440 total views, 1 views today

اسلامیہ کالج پشاورکے زمانے کے میرے پیارے دوست اور موجودہ وقت میں ہمارے صحافتی برادری کے ایک سینئر صحافی شاہین بونیری کے ہمراہ میں نے 2003ء میں سوات کے مینگورہ شہر کے ایک امتحانی مرکز میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان دیا تھا۔ امتحان شروع ہونے سے ایک دن قبل میں اور شاہین بونیری پشاور سے مینگورہ روانہ ہوئے۔ سیدو میڈیکل کالج کے ایک ہاسٹل میں ہم نے امتحان کے مختلف پرچے دینے کے لیے ڈیرہ ڈال دیا۔ جنوری کا مہینہ تھا۔ سخت سردی کی وجہ سے ہر وقت بستر اوڑھے، سر پر گرم ٹوپی رکھ کرہم ایک کمرے میں اکٹھے مطالعہ کیا کرتے تھے۔ ہمارے اختیاری مضامین بھی ایک جیسے تھے، یعنی پولی ٹیکل سائنس اور آئینی قانون کے دو مضامین۔ شاہینؔ اس وقت تازہ تازہ سی ایس ایس کا امتحان بھی دے چکے تھے اور اسی وجہ سے انہیں دنیا کے بڑے بڑے ممالک کے آئینوں اور دوسرے سیاسی معاملات پر بڑا عبور حاصل تھا۔ اس وجہ سے اکثر جب میں پرچوں کے حوالے سے ٹینشن میں ہوتا، تووہ رات کو مجھے ایک دو گھنٹے پڑھاتے۔ اس طرح وہ خود بھی اپنی سورۂ یاسین کا گردان کرتے اور مجھے بھی مفت میں تیار نوٹس اور دوسرا مواد ملتا۔ بہرحال ہم دونوں نے پی سی ایس کا امتحان دیا۔ امتحال پاس کیا اور اس وقت کے صوبائی پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین عبداللہ صاحب کے سامنے پیش ہوئے۔ انٹرویو بھی پاس ہوا، لیکن قسمت میں شائد اللہ نے کچھ اور لکھاتھا، اس وجہ سے میرٹ میں نہ آسکے اور افسر شاہی کے قافلے میں شامل نہ ہوسکے۔ اُس وقت کے آئینی قوانین کی کتابوں کے موضوعات جب اب مجھے یاد آتے ہیں، یا اس زمانے کے پرچوں اور کتابوں کو جب میں اب دوبار ہ پڑھتا ہوں، تو ان میں نہ تو افغانستان کے آئین کے بارے میں کچھ مواد موجود تھا اور نہ آئینی قوانین کے پرچے یا پولی ٹیکل سائنس کے پرچے میں افغانستان کے حوالے سے کوئی اہم سوال آتاتھا۔ کتابوں اور پرچوں میں صرف پاکستان، امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس، چائینہ او رجرمنی وغیرہ کے آئینی قوانین اور حکومتی ڈھانچوں کے بارے میں معلومات اور اس حوالے سے مختلف سوالات موجود ہوتے۔ افغانستان کے حوالے سے صرف حالاتِ حاضرہ میں جنگ اور لڑائی کے حوالے سے اور تاریخ کے حوالے سے مختصر معلومات کتابوں میں ضرور ہوتی تھی، اور انہی معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں امن اور جمہوری تسلسل کے حوالے سے روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی تھی، لیکن اب میں حیران ہوں کہ محض پندرہ سال کے بعد افغانستان میں تسلسل کے ساتھ صدارتی انتخابات بھی ہوتے چلے آرہے ہیں اور حال ہی میں بیس اکتوبر کو افغانستان میں ’’اولسی جرگے‘‘ کے انتخابات منعقد ہوئے، افغانستان کو اس انتہائی مختصر عرصے میں ایک ایسا متفقہ آئین ملا جس کو افغانستان کے گرینڈجرگے کی تمام اقوام کے نمائندوں نے 2004ء میں متفقہ طور پر تسلیم کیا اور آخر میں پھر حزبِ اسلامی کو بھی افغانستان کا یہ آئین تسلیم ہے۔ اب کوشش جاری ہے کہ افغان طالبان بھی اس آئین کو تسلیم کرلیں اور افغانستان مزید امن و استحکام کی طرف بڑھے۔
افغانستان کی اولسی جرگے کے ممبران کو لوگوں کی طرف سے ان کو دیا گیا ووٹ آگے منتقل نہیں ہوتا۔ کیوں کہ افغانستان میں صدارتی نظام ہے اور اس نظام میں لوگ براہِ راست صدر کے انتخاب میں حصہ لیتے ہیں۔ اس طرح یہ اولسی جرگے کے ممبران افغانستان کے سینیٹ کے لیے الیکشن میں بھی حصہ نہیں لیتے۔ کیوں کہ افغانستان میں سینیٹ کے ممبران کو انتخابات کے ذریعے منتخب نہیں کرتے بلکہ سینیٹ کے ممبران جس کو ’’مشران کا جرگہ‘‘ کہتے ہیں، کے ممبران کو صدر اور ضلعوں کے کونسلوں کے ذریعے چنا جاتا ہے۔
اولسی جرگے کے بارے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس میں خواتین کی 25 فیصد نمائندگی ہوتی ہے۔ خواتین ممبران بھی براہِ راست ووٹ دینے سے منتخب ہوتے ہیں۔ اولسی جرگے کے کل ممبران کی تعداد 250 ہے۔ افغانستان میں ہر ایک ولایت یا صوبہ کو ایک انتخابی حلقے کے حساب سے شمار کیا جاتا ہے، اور ہر ایک صوبے میں اولسی جرگے کے ممبران کی تعداد بھی آبادی کے حساب سے مختلف ہے۔ مثال کے طور پر کابل میں اولسی جرگے کے کل ممبران کی تعداد 33 ہے، جس میں خواتین کی تعداد 9 ہے۔ اس طرح نمروز صوبے میں جرگے کے لیے ممبران کی کل تعداد 2 ہے، لیکن اس میں پھر بھی عورتوں کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔ وہاں بھی ایک نشست پر عورت کو کامیاب کرانا لازمی ہے۔ پھر اگر خواتین امیدوار وں کی تعداد زیادہ ہو اور عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ ووٹ ڈالے جاتے ہیں، توکامیاب خواتین ممبران کی تعداد مخصوص تعداد سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر 2010 ء کے اولسی جرگے کے الیکشن میں نمروز میں خواتین کے مقابلے میں مردوں نے کم ووٹ حاصل کیا۔ نمبرون اور نمبرٹو پر عورتوں نے مرد امیدواروں سے زیادہ ووٹ لیا تھا۔ اس لیے اسی سال نمروز کی دونوں نشستوں پر دو خواتین نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ افغانستان کے اولسی جرگے میں خواتین کی نمائندگی او ر براہِ راست انتخاب کا عمل پاکستان سے بہت بہتر ہے۔ کیوں کہ پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی نشستیں مخصوص ہیں جو کہ براہِ راست لوگوں کی طرف سے ووٹ کے ذریعے نہیں بلکہ ہر پارٹی کی جیتی ہوئی عام نشستوں کے تناسب کے حساب پر انتخابات کے بعد ان کا حساب ہوتا ہے۔ اس طرح افغانستان کی 250 اولسی جرگے کی نشستوں میں اقلیت کے لیے بھی ایک نشست مختص کی گئی ہے۔
نائن الیون کے بعد افغانستان میں اولسی جرگے کے انتخابات پہلی بار 2005ء میں ہوئے تھے۔ 2010ء میں پھر انتخابات ہوئے، لیکن انتخابی اصلاحات کی وجہ سے مقررہ پانچ سال بعد 2015ء میں انتخابات کا عمل نہ ہوسکا اور اصلاحات کی وجہ سے تاخیر کے بعداُسی سال انتخابات منعقد ہوئے ۔
اولسی جرگے کے انتخابات کی طرح افغانستان میں صدارتی انتخابات بھی ہر پانچ سال بعد ہوتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد پہلی بار صدارتی انتخابات 2004 ء میں ہوئے، جس میں حامد کرزئی نے کامیابی حاصل کی۔ 2009ء کے صدارتی انتخابات میں پھر حامد کرزئی جیت گئے اور2014ء کے صدارتی انتخابات میں اشرف غنی نے کامیابی حاصل کی، لیکن پہلے مرحلے میں اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کیا تھا۔ یہ شرط فرانس میں بھی ہے کہ صدرمنتخب ہونے کے لیے کسی امیدوار کو پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے دوسرے مرحلے میں عوام نے اشرف غنی اور عبداللہ کو پھر ووٹ ڈالا اور دوسرے امیدوار پہلے مرحلے کی الیکشن کی بنیاد پر مقابلے سے خارج ہوگئے۔ پھر بھی اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان واضح اکثریت کا مسئلہ حل نہ ہوا۔ بعد میں عبداللہ عبداللہ کو چیف ایگزیکٹو کا ایک عہدہ دینے پر یہ مسئلہ افہام وتفہیم سے حل کیاگیا اور ملک کو سیاسی بحران سے بچا لیا گیا۔ افغانستان میں اولسی جرگے کے ممبران سے وفاقی وزیر منتخب نہیں ہوتے، بلکہ یہ اختیار صدر کے پاس ہوتا ہے کہ وہ کس کس کو اپنے وزرا کے طور پر لیتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ی ہے کی اولسی جرگہ وزرا کی منظوری دے گا۔ اس طرح سالانہ بجٹ کو بھی اولسی جرگے سے ہی منظور کیا جاتا ہے ۔
جس طرح میں نے شروع میں بتایا کہ کالج کے زمانے میں اور پبلک سروس کمیشن کے امتحانات دینے کے دوران میں ہم نے صرف افغانستان میں جنگوں اور دوسری عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے بارے میں پڑھا تھا، لیکن افغانستان کے آئین اور وہاں جمہوری نظام اور وہاں کے ریاستی ڈھانچے کے بارے میں ہم نے کچھ نہیں پڑھا تھا۔ اگر پبلک سروس کمیشن کے لیے تیاری کرنے کی کتابوں میں امریکہ اور یورپ کے مختلف ممالک کے آئینی نِکات کے حوالے سے مختلف سوالات کا علم موجود ہو اور افغانستان جیسے پڑوسیوں کے بارے میں ہماری کتابوں میں ایسی معلومات نہ ہو، تو یہ ایک طرح سے ہماری سرد مہری کا ثبوت ہے۔ افغانستان اور کابل کو تو ہمارے بڑوں نے بھی بہت اہمیت دی تھی اور یہ کہا گیا تھا کہ کابل پورے ایشیا کا دل ہے۔اگر یہاں پر امن نہیں ہوگا، تو پورے ایشیا میں امن نہیں آئے گا۔
اب بھی وقت ہے کہ ایشیا کے اس دل کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جائے اور اس حوالے سے ہر تاریخی کوتاہی کو درست کیا جائے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ افغانستان کے حالات کا پاکستان کے حالات پربڑا گہرا اثرہے۔ اس ملک کے ساتھ ہمارا 2400 کلومیٹر سے زیادہ طویل سرحدی علاقہ لگا ہوا ہے، تو علمی حوالے سے یا معیشت کے حوالے سے یا سیاسی استحکام کے حوالے سے افغانستان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات میں خرابی کی وجہ بھی افغانستان کے حوالے سے ہماری خارجہ پالیسی ہے۔
اب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پھر ایک خط میں پاکستان سے افغانستان کے حوالے سے مدد مانگی ہے۔ میرے خیال میں یہ بڑا مناسب موقع ہے۔ اب کی بار ہماری حکومت کو خلوصِ نیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

…………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے