236 total views, 1 views today

کسی بھی ریاست کی تعمیر و ترقی، خوشحالی اور خود مختاری ریاست کی مضبوط معیشت کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ اگر ریاست کی معاشی صورت حال مضبوط ہو، تو ریاستی حکمران، ریاست اور عوام کے مفاد میں بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔ ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے منصوبے اور حساس اداروں سمیت دیگر اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی کے فیصلے خود کرسکتے ہیں۔ انہیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑتی، جب کہ کمزور معیشت کی حامل اور مقروض ریاستوں کے حکمران کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرسکتے۔ وہ ہمیشہ قرضہ فراہم کرنے والے ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کی مرضی کو مد نظر رکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ چاہے وہ اشیائے خور و نوش ہوں، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو، کرنسی کی قدر و قیمت میں کمی ہو، درآمدات پر ٹیکسوں کا چھوٹ ہو یا ملکی بقا کے ضامن اداروں کے سربراہان کی تعیناتی، پھر سب قرض فراہم کرنے والے ممالک اور مالیاتی اداروں کی مرضی کے مطابق طے ہوتا ہے۔ بعض اوقات ملکی حساس نوعیت کی معلومات کا تبادلہ بھی ان کے کہنے پر کیا جاتا ہے۔
قارئین، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کی کمزور معیشت روزِ اول سے دوسروں کے رحم و کرم پر چلتی آ رہی ہے اور اب بھی ایسا ہے۔ تبھی تو پاکستانی حکمران حساس نوعیت کا کوئی فیصلہ خود نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ حکمرانوں نے قرض پر قرض لے کر ملک کو گروی جو رکھ دیا ہے۔
کرپشن پاکستانی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ کرپشن، سرکاری اداروں کی خریدرای، تعمیراتی ٹھیکوں اور دیگر ترقیاتی کاموں میں عام ہے۔ سب سے زیادہ کرپشن سرکاری اداروں کی خریداری کی مد میں ہو رہا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں سالانہ حکومتی ادارے مجموعی آمدن کا اندازاً بیس فی صد یعنی 7.7 کھرب روپے کی خریداری کرتے ہیں۔ 2002ء میں صدرِ پاکستان کی منظوری سے ’’پبلک پریکورمنٹ اتھارٹی‘‘ (پپرا) قائم کیا گیا۔ ’’پپرا‘‘ کے نگران خالد جاوید کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کسی ملک یا مالیاتی ادارے سے قرض لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر حکومت، اداروں کے خریداری کے عمل کو شفاف اور منظم کرے، تو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
قومی خریداری کے لیے مختص30 تا 60 فی صد یعنی (ہر سال) 2.2 کھرب سے لے کر 4.5 کھرب روپے بدعنوانی کی نذر ہوجاتے ہیں۔ دھوکا دہی، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے 195 سرکاری اداروں نے گذشتہ پانچ سال کے دوران میں مجموعی طور پر قومی خزانے کو 3.7 کھرب کا نقصا ن پہنچایا ہے۔ موجودہ حکومت کے اس حوالہ سے اقدامات نہ کرنے سے قومی خزانے کو 370 ارب نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ ہمارا دفاعی بجٹ اور سرکاری اداروں کا خسارہ برابر ہے۔ دفاعی بجٹ پر 1.1 کھرب اور سرکاری اداروں کا خسارہ بھی 1.1 کھرب ہے۔
کرپشن کا یہ حال ہے کہ فالودہ فروخت کرنے والے کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے، مردے کے اکاؤنٹ، رکشے والے اور سٹوڈنٹ کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے نکل آتے ہیں۔ پیچیدہ مالی قوانین کے سبب ان پر ہاتھ ڈالنا مشکل کام ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ٹیکس وصولی نظام کو وسعت دی جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ٹیکس نیٹ ورک کو وسعت دے کر زیادہ آمدنی والوں سے ٹیکس وصول کرنا چاہتی ہے۔ ایف بی آر گوشوارے نہ جمع کرانے والوں کو نوٹس بھیج چکا ہے، لیکن ایف بی آر کو بھی خاطر خواہ جواب نہیں ملا ہے جو کہ نیک شگون نہیں۔ کثیر آمدن والے آمدن کے ذرائع بتانے کو تیار نہیں۔ ایف بی آر نے کمپوٹرائزڈ نظام کے ذریعے پتا لگا لیا ہے کہ ہزاروں لوگ ٹیکس جمع نہیں کراتے۔ اس طرح یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بیرونِ ملک بہت سے افراد کے خفیہ اثاثے موجود ہیں۔ اب یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ اثاثہ جات جائز ذرائع سے کمائے گئے ہیں یا غیر قانونی طریقوں سے۔ لیکن سیاسی پارٹیا ں ہیں کہ تحریک انصاف کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہیں۔ اللہ کرے کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے نیک مقاصد میں کامیاب ہو۔
کمزور معیشت اور حکمرانوں کے فیصلوں بارے راقم کو حالیہ جنرل حمید گل (مرحوم) کے ایک پرانے انٹر ویو میں جو انکشافات سننے کو ملے ہیں، وہ اہلِ پاکستان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ انٹر ویو میں اینکر پرسن کے سوال پر کہ کیا اسٹیبلشمنٹ نے واقعی جمہوری حکومتوں سے زیادہ حکومت کی ہے؟ جواباً مرحوم نے فرمایا کہ ’’ہاں، یہ درست ہے کہ جمہوری حکومتوں سے اسٹیبلشمنٹ نے زیادہ حکومت کی ہے۔ کیوں کہ امریکہ ایسا چاہتا ہے۔ امریکہ کو ’’فردِ واحد‘‘ سے معاملات طے کرنا اور مطالبات منوانا آسان ہوتا ہے۔ اس لیے تو وہ آمروں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ جنرل حمید گل مرحوم کا یہ بھی کہناتھا کہ ہمیں ملک تو دے دیا گیا، لیکن آزادی نہیں دی گئی۔ اینکر پرسن نے ایک اور سوال میں پوچھاکہ آپ کو آرمی چیف بنایا جا رہا تھا، لیکن کیا امریکہ کے کہنے پرآپ کو آرمی چیف بننے نہیں دیاگیا؟ مرحوم نے جواب دیا کہ ہاں ایسا ہی تھا۔ میں نمبر وَن تھا اور جنرل آصف نواز چھٹے نمبر پر۔ آصف نواز کو آرمی چیف بنا دیا گیا اور مجھے امریکہ کے کہنے پر چھوڑ دیا گیا۔
اینکر پرسن نے پوچھا کہ کیا واقعی گل بدین حکمت یار نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے سابق صدر غلام اسحاق خان سے آپ کی سفارش کی تھی؟ جنر ل حمید گل مرحوم نے کہا کہ ’’جواباً صدر غلام اسحاق خان نے کہا کہ بات تو آپ بہت اچھی کر رہے ہیں،لیکن جنرل حمید گل امریکہ کو منظور نہیں۔ نواز شریف نے امریکہ کے کہنے پر آئی ایس آئی کے خلاف اقدامات کرنے کی کوشش کی، لیکن آرمی نے مخالفت کی۔‘‘ واللہ اعلم!

…………………………………………………………..



لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے