335 total views, 1 views today

اکثر جب ہمارے ساتھ دنیاداری کے حوالے سے کچھ برا ہوتا ہے، تو لوگ کہتے ہیں کہ کیا کریں؟ شاید قسمت میں یہی لکھا تھا۔ مثال کے طور پر جب کاروبار میں کوئی بہت بڑے نقصان کا سامنا کرتاہے، یا تعلیمی میدان میں کوئی ذہین اور قابل نوجوان ناکامی کا سامنا کرتا ہے، تو وہ خود بھی اپنے آپ کو اسی ترازو پر تول کر خود کو مطمئن کرتا ہے اور لوگ بھی اسے قسمت کے حوالہ سے دلائل دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عام لوگ قسمت کو تاش کے پتوں جیسا کھیل سمجھتے ہیں، جس کا دار و مدار ہاتھ میں آجانے والے پتوں کی اہمیت پر ہوتا ہے، لیکن مغرب اور مشرق میں بہت سے دانشوروں نے خوش بختی اور بدبختی کی سائنسی وجوہات پر کام کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حوالے سے کتابیں بھی لکھی گئی ہیں اور ان لوگوں کی زندگی پر ریسرچ کا کام بھی کیا گیا ہے جن کو لوگ خوش قسمت یا بدقسمت سمجھتے ہیں۔ اس حوالہ سے برطانیہ کے پروفیسر ’’ریچرڈ وائز مین‘‘ نے ایک تحقیق کی ہے اور سیکڑوں ان لوگوں کی زندگیوں کا انہوں نے مشاہدہ کیا ہے، جن کو کامیاب یا ناکام سمجھاجاتا ہے۔ ’’ریچرڈ وائز مین‘‘ نے ان سائنسی محرکات کو معلوم کرنے کی کوشش کی ہے، جن کی وجہ سے کوئی بدنصیبی کی دلدل سے بچ کر خوش نصیب بن سکتا ہے۔ ان کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ لوگ قدرتی طور پر خوش نصیب یا بدنصیب نہیں ہوتے اور نہ کوئی پیدائشی طور پر خوش نصیب یا بدنصیب پیدا ہوتا ہے۔ خود لوگوں کی سوچ، رویوں اور کرداروں کی وجہ سے کسی کی قسمت اچھی اور کسی کی بری ہوجاتی ہے۔
پروفیسر ریچرڈ وائز مین نے قسمت دار بننے کے لیے اپنی تحقیق سے چار اصول وضع کیے ہیں، جن کو اپنانے سے کوئی اپنی قسمت کو تبدیل کرسکتا ہے۔
پہلا اصول، نئے موقعوں کی پہچان اور ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت۔
دوم، اپنے دل یا اپنی من کی بات سننے کی صلاحیت۔
سوم، کامیابی کی امید رکھنے کی صلاحیت۔
اور چہارم اصول، مثبت سوچ رکھنے کی صلاحیت۔
ماہرِ نفسیات ریچرڈ وائز مین کے پہلے اصول کو میں خود اس طرح سمجھ گیا ہوں کہ خوش نصیب لوگوں میں اس طرح کی اہلیت ہوتی ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے ہاتھ آنے والا کوئی موقع مستقبل میں کتنی حد تک کامیاب ہوسکتا ہے۔ وہ کسی چانس کو غنیمت سمجھتے ہیں اور اس سے وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح کی صلاحیت رکھنے والے لوگوں کو جب آگے بڑھنے کا کوئی موقع مل جاتا ہے، تو وہ بھاگ کر جلدی سے اس پر کام شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کم نصیب لوگ کسی نئے موقع کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں اور نئے مواقع کے حوالے سے پہل کرنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ وہ فوری طور پر کام شروع کرنے سے ڈرتے ہیں۔اس وجہ سے ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا اور بعد میں وہ اپنے آپ کو کم نصیب گردانتے ہیں۔
ایک بات یہاں قابلِ ذکر ہے کہ اس صلاحیت کو موقع پرستی سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ موقع پرستی ایک منفی رجحان سمجھی جاتی ہے۔ موقع پرستی میں اکثر کسی دوسرے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے اور کسی دوسرے کی گردن پر پاؤں رکھ کر کوئی وقتی طور پر آگے بڑھتا ہے، لیکن بعد میں پھر اس کے نقصانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ یہاں پر چانس یا موقع کا مطلب صرف وہ نیا موقع ہے، جس سے کوئی بھی شخص پہل کرکے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اس میں کسی دوسرے کا نقصان نہیں ہوتا۔
خوش نصیب لوگوں میں دوسری صلاحیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی من کی بات سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس پرعمل کرنے سے نہیں ڈرتے۔ ان کو جب کوئی چیز ٹھیک نظر آتی ہے، تو وہ بلا خوف و خطر آگے بڑھتے ہیں۔ اس کے برعکس اپنے آپ کو کم نصیب سمجھنے والے لوگ اپنی بنیادی ضروریات سے آگے سوچنے کے وقت بہت زیادہ وقت لیتے ہیں۔ وہ من کی بات کو فوری طور پر سننے میں ناکام ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے کوئی اور آگے بڑھ کر موقع چھین لیتا ہے۔
خوش نصیب لوگوں کی تیسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر کام میں اپنی کامیابی پر یقین رکھتے ہیں اور کبھی ناکامی کا نہیں سوچتے۔اس طرح کے لوگ اگر عارضی طور پر کسی ناکامی کا سامنا بھی کرتے ہیں، تو اپنے بلند حوصلے کی وجہ سے بعد میں مشکلات پر قابوپالیتے ہیں اور آخرِکار کامیابی ان کی مقدر بن جاتی ہے۔
ریچرڈ وائز مین کی تحقیق کے مطابق خوش نصیب لوگوں کے اس رویے کی وجہ سے اور لوگ بھی ان کے پاس آجاتے ہیں اور ان کے ساتھ سرمایہ کاری وغیرہ میں شریک ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک ایسے آدمی کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں، جو کامیاب ہونے کا تجربہ رکھتا ہے۔ اس کے برعکس کم نصیب لوگ کامیابی کے بارے اتنے پُرامید نہیں ہوتے اور اس وجہ سے اور لوگ بھی ان کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے سے ڈرتے ہیں۔
ریچرڈ وائزمین کی ریسرچ کے مطابق خوش نصیب لوگوں کی چھوتی صلاحیت ان کی مثبت سوچ ہوتی ہے۔ کامیاب بننے کے لیے یہ سب سے اہم صلاحیت ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے اگر شروعات میں کسی برے وقت کا سامنا ہو، تو اپنی مثبت سوچ کی وجہ سے خوش نصیب لوگ نامساعد حالات پر قابو پالیتے ہیں۔ خوش نصیب لوگ کسی برے تجربے سے نہیں ڈرتے، بلکہ وہ اپنی کسی غلطی یا کوتاہی سے سبق سیکھتے ہیں اور پھر نئے تجربے کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ اس کے برعکس کم نصیب یا بدنصیب لوگ پہلے سے اپنے مستقبل کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے جب ان کا کوئی برا تجربہ ہوتا ہے، تو یہ لوگ حوصلہ ہار جاتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ لوگ رُک جاتے ہیں اور اپنی منفی سوچ کی وجہ سے آگے نہیں بڑھتے۔ دوسرے الفاظ میں یہ لوگ کسی چھوٹے نقصان سے اتنا ڈر جاتے ہیں کہ سرمایہ کاری یا کسی دوسرے کام سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہ اس لیے پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ یہ پہلے سے یہ سوچ رکھتے ہیں کہ ان کی قسمت اچھی نہیں۔ اس وجہ سے ہر کام میں آگے بڑھنے سے یہ لوگ کتراتے ہیں۔
قارئین،2018ء کے لیے فوربز میگزین کے مطابق اگر ہم دنیا کے پہلے بیس مال دار ترین شخصیات کے اثاثوں پر نظر ڈالیں، توپچھلی سال اس لسٹ میں “Amazon”کمپنی کا مالک “Jeff Bezos” پہلے نمبر پر ہے، جو 160 بلین امریکی ڈالرز کا مالک ہے۔ اس طرح دوسرے نمبر پر اب “Microsoft” کمپنی کے “Bill Gates” ہیں، جو کہ 97 بلین امریکی ڈالرز کے مالک ہیں۔ اس طرح فیس بُک کے شریک بانی “Mark Zuckerberg” صرف 34 سال کی عمر میں دنیا کے ساتویں مالدار ترین شخص ہیں۔ وہ اس وقت 61 بلین امریکی ڈالرز کا سرمایہ رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کو یہ منزلیں اس لیے ملیں کہ انہوں نے دن رات محنت کی۔ دنیاوی اعتبار کے حوالے سے یہ خوش نصیب لوگ ہیں۔ شائد ان لوگوں میں وہی صلاحیتیں ہیں جن کا ذکر ہم نے ان سطور میں کیا ہے۔ اگر ان جیسے لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے، تومعلوم ہوگا کہ یہ لوگ خوش نصیب پیدا نہیں ہوئے تھے، لیکن ان کی محنت اور حوصلے نے ضرور انہیں کامیاب اور خوش نصیب بنایا۔

………………………………………………………



لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے