827 total views, 1 views today

حسین سبزہ زاروں، گھنے جنگلات اور برف کی سپید فرغل پہنی ہوئی فلک بوس چوٹیوں کے دامن میں واقع مدین کی وادی، سوات کے مرکزی شہر منگورہ سے 52 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ پختہ سڑک کے ذریعے مینگورہ سے منسلک ہے اور سطحِ سمندر سے اس کی بلندی 4334 فٹ ہے۔

مدین سوات کی حسین ترین وادیوں میں سے ایک ہے۔ جہاں ہرطرف رنگینی، دل کشی، رعنائی اور حُسن کا راج ہے۔ دریائے سوات کے کنارے واقع یہ خوب صورت مقام دلوں میں نئی اُمنگ پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اس وادی کا رُخ کرتے ہیں یہاں کے دل فریب مناظر میں کھو کر رہ جاتے ہیں۔

مدین کی حدود پیا خوڑ (پیا ندی) سے لے کر مشکون گٹ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہاں کی کل آبادی قریباً 50 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی قدیم تہذیب میں رنگے ہوئے ہیں۔ مذہبی لحاظ سے پکے مسلمان ہیں۔ جنگ و جدل کو پسند نہیں کرتے اور امن و آشتی سے رہنے والے یہ لوگ بڑے مہمان نواز ہیں۔
مدین کا پُرانا نام "چوڑڑئی” ہے۔ یہ نام وادئی سوات میں بُدھ مت کے دورِ عروج میں اُسے دیا گیا تھا۔ بعد میں والئی سوات میاں گل عبدالحق جہان زیب نے اُسے مدین کے نام سے تبدیل کیا۔ مدین کے قرب وجوار میں کئی خوب صورت علاقے موجود ہیں۔ جن میں بیلہ، بشیگرام، شنڑکو، تیراتھ، قندیل، دامانہ، آریانہ، مورپنڈئ، چورلکہ، شاہ گرام، الکیش، کالاگرام، شیگل اور گڑھی نامی گاؤں کافی مشہور ہیں۔ ان علاقوں کی خوب صورتی اور حسین مناظر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان میں بعض علاقوں تک پختہ سڑک کی غیر موجودگی نے ان خوب صورت مقامات کو سیاحوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ ان علاقوں میں تیراتھ ایک حسین و جمیل علاقہ ہے جو مدین سے جنوب کی طرف دریائے سوات کی مغربی سمت واقع ہے۔ اس مقام تک جانے والی سڑک دریائے سوات پر بنائے گئے ایک خوب صورت پُل کے ذریعے جرنیلی سڑک کے ساتھ منسلک ہے۔ یہ علاقہ قدیم تہذیب وثقافت،تاریخ و تمدن اور آثارِ قدیمہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پر آثارِ قدیمہ کافی وسیع رقبے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جن پر کچھ عرصہ قبل محکمۂ آثارِ قدیمہ نے باضابطہ طور پر کام شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بُدھ مت سے متعلق بہت سی قیمتی اشیا اور نوادرات برآمد ہوئے تھے۔ یہاں "مولا مولئی” کے مقام پر ایک چٹان پر انسانی پاؤں کے نشانات بھی ملے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مہاتما بدھ کے قدموں کے نشانات ہیں۔ اس کے قریب ایک دوسری چٹان کے متعلق مشہور ہے کہ اس پر گوتم بدھ نے اپنے گیلے کپڑے سُکھائے تھے۔

وادئی مدین کے ایک چھوٹے سے پہاڑی گاؤں کا دلفریب منظر۔ راستے میں ایسے کئی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

جُونو سر، بابو سر، شاہی سر اور میخو سر تیراتھ کی مشہور پہاڑی چوٹیاں اور سیر گاہیں ہیں۔ ان میں جونو سر کی چوٹی کو نمایاں تاریخی مقام حاصل ہے۔ اس کی بلندی دس ہزار فٹ سے لے کر پندرہ ہزار فٹ تک ہے۔ اس کی چوٹی پر سیاحوں کے لیے سیر و سیاحت کی بہت سی دلچسپیاں موجود ہیں۔ یہ پہاڑ قدیم سوات کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں اگر ایک طرف سوات کے قدیم قبائل کی گمشدہ کڑیاں ملتی ہیں، تو دوسری جانب یہاں ایسے آثار اور روایات بھی موجود ہیں جن سے زرتشت مذہب، بُدھ مذہب اور آریا مت (ہندو) کے متعلق گراں قدر معلومات ہاتھ آسکتی ہیں۔ اس پہاڑ میں "سوما” (اسے باٹنی میں اِفیڈرا پلانٹ کہا جاتا ہے اور اس سے ایفیڈرین نامی دوائی کشید کی جاتی ہے) نامی پودا بھی پایا جاتا ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہ ہر قسم کی جسمانی قوت کے لیے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوؤں کی مذہبی کتاب رِگ وید کے مطابق یہ پودا بہت قوت بخش ہے اور قدیم زمانے میں یہ روحانی قوت بڑھانے کا ایک بڑا محرک بھی سمجھا جاتا تھا۔ قدیم کتابوں میں اس پودے کے حیرت انگیز کرشمے بیان کیے گئے ہیں۔ اس پودے سے "سوم رس” نامی شراب بھی نکالی جاتی تھی، جس کا ذکر سوم رس کے نام سے ہندؤں کی قدیم متبرک کتابوں میں تفصیل سے ملتا ہے۔ اس پہاڑ کے متعلق یہ بات بھی کافی مشہور ہے کہ کافروں کے زمانے میں اس کی چوٹی پر دوشیزائیں سوما چننے کے لیے چاند رات میں چلی جاتیں اور وہ یہاں چاند کی روشنی میں ناچتی تھیں اور شراب کشید کرنے کی خاطر اس پودے کو چنتی تھیں۔ اس وجہ سے پہاڑ کی اس چوٹی کا نام جونو سر (یعنی دوشیزاؤں والی چوٹی) پڑ گیا۔
تیراتھ اور مدین کے درمیان تین چار مقامات پر دریائے سوات پر لکڑیوں اور رسیوں کے اشتراک سے خوب صورت پُل بنے ہوئے ہیں جن کے ذریعے متعلقہ علاقوں تک نقل و حمل میں بہت آسانی رہتی ہے۔ ان پلوں سے دریا اور ارد گرد کے دل کش مناظر بہت سُرور انگیز اور فرحت بخش محسوس ہوتے ہیں۔
وادئی مدین سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک خوب صورت وادی چیل ہے جو حقیقی طور پر فردوسِ بریں کا منظر پیش کرتی ہے۔ اس علاقہ کو سوات کوہستان بھی کہا جاتا ہے۔ چیل کی سڑک مدین بازار سے جنوب مشرق کی طرف ایک کچے راستے کی شکل میں الگ ہوئی ہے۔ یہاں ہر طرف سبزے کی بچھی ہوئی چادر، دل کش آبشاروں کا ترنم اور بہتے ہوئے ندی نالوں کا سُرور انگیز آہنگ ایک عجیب سی موسیقی کا سماں پیدا کرتا ہے۔ یہاں آکر انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ جنت کے ایک پُرسکون اور خوب صورت باغ میں گھوم رہا ہو۔ پہاڑوں میں بل کھاتی ہوئی سڑک بہت خوب صورت لگتی ہے۔ سڑک کے سنگ سنگ بہتی ہوئی بشیگرام کی ندی اور اس کے کنارے پر کِھلے ہوئے خوب صورت پھول پُوری وادی کی فضا کو معطر بنا دیتے ہیں۔ ندی کا پانی جب بڑے بڑے پتھروں سے ٹکراتا ہے تو اس سے ہلکی سی پُھوار نکلتی ہے جس کے ساتھ پھولوں کی بھینی بھینی خوش بُو شامل ہو جاتی ہے، تو ساری فضا رنگ و بو کے سحر میں ڈوب جاتی ہے۔ مدین آکر اگر چیل کو نہ دیکھا جائے، تو مدین کی سیر ادھوری رہ جاتی ہے۔




وادئی چیل میں درختوں کے درمیان گزرنے والی سڑک کا من بھاتا منظر۔

وادئی مدین کے بلند پہاڑوں کی چوٹیاں ہر وقت برف سے ڈھکی رہتی ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پہاڑوں نے سپید چادر اوڑھ رکھی ہو۔ یہاں کے ندی نالے اور گن گناتے آبشار کائنات کے فطری حُسن و جمال کے حقیقی مظہر ہیں۔ پہاڑوں کے دامن میں واقع یہ وادی بلاشبہ بہت خوب صورت ہے۔ اس کے ایک طرف دریائے سوات بپھرے ہوئے شیر کی مانند دھاڑتا ہوا بہِ رہا ہے اور دوسری طرف چیل خوڑ دریائے سوات سے جا ملتا ہے۔ چیل خوڑ کو دریائے بشیگرام بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دریا، دریائے سوات کا معاون دریا ہے اور اس کا اصل منبع بشی گرام جھیل ہے۔ چیل اور اس کے ارد گرد علاقوں سے بھی برف کا پانی پگھل کر بشی گرام خوڑ میں شامل ہو جاتاہے۔ مدین میں پُل پر سے دریائے بشی گرام اور دریائے سوات کے اتصال کا منظر نہایت دل کش ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
وادئی مدین میں پھلوں اور دیگر میوہ جات کے بڑے بڑے باغات ہیں۔ جن میں سیب کے باغات کافی مشہور ہیں۔ یہاں جوار، مکئی، آلو، املوک، اخروٹ، آلوچہ اور عناب وغیرہ بھی وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ شہد یہاں کا خاص تحفہ ہے جو یہاں موجود شہد کی مکھیوں کے فارموں سے حاصل کیا جاتا ہے اور سیاح اُسے دور دراز کے مقامات تک بطورِ سوغات لے کر جاتے ہیں۔ مدین بہت سی مفید جڑی بوٹیوں کا مرکز بھی ہے۔ یہاں کے جنگلوں میں بہت سی ایسی کارآمد جڑی بوٹیاں (خصوصاً مشکِ بالا) ملتی ہیں جو مختلف دواؤں میں استعمال ہوتی ہیں۔
وادئی مدین میں ایک بارونق بازار ہے جس میں ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز بآسانی ملتی ہے۔ بازار کا ایک حصہ قدیم آبادی پر مشتمل ہے۔ جہاں بازار سے تنگ گلیوں کی صورت میں راستے گئے ہیں۔ یہ آبادیاں قدیم طرزِ تعمیر کا عجب سا تاثر دیتی ہیں۔ آبادیوں میں جابہ جا لکڑی کے مضبوط شہتیروں اور تختوں کے استعمال سے پوری وادی کو ایک خاص مماثلت اور اچھوتی انفرادیت حاصل ہے۔

مدین کے ایک اور پہاڑی گاؤں کا خوبصورت منظر۔

مدین بازار کا دوسرا حصہ دریائے بشی گرام پُل سے آگے ہے۔ جہاں زیادہ تر جدید ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہیں۔ اس کے ساتھ ہینڈی کرافٹس کی دُکانوں میں قدیم نوادرات اور سوات کے آثار قدیمہ میں نکلنے والی دیگر قیمتی اشیا کی دل کش سجاوٹ نوادرات جمع کرنے والے سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتی ہے۔
دو تین عشرے قبل وادئی مدین میں موسم سرما میں غیر ملکی یورپی سیاحوں کا ہر وقت جم غفیر رہتا تھا۔ سیکڑوں (Overland) پیدل چلنے والے سیاح یہاں مہینوں تک ڈیرا ڈالتے تھے۔ بازار میں مقامی لوگوں کی نسبت ان کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔ وہ یورپ سے براستہ تُرکی، ایران اور افغانستان سے ہوتے ہوئے پاکستان آتے اور یہاں زیادہ عرصہ تک قیام کے متمنی سیاحوں کا بیس کیمپ مدین ہوا کرتا تھا۔ عام طور پر خواتین سیاح مقامی لوگوں سے اُن کے گھروں کا نصف یا پورا گھر کرایہ پر لے کر قیام پذیر ہوا کرتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ مدین کے اکثر مرد، خواتین، بچے اور بچیاں انگریزی، فرانسیسی، جرمنی اور اٹالین زبانیں کافی حد تک سمجھتے تھے۔ اب بھی یورپ سے پاکستان آنے والے سیاح اگر سوات آئیں، تو یہاں کا چکر ضرور لگاتے ہیں۔
مدین میں چیل روڈ پر ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش کا ایک سرکاری فارم بھی ہے۔ جہاں سے چھوٹی مچھلیوں کو افزائشِ نسل کے لیے دریائے اوشو و اتروڑ وغیرہ میں ڈالا جاتا ہے اور بڑی مچھلی کو فروخت بھی کیا جاتا ہے۔
وادئی مدین میں سیاحوں کے لیے بہت سی جدید سہولتیں موجود ہیں۔ جدید ہوٹل ہیں اور ٹیلی فون کا ڈائریکٹ ڈائلنگ سسٹم ہے۔ موسم گرما میں فیملی کے لیے ہوٹلوں کے علاوہ پورے سیزن کے لیے فلیٹ نما مکانات بھی کرایہ پر ملتے ہیں۔یہاں مینگورہ سے ہر پانچ دس منٹ کے وقفہ سے مدین کے لیے فلائنگ کوچ، ویگن اور پرائیویٹ گاڑیاں چلتی ہیں۔ سڑک کی حالت کافی بہتر  ہے، تاہم ضرورت اس اَمر کی ہے کہ مدین کے نواح میں موجود ان خوب صورت علاقوں تک پختہ سڑکوں کی تعمیر ممکن بنائی جائے، جو انتہائی خوب صورتی کے باوجود سیاحوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ (فضل ربی راہی کی کتاب "سوات سیاحوں کی جنت” سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے