543 total views, 1 views today

قدرت نے انسان کی فطرت و جبلت میں ایک اعلیٰ و بر تر ہستی کے ساتھ عاجزی و نیاز مندی، عبادت و پرستش کا ایک داعیہ ودیعت کیا ہے۔ اسی جذبے کے تسکین کے لیے انسان نے اللہ کی ہدایت و رہنمائی کو چھوڑ کر چاند و سورج اور ستاروں کے ساتھ ہر اس چیز کی عبادت و بندگی اور پوجا پاٹ کی ہے جس سے یہ متاثر ہوا، لیکن جدید صنعتی ترقی، ایجادات و اختراعات اور مواصلاتی ترقی سے انسان نے جب نئے دور کا آغاز کیا، تو اس کو وہ پرانے عقیدے، نظریے اور خیالات ازکارِ رفتہ اور فرسودہ نظر آئے۔ اس نے اللہ کی ہدایت کو نظر انداز کرکے اپنے لیے نئے بت ایجاد کیے۔ یہ نئے بت قومیت، جمہوریت اور معیشت کے لیے سرمایہ داری نظام پر مشتمل تھے۔ ان بتوں کی عبادت کے لیے اس نے ایک نیا کلمہ ایجاد کیا۔ وہ کلمہ ’’لاالہ الا نسان‘‘ ہے، یعنی بنیادی اور سب سے بڑا بت خود انسان کو قرار دیا گیا۔ ان میں سے سب سے پہلا بت یعنی قومیت کسی نظریے، عقیدے کی بنیاد پر قرار نہیں دیا گیابلکہ رنگ، نسل، زبان اور خطۂ زمین قومیت کی بنیاد بنا۔ رنگ، نسل، زبان اور جغرافیائی تقسیم کی بنیاد پر بنایا گیا یہ عقیدہ انسانیت کی تباہی و بربادی اور پوری دنیا میں فتنہ و فساد کا ذریعہ بنا۔ اس کی وجہ سے ایک نسل کے لوگوں نے دوسرے نسل کے لوگوں کو اپنا دشمن قرار دیا۔ گورے رنگ کے لوگوں نے کالے اور گندمی رنگ کے لوگوں کو اپنے کمتر جان کر ان کا استحصال کیا۔ ایک زبان بولنے والے دوسری زبان بولنے والوں کے لیے اجنبی اور نامانوس ٹھہرے۔ ایک خطۂ زمین کے لوگوں نے دوسرے خطہ کے لوگوں پر تسلط جما کر ان کو اپنا غلام بنایا۔
اسی قومی برتری کے نظریے کی بنیاد پر کچھ قوموں نے اپنے آپ کو برتر قرار دے کر دوسرے قوموں کو تباہ و برباد اور ملیا میٹ کرنے کی کوشش کی۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں انسانیت کی تباہی و بربادی اور قتل و غارت اسی قومی فتنے کی وجہ سے ہوئی۔ اسی فتنے کی وجہ سے دنیا کی آزاد قوموں کو غلام بنایا گیا۔ ان پر سالہا سال ظلم و ستم ڈھایا گیا۔ ان کے وسائل لوٹے گئے۔ ان کے ذہن و فکر تبدیل کیے گئے۔ غرض یہ کہ قومیت کا یہ نظریہ انسانیت کے لیے ایک عظیم فتنہ ثابت ہوا۔
اسی بنیاد پر انسانیت کو تقسیم در تقسیم کیا گیا۔ انسانیت کو رنگ ، نسل اور زبان کی بنیاد پر ایک دوسرے کا دشمن بنایا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان جب روح کو نظر انداز کرکے صرف مادی ضرورتوں کے لیے نظام تشکیل کرتا ہے اور الٰہی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی عقل اور مادی حواس پر اعتماد کرتا ہے، تو انسان صراطِ مستقیم سے بھٹک جاتا ہے اور نت نئے فتنوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
اب اسی قومیت کے مسئلے کو لیجیے۔ اسلام تمام قومیتوں کو تسلیم کرتا ہے، لیکن ان کی نسلی پہچان کو تعارف اور ایک دوسرے کے پہچان کے لیے ذریعہ قرار دیتا ہے کہ تمام انسانیت کی اصل ایک ہے۔ ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہے۔ ان میں اگر علاقائی اور مختلف زمینی خطوں کی وجہ سے رنگ اور زبان کی تفاوت پیدا ہوئی، تو اس سے انسانیت تقسیم نہیں ہوتی۔ دراصل انسان کی بنیادی ساخت اس کی فطرت اور اس کی ضرورت سب ایک جیسی ہے۔ ان چیزوں میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن البتہ اسلام نے صرف ایک بنیاد پر انسانیت کی درجہ بندی کی ہے کہ تم سب ایک ماں باپ سے پیدا ہوئے۔ تمہاری اصل ایک ہے لیکن تمہارے گروہ اور قبائل صرف تعارف اور پہچان کے لیے ہیں۔ تم میں درجات کے لحاظ سے برتری اور بڑائی صرف ان لوگوں کو حاصل ہے، جو تم میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے یعنی تقویٰ دار ہیں، یعنی صرف تقویٰ ، پاکبازی اور طہارتِ نفس کو عزت و وقار کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
اسی نظریے کی بنیاد پر کالے اور گورے کا فرق و امتیاز ختم کیا گیا۔ روم کے صہیب، فارس کے سلمان، حبشہ کے بلال اور عرب کے قریشی کو بھائی بھائی اور اخوت و محبت کے رشتے میں پرویا گیا۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
اسلام انسانیت کی تقسیم کے لیے نہیں بلکہ جوڑنے کے لیے آیا ہے۔ اسلام نے رنگ، نسل اور جغرافیہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر قومیت کی بلکہ امت کی تشکیل کی۔ جنہوں نے اللہ کی الوہیت، رسولوں کی رسالت اور آخرت کی جواب دہی اور باز پرس کا اقرار کیا، وہ ایک امت قرار دیے گئے اور جنہوں نے اس عقیدے اور نظریے سے انکار کیا، وہ اس امت سے الگ قرار دیے گئے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب اپنے آخری رسول حضرت محمدؐ پر نازل کی اور اس میں انسان کی دنیاوی اور اُخروی فلاح کے لیے دینِ اسلام کا ایک مجرب اور شفا بخش نسخہ تفصیل سے بیان کیا۔ اس میں توحید، رسالت اور آخرت کے عقیدے کی بنیاد پر زندگی گزارنے کا نظام پیش کیا۔ اس دینِ اسلام کو انسانیت کے لیے اپنی نعمت قرار دیا اور اس نعمتِ عظیم پر شکر گزاری اور ممنونیت کے لیے اُخروی زندگی میں شان دار کامیابی کی خوشخبری سنائی اور فوزو فلاح کی بشارت دی۔

…………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے