413 total views, 1 views today

اس وقت ملک میں طاقت و اقتدار کے چار بنیادی مراکز ہیں۔ ایک فوج جو اپنے اسلحے اور زورِ بازو کی بنیاد پر مقتدر اور فیصلہ کن طاقت ہے۔ دوسری ملکی انتظامیہ، تیسری عدلیہ اور چوتھی طاقت میڈیا کی ہے، جس کو پرانے زمانے میں صحافت کہا جاتا تھا۔ اب اسے میڈیا اور جرنلزم کے نام سے پکار ا جاتا ہے۔ صحافت کا لفظ صحیفے سے ماخوذ ہے اور صحائف اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیا کے ذریعے نازل فرمائے تھے۔ یہ ایک مقدس، قابلِ احترام لفظ ہے اور انسانی ہدایت و رہنمائی اور ذہن و فکر کی تشکیل و تہذیب کا ذریعہ ہے۔
برصغیر کی موجودہ تاریخ میں خاص کر انگریزی دورِ اقتدار میں صحافت کا ادارہ انگریز سے آزادی، حریتِ فکر اور عوام کی ذہنی و فکری رہنمائی کا ادارہ تھا۔ مسلم ملت کی زیادہ تر قیادت و سیادت صحافیوں پر مشتمل تھی۔ کتنے بڑے بڑ ے نام لوحِ ذہن پر ابھر کر سامنے آتے ہیں اور ملک و ملت کے لیے ان کی قربانیوں کی داستانیں ذہن و فکر پر جھلملانے لگتی ہیں۔ کیا لوگ تھے؟ کتنے مخلص تھے؟ علامہ شبلی نعمانی ’’ماہنامہ معارف لکھنؤ‘‘ کے بانی ایڈیٹر ، ندوۃ العلما جیسے مؤقر تعلیمی ادارے کے بانی، سیرت النبیؐ کے مصنف، المامون، الفاروق، نعمان بن ثابت اور اس کے علاوہ اور کتنی کتب کے مصنف و محقق۔
ابولکلام آزاد ’’البلاغ و الہلال‘‘ کے ایڈیٹر، کئی کتابوں کے مصنف، تحریکِ آزادی کے سرکردہ قائد و رہنما جو باوجود کانگرسی ہونے کے گاندھی اور نہرو کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ انگریز سے آزادی کے لیے طویل قید و بند کی صعوبتیں، ذہنی و قلبی تکالیف و صدمات برداشت کرنے والے خوددار، شجاع اور صاحبِ عزیمت انسان، جن کے خیالات، افکار اور طرزِ فکر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن جس کے اخلاصِ ملک و ملت سے بے غرض اور بے لوث تعلق و خدمت سے انکار ممکن نہیں۔

تحریک آزادی کے سرکردہ و رہنما ابولکلام آزاد ’’البلاغ و الہلال‘‘ کے ایڈیٹر تھے۔

علی براداران تو حریت و آزادی کا استعارہ اور پہچان تھے۔ یہ مشہور فقرہ ان کے بارے میں زبان زدِ عام ہوا تھا کہ
بولیں اماں محمد علی کی جان بیٹا خلافت پہ دیدو
محمد علی جوہر جو علی گڑھ کے بی اے اور اکسفورڈ کے فارغ التحصیل تھے۔ انگریز نے اس کی آزادیِ فکر اور انگریز غلامی سے نفرت کی بنیاد پر آئی سی ایس کے امتحان میں محض گھڑ سواری کی بنیاد پر فیل کر دیا تھا۔ اسی مولانا محمد علی جوہر نے پہلے کلکتہ سے انگریزی سہ روزہ ’’کامریڈ‘‘ اور بعد میں دہلی سے ہفتہ وار ’’ہمدرد‘‘ جاری کیا۔ اس شخص کی انگریزی انشا پردازی کا یہ حال تھا کہ وائسرائے ہند کی بیوی اس وقت تک ناشتہ نہیں کرتی تھی، جب تک ’’کامریڈ‘‘ کا مطالعہ نہ کرتی۔یہی وہ صحافی تھا۔ جس نے زیادہ تر وقت جیل میں گزارا۔ ایک جرم میں سزا سے بری ہو کر دوسرے جرم میں گرفتاری اس کے لیے معمول تھی۔ جیل کے اندر جب اس کی بیٹی کی رحلت کی خبر اس کو ملی، تو اس کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ یہ غم، افسوس اور دردِ دل اس نے اپنے ایک نظم میں بیان کیا ہے۔ یہی وہ صحافی ہے کہ جب وہ دیگر ہندوستانی لیڈروں کے ساتھ گول میز کانفرنس کے لیے لندن گئے، تو ذیابیطس کے نتیجے میں کئی امراض کا شکار تھے۔ انتہائی کمزوری اور نقاہت کے ساتھ جب وہ اجلاس میں شریک ہوئے، تو انہوں نے دو ٹوک انداز میں انگریزوں سے مطالبہ کیا کہ ’’یا تو میرے ملک کو آزاد کردو اور یا مجھے ایک آزاد ملک میں قبر کے لیے دو گز زمین دے دو۔‘‘ اور یہ اس کا اخلاص تھا اور اس کی صداقت وا لوالعزمی کا اللہ کے ہاں صلہ تھا کہ اس کو بیت المقدس میں دفن ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔
قارئین، بات صحافت کی ہو رہی ہے۔ جرنلزم کی نہیں۔ حسر ت موہانی بھی علی گڑھ کا گریجویٹ اور ’’اردوئے معلیـ‘‘ کا ایڈیٹر اور تحریک آزاد کا ایسا کارکن و رہنما تھا کہ جیل میں چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے تھے۔ بہترین شاعر اور انشا پرداز، فقیر منش انسان اور صحافت کا درخشاں و تابناک ستارہ۔ مولانا ظفر علی خان روزنامہ ’’زمیندار‘‘ کا ایڈیٹر، فی البدیہہ اور قادر الکلام شاعر، تحریک آزادی کا عظیم رہنما، سید ابو الاعلیٰ مودودی جیسا نابغہ روزگار شخصیت ماہنامہ ترجمان القرآن کا ایڈیٹر اس سے پہلے جمیعت العلما کے اخبارات ’’الجمعیت‘‘ اور ’’روزنامہ مسلم‘‘ کے ایڈیٹر، جس نے اس صدی کے اند ر پیدا ہونے والے تمام مسائل اور تمام موضوعات پر مضامین لکھے اور کتابیں تصنیف کیں۔ ’’تفہیم القرآن‘‘ جیسی عظیم الشان تفسیر لکھی، اپنے دور کے تمام مسائل کا احاطہ کیا اور ایک منظم و فعال جماعت کی بنیاد رکھی۔




روزنامہ زمیندار کا 27 نومبر 1921ء کا شمارہ جس کے ایڈیٹر مولانا ظفر علی خان تھے۔

کس کس کا تذکرہ کروں! ایک کہکشاں ہے ان میں سورج جیسے روشنی اور حرارت پھیلانے والے بھی ہیں۔ چاند کی ٹھنڈی اور فرحت بخش روشنی والے بھی ہیں اور اس کہکشاں کا ایک ایک ستارہ اپنی جگہ اتنا روشن اور تابناک ہے، جس نے ہمارے ماضی کو روشن حال کو قابل فخر اور مستقبل کے لیے رہنمائی کا واضح نقشہ کھینچا ہے۔
اب آئیے حال کی کی طرف جب سے صحافت نے ’’جرنلزم‘‘ کی شکل اختیار کی ہے، تو پھر اس میں سے حق و باطل اور جھوٹ و سچ اور رات اور دن کا فرق وا متیاز ختم ہو چکا ہے۔ بس حق وہ ہے جس میں دو پیسوں کا فائدہ ہو۔ جرنلسٹ کے لیے سیاہ کو سفید اور باطل کو حق ثابت کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔تلبیس ابلیس کا استعارہ اس پر صادق آتا ہے۔ حق و باطل کو گڈ مڈ کرنا اس کا معمول ہے۔ پرنٹ میڈیا یعنی روزنامہ اخبار کیا ہے۔ بس بات کا بتنگنڑ بنانا، رائی کو پہاڑ بنانا، سراب کو چشمۂ صافی ثابت کرنا اس کا وطیرہ ہے۔ معلوم نہیں ایم اے جرنلزم میں ان کو کیا پڑھایا جاتا ہے؟ صحافی جب جرنلسٹ بن گیا، تو ساری پرانی قدریں فرسودہ اور ازکارِ رفتہ قرار دے کر ترک کر دی گئیں۔ نئی قدریں نئے طریقے اور نئے انداز اختیار کیے گئے۔ اب روزنامہ اخبار میں سرخیاں ہی سرخیاں، خبر دو پیسے کی نہیں۔ دو کالمی، تین کالمی ہیڈ لائینز لگا کر چھاپی جاتی ہیں۔ خبریں کم اور نام نہاد پارٹی لیڈروں کے بیانات، واہیات اور مضحکہ خیز پریس کانفرنسیں، خوشامد، تملق او رجھوٹی تعریفوں اور کارناموں پر مشتمل انٹرویوز۔ اب اخبار کا مالک جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتا، وہ بھی اخبار نویس بلکہ ’’سینئر جرنلسٹ‘‘، لکھنے والا اور اخبار ایڈیٹ کرنے والا بھی ’’جرنلسٹ۔‘‘ مالک کی خواہش اور مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ خبر اور بیان کی جگہ اگر پچا س روپے کا اشتہار ملتا ہے، تو وہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
میں چوں کہ تقریباً عرصہ پچاس سال سے روزانہ اخبارات اور رسائل و جرائد کا قاری ہوں۔ خبریں بھی دیکھتا ہوں اور کالم بھی پڑھتا ہوں۔ تقریباً زیادہ تر اخبارات نے اپنے اخباروں میں ایسے لکھنے والے ادیب و شاعر اور کالم نویس رکھے ہیں، جو قومی احساسات و جذبات اور دینی و مذہبی قدروں کی بالکل پروا نہیں کرتے۔ کئی تو ایسے بے باک، بے حیا اور اخلاق و شرافت سے تہی دامن ہیں کہ مسلمان عوام کے مذہبی و دینی جذبات کا برملا اور سرِ عام مذاق اڑاتے ہیں۔ کتنے لبرل، سیکولر اور آزاد خیال کالم نویس نظریۂ پاکستان اور اسلامی ضابطۂ حیات کو پرانے زمانے کے فرسودہ اور ازکارِ رفتہ خیالات و تصورات سمجھتے ہیں۔ کھلم کھلا اخباری صفحات کو اپنے گمراہ کن خیالات کی نشرو اشاعت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کراچی کے ایک کالم نگار جو تلخ و شیرین کے عنوان سے کالم لکھتے تھے، نے سنجے گاندھی کا انتہائی دردناک مرثیہ لکھا تھا۔ اسی اخبار میں علامہ نیا زفتح پوری جو مشہور دہریہ اور ’’ماہنامہ نگار‘‘ کے مدیر تھے اور جن پر اس کے ملحدانہ افکار و خیالات کی بنیاد پر کئی مرتبہ کفر کا فتویٰ لگ چکا تھا، وہ بھی ’’رنگارنگ‘‘ کے موضوع پر ہفتہ وار خرافاتی کالم لکھتے تھے۔ اسی طرح آج بھی کئی روزناموں میں اسی طرح کے لوگ موجود ہیں اور ان کو اس بات کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں کہ یہ مسلمانوں کا ملک ہے اور دین اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور کروڑوں نہیں اربوں لوگ اس ضابطۂ حیات پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ ایک طرف تو یہ لوگ دیگر مذاہب و مسالک کے لیے اتنے وسیع القلب، روادار اور نرم مزاج ہیں کہ ان کے بارے میں کوئی بھی جھوٹی سچی خبرشائع ہو جائے، تو یہ بے چین ہو کر ان کے لیے دہائی دینے لگتے ہیں۔
الیکٹرانک میڈیا کا اپنا ایک الگ انداز ہے۔ وہ تو ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت فحاشی و عریانی پھیلانے کا منصوبہ چلا رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے بھی ان کے لائسنس کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ انٹرٹینمنٹ کا آئٹم ضرور ہوگا اور انٹرٹینمنٹ کا صاف مطلب موسیقی، فحش و عریاں ڈرامے اور دیگر اسی طرح کے پروگرامات و اشتہارات ہوتے ہیں اور جو بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں جیسے پیپسی، کوکا کولا، لکس اور دیگر ادارے ان کو اس شرط پر اشتہارات دیتے ہیں کہ ان میں اس قسم کے فحش و عریاں مناظر ضرور دکھائے جائیں گے۔ ڈراما چل رہا ہو، خبریں سنائی جا رہی ہوں، کھیل کرکٹ یا ہاکی کا میچ دکھایا جا رہا ہو، مختصر لباس میں خواتین کی فحش و عریاں اشتہارات درمیان میں ضرور چلائے جائیں گے۔
الیکٹرانک میڈیا نے عوام کو کنفیوژ اور گمراہ کرنے اور اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے ایک اور انداز ’’ٹاک شوز‘‘ کی شکل میں متعارف کرایا ہے۔ شام ہوتے ہی ہر چینل پر مختلف پارٹیوں کے افراد کو آمنے سامنے بٹھا کر مرغوں کی لڑائی کا تماشا دکھایا جاتا ہے۔ اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ کا استعمال، اخلاق سے عاری لب و لہجہ، تھکا فضیحتی ، گالی گلوچ، اونچی آوازیں اور اکثر دھینگا مشتی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ کوئی بھی دوسرے کی بات نہیں سنتا۔ نہ دلیل و برہان، نہ واقعات و حقائق، بس ہر ایک اپنی اونچی آواز سے دوسرے سے بازی جیتنے کی کوشش کرتا ہے۔ سنجیدہ بحث و مباحثہ، خیالات و افکار کا تبادلہ اور قومی مسائل پر شائستہ انداز میں گفتگو تو قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کالے حرفوں کے لکھنے پڑھنے والے جاہل، قوم کے سامنے اپنے اخلاق و کردار کا ایسا نمونہ پیش کرتے ہیں کہ اخلاق بھی شرم سے منھ چھپا کر بھاگ جاتاہے۔

الیکٹرانک میڈیا نے عوام کو کنفیوژ اور گمراہ کرنے اور اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے ایک اور انداز ’’ٹاک شوز‘‘ کی شکل میں متعارف کرایا ہے۔

ایک مسلمان جو چاہے کتنا ہی اَن پڑھ، جاہل اور نا سمجھ ہو۔ اس کو مسلم معاشرے کے ماحول سے اچھے برے، جھوٹ سچ اور حق و باطل کی تمیز میراث میں ملتی ہے اور اس کے ذہن و فکر میں رَچ بس جاتی ہے۔ موت کے بعد دوبارہ زندگی، قیامت کا ہولناک اور ہیبت ناک دن، سورج کا سوا نیزے پر آنا، تانبے کی گرم زمین ہر شخص کا گلے گلے تک پسینے میں شرابور ہونا، اللہ جل شانہ کا اس کی شان کے مطابق دربار اور ایک ایک بات اور ایک ایک حرکت کا حساب، اعمال کا میزان میں وزن کرنا، اعمال نامہ دائیں یا بائیں ہاتھ میں ملنا، جنت دوزخ کا سامنے لایا جانا، یہ تو ہر شخص کے ذہن و فکر میں راسخ اور پیوست ہے۔ کیا ان سب حقائق کو تسلیم کرکے اس عارضی، وقتی اور چند روزہ زندگی میں اپنا رویہ اور طرزِ عمل درست کرنا ضروری نہیں؟ اور کیا اس مہلت سے فائدہ اٹھانا ہمارے مفاد میں نہیں؟
حزر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے