583 total views, 1 views today

گل و لالہ کی وادی بحرین، سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے 64 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ وادی حسن و دل کشی اور خوب صورتی میں سوات کے دیگر علاقوں سے نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ سطحِ سمندر سے اس کی بلندی 4500 فٹ ہے اور آبادی قریباً 40 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ یہاں سے مانکیال کی 19 ہزار فٹ بلند چوٹی برف کی سپید چادر میں لپٹی بہت دل کش نظر آتی ہے۔ کوہِ سجن یہاں کا مشہور اور بلند پہاڑ ہے۔ بحرین کی حدود پنجی گرام سے لے کر لامبٹ تک پھیلی ہوئی ہیں۔
بحرین کے ارد گرد بلند و بالا پہاڑ ہیں جن میں مشرقی پہاڑوں کے دامن میں دریائے سوات خوف ناک اور تند و تیز لہروں کے ساتھ بہ رہا ہے۔ بحرین کے ایک طرف مانکیال پہاڑ ہے، تو دوسری طرف جنوباً چمکتا ہوا ایک گاؤں “آئین” ہے۔ اس کے شمال کی جانب سڑک سے چند کوس دور پہاڑوں میں پنجی گرام کا چھوٹا سا حسین اور تاریخی گاؤں ہے جس کا نام بدھ مت کے عہد کی یاددلاتا ہے۔
بحرین کا پُرانا نام “برانڑیال” تھا۔ اس سے قبل اس کا نام “بھونال” تھا جو صدیوں پُرانا نام ہے۔ یہاں کی فطری خوب صورتی، دل کشی اور رعنائی جب بانئی سوات بادشاہ صاحب نے دیکھی، تو دو دریاؤں کے حسین ملاپ کے باعث اُسے بحرین ( دو دریاؤں کی ملنے کی جگہ) کا نام دیا اور یہی اس کی وجۂ تسمیہ بھی ہے۔
دو دریاؤں کے سنگم پر واقع یہ زرخیز وادی سیر و تفریح کی بہترین جگہ ہے۔ جہاں ہر سال گرمیوں میں سیاحوں کا جم غفیر رہتا ہے۔ یہاں سیاحوں کے لیے بہت سی سہولتیں موجودہیں۔ متعدد جدید ہوٹل ہیں جن سے باہر دریا اور علاقے کے مناظر بہت حسین اور دل کش معلوم ہوتے ہیں۔ آمد و رفت کا ذریعہ مینگورہ سے ویگن، بس اور فلائنگ کوچ سروس ہے۔ یہاں تک سڑک پختہ اور رسائی آسان ہے۔ ٹیلی فون کی سہولت موجود ہے اور ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز آسانی سے مِل سکتی ہے۔
شام کے وقت بحرین کا منظر بہت سُہانا اور رومان پرور ہو جاتا ہے۔ وادی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جاتے ہوئے ایک عجیب طرح کی لطافت، اُمنگ اور رومانوی جذبے سے سرشاری کا نازک احساس اُمڈ آتا ہے۔ سرد ہوا کے خوش گوار جھونکے، پانی کی لہروں کی نغمگی اور آب شاروں کا پُر لطف شور ہلکی ہلکی روح پرور موسیقی کو جنم دیتا ہے جس سے انسان پر مدہوشی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ نیم تاریکی میں ڈوبی ہوئی وادئی بحرین شام کے وقت یورپ کے کسی پُر رونق اور حسین بازار کی طرح دکھائی دیتی ہے، کیوں کہ اس وقت پیدل چلنے والے سیاحوں کی گروہ در گروہ ٹولیاں بحرین کے بازار اور اس سے ملحقہ باہر کالام کی طرف جاتی ہوئی سڑک پر دور تک پیدل گھومتی پھرتی ہیں جس سے بحرین میں رونق اور رنگ وبُو کا ایک حسین سماں بندھ جاتا ہے۔




بحرین کا پُرانا نام “برانڑیال” تھا۔ اس سے قبل اس کا نام “بھونال” تھا جو صدیوں پُرانا نام ہے۔ (Photo: Dawn)

بحرین سے بارہ میل کے فاصلے پر ایک اور دل کش مقام “کولالئی” ہے جو سطحِ سمندر سے تقریباً 5000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ جگہ بہت حسین اور پُرسکون ہے۔ یہاں دریاکے کنارے ایک خوب صورت ریسٹ ہاؤس ہے جس سے اردگرد پہاڑوں اور دریائے سوات کا منظر بہت دل فریب اور سحر انگیز نظر آتا ہے۔ قدرت نے یہاں کے مناظر کو بہت سُرور، رعنائی اور دل کشی بخشی ہے جس کی وجہ سے یہاں آکر انسان خود کو جنت کی ایک حسین وادی میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں سیر و تفریح کی بہترین جگہیں مانکیال، پشمال، شیلہ در، ارین، شگئی اور لگن ہیں۔ جہاں سیر کے لیے پیدل جایا جا سکتا ہے۔ بحرین کے قریبی پہاڑ بھی سیر کے لیے دِلکش تفریح گاہوں کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں بحرین کے قریب لبِ سڑک واقع “شِفا” نامی چشمہ بہت مشہور ہے۔ مقامی لوگوں کی روایت ہے کہ اس چشمے کا پانی کئی قسم کی بیماریوں کے لیے شِفا ہے۔
بحرین میں کئی مقامات پر دریائے سوات اور درال ندی پر لکڑی اور رسیوں کے معلق پُل بنے ہوئے ہیں۔ صحت بخش آب و ہوا کی وجہ سے یہ جگہ بہترین تفریح گاہ تصور کی جاتی ہے۔ اس لیے سوات کے دیگر تفریحی علاقوں کی نسبت یہاں سیاحوں کا ہجوم اور رونق زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔ رنگ برنگ لباسوں میں ملبوس سیاح بحرین کے پُر رونق بازار میں مختلف اشیا کی خریداری کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں ہینڈی کرافٹس اور دیگر دُکانوں میں سیاحوں کی دلچسپی کی بہت سی اشیا اور ان کے ذوق کے مطابق طرح طرح کے تحفے تحائف ملتے ہیں، جن میں سواتی کمبل، نمدہ، شال، کُرتے، ٹی کوزی سیٹ، شولڈر بیگ، ہینڈ بیگ، کُشن، ریڈی میڈ سوٹ، زری کی ٹوپی اور دیگر سواتی مصنوعات شامل ہیں۔ یہاں کا خاص تحفہ سیاہ زیرہ اور خالص قدرتی شہد ہے۔
یہاں کے لوگ بہت وضع دار اور انسان دوست ہیں۔ مہمانوں کی عزت کو مقدم سمجھتے ہیں۔ مذہب کے معاملے میں بہت سخت(مسلمان) ہیں۔ یہاں کے باشندے تاریخ کے نامور اور مجاہد بزرگ میاں قاسم باباؒ کی تبلیغی مہم کے نتیجہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔مخصوص علاقائی تہذیب و ثقافت پر عمل پیرا یہ لوگ بہت سادہ اور خوشحال زندگی بسر کرتے ہیں۔ (فضل ربی راہیؔ کی کتاب “سوات سیاحوں کی جنت” سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے