171 total views, 1 views today

اس وقت پاکستان میں ہر روز ہم ’’یو ٹرن‘‘ کے موضوع پر سیاست دانوں سے کچھ نہ کچھ سنتے ہیں۔جب بھی یو ٹرن کا ذکر ہوتا ہے، تو لوگ اس حوالے سے بیانات اور بحث کو وزیر اعظم عمران خان اور حزبِ اختلاف کے درمیان جاری رسہ کشی سے تعبیر کرتے ہیں، لیکن اگر ہم پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا جائزہ لیتے ہیں، تو اس حوالہ سے بھی ہمیں بہت سے ’’یو ٹرنز‘‘ نظر آتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان کے بارے میں انتہائی سخت بیانات دیے، لیکن حال ہی میں افغان طالبان کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے بعد انہوں نے پاکستان کی نئی قیادت سے ملاقات کرنے کا کہا ہے۔ اس طرح انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا ایک اشارہ بھی دیا ہے۔
قارئین، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر خود امریکیوں نے بھی کتابیں لکھی ہیں۔ میں بذاتِ خود اس حوالے سے کئی کتابیں پڑھ چکا ہوں۔ “No Exit from Pakistan” کے عنوان سے ایک کتاب میں خود امریکیوں نے لیاقت علی خان کے زمانے سے لے کر چند سال پہلے تک تعلقات میں اُتار چڑھاؤ کا سارا ذکر کیا ہے۔ پڑھنے سے پہلے اس کتاب کا نام بھی یہ بتاتا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو مکمل چھوڑنا نہیں ہے۔
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہ دونوں ممالک لمبے عرصہ تک ایک ساتھ چلتے ہیں اور نہ ایک دوسرے سے مکمل ناتا توڑتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے حوالہ سے امریکی صدر کے تازہ بیان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی اس حوالہ سے خیر مقدم کیا ہے اور پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم بھی قیادت کی سطح پر تعلقات میں مثبت پیش رفت کے خواہاں ہیں، تاہم کشمیر اور فلسطین پالیسی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ دونوں ممالک کے روابط کے حوالے سے اکثر امریکہ کی طرف سے کتابوں اور میڈیا دونوں میں اس بات کا ذکر آیا ہے کہ امریکہ پاکستان کے حوالے سے ’’گاجر اور چھڑی پالیسی‘‘ پر عمل پیرا ہے۔ نائن الیون کے بعد اب تک ہم نے امریکہ کی طرف سے گاجر اور چھڑی دونوں کا خوب استعمال دیکھا ہے۔ نائن الیون کے بعد صدر بُش اور جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں تعلقات انتہائی دوستانہ تھے۔ خود پرویز مشرف اکثر کہتے ہیں کہ صدر بش کے ساتھ ہر روز اس کی بات ہوتی تھی۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب وہ امریکی صدر کو فون کرتے تھے، تو خود امریکی صدر ان کا فون اٹھاتے تھے۔ لیکن پرویز مشرف کے جانے کے بعد آہستہ آہستہ چھڑی کا استعمال زیادہ ہونے لگا۔ یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے سے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر آگئے۔ ٹرمپ کے آنے سے امریکہ میں بھی تبدیلی آگئی اور پھر پاکستان میں بھی تبدیلی کی حکومت آگئی۔ یوں پہلے چند مہینوں میں دونوں تبدیلیوں کا ٹکراؤ ہوا، لیکن دونوں ممالک کے حوالہ سے کچھ اچھا یا برا نہ ہوا۔ پھر امریکی صدر نے ’’یو ٹرن‘‘ لے لیا اور پاکستان نے حساب برابر کرتے ہوئے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی۔ اب تک اس میچ میں محض ’’یو ٹرن‘‘ کی حد تک فتح نظر آتی ہے۔
قارئین، پاک امریکہ تعلقات کی بنیاد وزیر اعظم لیاقت علی خان کے زمانے میں رکھی گئی، لیکن یہ ایوب خان کے دور میں اس وقت بہت مضبوط نظر آئے جب 1961ء میں انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا۔ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے اپنی کابینہ کے ہمراہ ہوائی اڈے پر ایوب خان کا پُرتپاک استقبال کیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں پاک امریکہ تعلقات ’’یو ٹرن‘‘ کا شکار ہوئے۔ پاکستان کی یورینیم افزودگی پر تعلقات انتہائی خراب ہوئے۔ پھر جب سوویت یونین نے افغانستان پرحملہ کیا، تو ایک بار پھر تعلقات میں بہتری کی جانب ایک عدد اور ’’یو ٹرن‘‘ لیاگیا۔ اس کے بعد جب سوویت یونین تحلیل ہوا، تو تعلقات اس حد تک خراب ہوگئے کہ امریکہ نے پریسلر ترمیم کے ذریعے پاکستان کی امداد بھی بند کردی۔ پھر امریکی صدر بل کلنٹن کے دور میں پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے گئے اور بھارت کے ساتھ نیو کلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کیا گیا۔ نیز بھارت کو جدید اسلحہ بھی فراہم کیا گیا۔ لیکن نائن الیون کے بعد پھر ’’یو ٹرن‘‘ لیا گیا۔ اس موقع پر صدر بش نے پاکستان کو پیغام دیا کہ آپ افغانستان کے حوالہ سے ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ؟ اس وقت پاکستان نے واپس امریکہ سے اپنا ناتا جوڑ دیا او دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’’نان نیٹو‘‘اتحادی کی حیثیت حاصل کی۔ اس حوالہ سے اگر دیکھا جائے، تو پچھلے چالیس سال سے پاکستان امریکہ تعلقات افغانستان کے مرہون منت ہیں۔
اب جبکہ ابوظہبی میں پاکستان کی وجہ سے طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے بعد زیادہ تر مثبت اشارے مل رہے ہیں، لیکن صرف ایک منفی اشارہ یہ ہے کہ ابھی تک طالبان افغان حکومت سے مذاکرات کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ چند دن پہلے افغان امن عمل کے لیے افغانستان کے شورا نے کہا تھا کہ مذاکرات کا اگلا دور سعودی عرب میں ہوگا۔ اب امکان ہے کہ اس میں افغانستان کی حکومت کے نمائندے بھی شرکت کریں،لیکن طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور قطر میں ہوگا اور انہوں نے امریکہ کے ساتھ ’’مذاکرات‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حالیہ مذاکرات کے حوالہ سے معلومات بھی صحیح طورپر افغان حکومت سے شریک نہیں کی جاتی۔ اب پاکستان، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ کامیاب مذاکرات کے لیے امن کے اس عمل کو افغانستان کی حکومت کی ملکیت میں آگے بڑھایا جائے، ورنہ امریکہ کے نکل جانے کے بعد اگر افغانستان میں پھر سے کوئی خانہ جنگی ہوئی، تو لوگ اس کی ذمہ واری بھی پاکستان پر ڈالیں گے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان تو واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اب مزید ’’کسی اور‘‘ کی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ 6000 میل کی دوری سے امریکہ بھی افغانستان میں مزید لڑنا نہیں چاہتا اور اگر لڑنا ہے، تو افغانستان کے پڑوسی طالبان سے لڑیں۔ ان حالات میں اب پاکستان کو ایسی حکمت عملی اپنانی چاہیے کہ بعد میں پاک امریکہ تعلقات کے حوالہ سے کوئی اور’’یو ٹرن‘‘ لینے کی ضرورت پیش نہ ہو۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقات کی ’’یو ٹرن‘‘ پر زیادہ خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ کیوں کہ امریکی صدر نے اس حوالہ سے یہ بھی کہا ہے کہ ملاقاتوں میں دہشت گرد پناہ گاہوں پر بھی بات ہوگی۔ اب اس کا انحصار پاکستان کی ڈپلومیسی کی مہارت پر ہوگا کہ وہ کس طرح دنیا کو اس بات پر قائل کرتی ہے کہ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار سے زیادہ لوگوں کی قربانی دی ہے اور پچھلے 40 سال سے جاری علاقائی جنگی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر بہت برے اثرات پڑے ہیں۔ پاکستانی دعوے کے مطابق اس حوالہ سے پاکستان کو 200 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پاکستان اگر اپنی انتہائی اہم جفرافیائی اہمیت کو استعمال کرنا سیکھ لے اور اگر امریکہ اور دوسرے طاقتور ممالک اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ قلیل المیعاد پالیسی کی بجائے طویل المیعاد پالیسی بنائے اور اس حوالہ سے اگر مخلصانہ کام کرے، تومستقبل میں امریکہ اور دوسرے ممالک کو پاکستان کے حوالے سے ’’یو ٹرن‘‘ لینے کا موقع نہیں ملے گا، اور نہ ہمیں امریکہ اور افغانستان کے سربراہان کے منھ سے طعنے اور الزام تراشی کا عمل ہی دیکھنا پڑے گا۔ بین الاقوامی تعلقات میں ہر ایک ملک اپنے مفادات کا سوچتا ہے، لیکن مفادات کو ایسی خارجہ پالیسی کی اصولی چادر میں بند کیا جاتا ہے کہ آپ اس کے ذریعے کسی دشمن ملک کی زبان کو بھی بند کردیتے ہیں۔

……………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے