی خاتون خاص قسم کا لباس پہنتی ہے، جس میں ٹوپی نما خوبصورت پراندہ جیسی چیز ہوتی ہے، جس کو ’’کوپاس‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے اوپر ایک اور ٹوپی نما چیز ہوتی ہے، جس میں منکے اور چمک دار شیشے کے ٹکڑے لگائے گئے ہوتے ہیں۔ اس کو مقامی زبان میں ’’شوشوترا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بھاری بھرکم قمیص پہنی جاتی ہے، جو لہنگے جیسی ہوتی ہے اور اس میں ایک کمر بند بھی ہوتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ لباس خاص طورپر تیار کیا جاتا ہے جس پر دس سے پندرہ ہزار روپیہ تک خرچ کیا جاتا ہے۔ بچیاں، جوان اور بوڑھی خواتین سب ایک ہی طرح کا لباس پہنتی ہیں۔ اس میں الگ الگ رنگ ہوتے ہیں، مگر سب کاکپڑا زیادہ ترکالے رنگ کا ہوتا ہے جس پر ہاتھ سے مختلف رنگ کے دھاگوں اور اُون کی مدد سے گلکاری کی جاتی ہے۔ کچھ خواتین سرخ رنگ کے کپڑے بھی تہوار کے موقع پرپہنتی ہیں۔
کیلاشی لوگ مل جل کر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے گھر چھوٹے، سادہ اور زیادہ تر لکڑیوں کے بنے ہوتے ہیں، جن میں کوئی برآمدہ نہیں ہوتا۔ بس سامنے کمرے کا درواز ہوتا ہے۔ کوئی بڑا اور مضبوط دروازہ بھی نہیں ہوتا۔
کیلاش میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوگ چوری، غیبت، بہتان وغیرہ سے ڈرتے ہیں۔ جھگڑے بہت کم ہوتے ہیں۔ کیلاشی بہت توہم پرست ہوتے ہیں۔ ا ن کے مطابق اگر کسی کا مال کھایا، یا چوری کرلیا، تو بہت بڑی سزا ملے گی۔اس عمل سے نہ صرف اس کو بلکہ اس کے خاندان کو بھی بہت بڑا نقصان ہوگا۔ یوں کیلاشی سزا اور جزا پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اچھے لوگ جنت میں جائیں گے اور برے لوگ دوزخ میں۔
چترال چوں کہ پہاڑی علاقہ ہے اور موسم زیادہ تر سرد ہوتاہے، توا ن کے گھر سرد موسم کو مدنظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں، جن میں آگ جلانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ تقریباً تمام گھروں میں آگ کی انگیٹھی ہوتی ہے جس میں لکڑیاں ڈال کر جلائی جاتی ہیں۔ گھروں کو گرم رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی مدد سے کھانا بھی تیار کیا جاتا ہے۔ دھواں گھر سے باہر نکالنے کے لیے ٹین کا پائپ استعمال کیا جاتا ہے جو کہ تقریباً ہر گھر کی چھت پر نظر آتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں لکڑیوں کو ذخیرہ کیا جاتا ہے جن کو سردیوں میں جلایا جاتا ہے۔




کیلاشی بچیاں، جوان اور بوڑھی خواتین سب ایک ہی طرح کا لباس پہنتی ہیں۔ (فوٹو: این ایم سعید)

بمبوریت کیلاش میں مذکورہ قبیلے کا ایک بڑا عبادت خانہ بھی موجود ہے جوکہ ایک بڑے ہال پرمشتمل ہے۔عبادت خانے کے دروازوں پر لکڑی سے مختلف جانوروں کی شبیہیں بنائی گئی ہوتی ہیں جوکہ دیوار کے ساتھ لگائی گئی ہوتی ہیں۔ انہیں درخت کے تنے کاٹ کربنایا گیا ہوتا ہے۔ اس طرح ہال میں بھی جانوروں کی شبیہیں ہیں، ان کے سینگ وغیرہ بھی لگائے گئے ہوتے ہیں۔ دیواروں پر خواتین کی بنائی گئی پینٹنگز ہوتی ہیں جن میں جانوروں کی تصویریں، شکار کرنے والے مردوں کی تصویریں، یا زندگی سے متعلق تصویریں ہوتی ہیں۔ کیلاشی لوگ اپنے مردے کو اس عبادت خانے میں لاتے ہیں، جہاں ان کی آخری رسوم اداکی جاتی ہیں۔
کیلاش میں مردہ اگر مرد ہو یا خاتون، ان کی الگ الگ رسوم ہیں۔ مردے کو عبادت خانے لایا جاتا ہے، اس کے ساتھ اس کی استعمال کی ہوئی تما م اشیا جن میں کپڑے، کھیتی باڑی کے اوزار، شکار یا حفاظی اسلحہ وغیرہ ساتھ لایا جاتا ہے۔ کیلاشی، مردے کے گرد ناچتے ہیں، گاتے ہیں۔ جب تمام رشتہ دار اس کو دیکھ لیتے ہیں، تو میت کو قبرستان لے کر جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میتوں کے تابوت کا اوپر والا حصہ کھلا چھوڑ کر قبرستان میں رکھ لیا جاتا تھا، مگر اب مردے کو زمین میں دفن کیا جاتا ہے۔ بمبوریت میں پرانے زمانے کے تابوت اب بھی موجود ہیں، جن میں مردوں کی ہڈیاں بھی کہیں کہیں نظرآجاتی ہیں۔ ان کے قبرستان میں اب اس طرح کی قبریں بن گئی ہیں جن پر چارپائی کو الٹاکر کے رکھ دیتے ہیں۔ معتبر خاندان کے مردے کی قبر پر سرخ رنگ کے جھنڈے بھی لگائے جاتے ہیں۔ کئی مہینوں تک مردے کی روح کو سکون پہنچانے کے لیے کھانا پکا کر محلے کے گھروں میں بانٹا جاتا ہے۔ جب کسی خاتون کا شوہر مرتاہے، تو بیوہ سات دن تک گھر کے ایک کونے میں خود کو محدود کردیتی ہے۔ اس کو کھانا دیاجاتاہے۔ اس کے ساتھ کوئی بھی ہاتھ نہیں ملاتا۔ بس کھانا رکھ دیا جاتا ہے جسے وہ اٹھا لیتی ہے۔ سات دن بعد وہ اُٹھ جاتی ہے، تو اس کے زیرِ استعمال تمام اشیا کو جلا دیاجاتا ہے۔ پھر چالیس دن تک بیوہ یا رنڈوا منھ چھپاکر لوگوں سے ملتے ہیں۔ اس دوران میں وہ کسی قسم کی خوشی نہیں منا سکتے۔ اگر تہوار قریب ہو،توپھر یہ پرہیز ختم ہو جاتا ہے اور مذکورہ بیوہ یا رنڈوا روٹین کی زندگی کی طرف آجاتے ہیں۔ اس طرح میت کے قریبی رشتہ دار بھی چالیس روز تک بناؤ سنگار نہیں کرتے۔ آئینے کی طرف نہیں دیکھتے۔ وہ باقاعدہ مرنے والے خاندان کے ساتھ غم رازی کرتے ہیں۔
کیلاشیوں کا خیال ہے کہ ان کے مردوں کی روحیں ان کے آس پاس ہوتی ہیں۔ تبھی تو وہ تہواروں کے موقعوں پر رات کو مردوں کے لیے باقاعدہ گھروں سے باہر کھانا رکھتے ہیں، جن میں زیادہ تر پھل اور خشک میوہ جات ہوتے ہیں۔ (جاری ہے)

……………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے