269 total views, 1 views today

دو جنوری کو وائٹ ہاؤس میں ایک طویل پریس کانفرس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان جنگ کے بارے میں متنازعہ باتیں کیں، جن پر افغانستان اور ہندوستان کی حکومتیں ناراض اور اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ جل بن کر رہ گئی۔ امریکی صدر کی خواہش ہے کہ 2019ء افغانستان سے امریکی فوج کے انحلا کا سال ہو، جب کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ اس جلد بازی کے خلاف ہے، جس کی وجہ سے مختلف سرکاری عہدیدار پے در پے مستعفی ہوتے چلے جا رہے ہیں، لیکن امریکی صدر اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ شائد ڈونلڈ ٹرمپ کو غلط فہمی ہو کہ اس طرح کے اقدامات سے انہیں عوامی حمایت حاصل ہوجائے گی۔
امریکی صدر کی پریس کانفرس کی اہمیت اپنی جگہ لیکن امریکی میڈیا نے صدر کے اس بیان پر کہ “They were right to be there” یعنی وہ (روس) ایسا کرنے میں حق بجانب تھا۔
افغان جنگ کے بارے میں امریکی صدر کی لاعلمی اور بے خبری پر ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ اس طرح آج تک امریکی صدر پاکستان سے “ڈو مور” کا مطالبہ کرتا رہا۔ امریکہ چاہتا رہا کہ پاکستان کسی طرح افغانستان کی ہاری ہوئی جنگ کو امریکی فتح میں تبدیل کرے اور اسے افغانستان سے نکلنے کی باعزت راہ مل جائے۔
یہ بات تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان نے افغان جنگ میں امریکہ اور اتحادی ممالک سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، لیکن دنیا اعتراف کرنے کو تیار ہی نہیں۔ آخر میں امریکی صدر دھمکیاں دینے پر اتر آئے۔ امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی امداد بھی روک دی۔ گو کہ امریکہ اسے امداد کہتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ پاکستان کی ہوائی و زمینی حدود کے استعمال اور خدمات کا معاوضہ ہے۔ امریکہ پاکستان کو جتنا معاوضہ دیتا چلا آ رہا ہے، اس سے کئی گنا زیادہ پاکستان کو نقصان اُٹھانا پڑا ہے، جب کہ جانوں کی قربانی اس کے علاوہ ہے۔
اور تو اور اب تو امریکی صدر نے پاکستانی قیادت سے ملاقات کی بھی خواہش ظاہر کی ہے۔ شائد کہ امریکی تھنک ٹینک نے امریکی صدر کو اس بات پر قائل کر لیا ہو کہ خطے میں پاکستان کی غیر معمولی جغرافیائی محل وقوع کے سبب اس کے ساتھ بگاڑ امریکہ کے فائدے میں نہیں۔ تب ہی تو امریکی صدر نے پاکستانی حکام سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔
پشتو مقولے “بلّی فی سبیل اللہ چوہا نہیں پکڑتی” کے مصداق امریکی صدر کی خواہش کے پیچھے بہت سے امریکی مفادات پوشیدہ ہیں۔ پاکستان کے پالیسی ساز حلقے اور بعض تجزیہ نگار ڈونلڈ ٹرمپ کی اس غیر متوقع خواہش کو مثبت تبدیلی سمجھ رہے ہیں۔ ہم نے بڑوں سے سنا تھا کہ “امریکہ سے دوستی، دشمنی کے برابر ہے۔” یہ دشمن نما دوست آج تک ہم پالتے چلے آ رہے ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں، پاکستان نے روس کے خلاف امریکہ کو پشاور کا ہوائی مستقر اور بڈھ بیر میں عملے کو رہائش کے لیے جگہ دی۔ روس نے پاکستان سے بار بار احتجاج کیا، لیکن پاکستانی حکمران (فیلڈ مارشل ایوب خان) ماننے کو تیار نہ تھے۔ جب روس نے اپنی حدود میں حساس تنصیبات کی فوٹو گرافی کرتے ہوئے امریکی یو ٹو (U-2) کو مار گرایا، اور جہاز کے پائلٹ کو گرفتار کر لیا، تو تفتیش کے دوران میں “یوٹو پائلٹ” نے سب راز اُگلوا دیے۔ تب پاکستانی حکمرانوں کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔ اس کے صلے میں امریکہ نے پاکستان کو کیا دیا؟ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں امریکہ نے اپنے جنگی جہاز “ایف وَن زیرو فور” (Star Fighter) کے پرزے بھارت کے کہنے پر پاکستان کو دینا بند کیے۔ پاکستان کو مجبوراً امریکی جنگی جہاز F-104 کو گراؤنڈ کرنا پڑا۔ امریکہ نے تو 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں خالصتاً دشمن کا کردار ادا کیا۔ ادائیگی کرنے کے باوجود امریکی چالیس عدد F-16 جنگی جہاز پاکستان کو دینے سے انکار کیا اور نواز شریف نے اقتدار میں آتے ہی F-16 کی جگہ گھن لگا گندم وصول کیا۔ اس طرح فرانس نے امریکہ کے کہنے پر ہمیں معاہدے کے باوجود ایٹمی بجلی گھر دینے سے انکار کیا۔ افغان جنگ میں پاکستان نے امریکہ اور اتحادی فوج کا ساتھ دیا اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں خاص کر آئی ایس آئی کی حکمت عملی سے روس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس کے باوجود امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔
دوسری طرف افغانستان میں اقتدار کے حصول کی خاطر جہادی تنظیمیں آپس میں لڑتی رہیں۔ ہر طرف طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا۔ اسی دوران میں طالبان نامی گروہ وجود میں آیا، جس نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا، لیکن ایک اسلامی ریاست کے پہلو میں ایک اور اسلامی ریاست امریکہ کو منظور نہ تھی۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ آور ہونے کے لیے اپنے ہی ملک میں ’’نائن الیون‘‘ کا کھیل کھیلا،جس میں دنیا نے امریکہ کا ساتھ دیا، لیکن 18 سالہ طویل جنگ میں اسے کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ اب امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے، لیکن اس بار طالبان مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ ان کے پاس ہارنے کو کچھ نہیں۔ دوسری طرف امریکہ کا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں پاکستانی پالیسی ساز حلقوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے مفادات کا اچھی طرح سے تحفظ کریں، لیکن کیا کیا جائے کہ ہمارے حکمران ہر بار امریکہ کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔ ماضی میں بھی ہر مرتبہ ایسا ہی لگا کہ امریکی بے مروتی کے سبب پاکستان آزادانہ خارجہ پالیسی مرتب کرے گا، لیکن امریکہ نے پینترا بدل کر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو رام کیا۔ کیوں کہ پاکستانی بیورو کریسی اور سیاسی رہنماؤں میں امریکہ کی مضبوط لابی موجود ہے جو پاکستان کو امریکی شکنجے سے باہر نکلنے نہیں دیتی۔
اس بار البتہ نئے حکمران ہیں۔ شائد کہ ان کی پالیسی گزرے ہوئے حکمرانوں سے مختلف ہو۔ آمدہ اطلاعات کے مطابق طالبان نے قطر میں ہونے والے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے، جو کہ خطے اور خاص کر پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کے لیے نیک شگون نہیں۔

…………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے