901 total views, 2 views today

میاں دم وادئی سوات کی ایک سحر انگیز وادی ہے۔ یہ خوش رنگ و گُل رنگ وادی اپنے دل کش مناظر اور معتدل آب و ہوا کی وجہ سے دل و دماغ کو فرحت و آسودگی کا احساس بخشتی ہے۔ خاص مقام "میاں دم” پہاڑوں کی چوٹیوں سے قدرے نیچے آباد ہے جس کو ہل ٹاپ بھی کہا جاسکتا ہے۔
میاں دم، سوات کے مرکزی شہر منگورہ سے 32 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس حسین اور پُرفضا سیاحتی مقام تک پہنچنے کے لیے منگورہ کے جنرل بس سٹینڈ سے فلائنگ کوچ اور پرائیویٹ ٹیکسی مل سکتی ہے۔ میاں دم تک پہنچنے کے لیے آپ دریائے سوات کے سنگ سنگ حسین و دل کش مناظر سے بھری ہوئی سڑک پر سفر کریں گے۔ فتح پور پولیس چوکی سے قریباً دو کلومیٹر پہلے باغ ڈھیرئی چوک آتا ہے جہاں ایک سڑک بائیں جانب باغ ڈھیرئی کے راستے سوات کی دیگر حسین وادیوں روڑینگار، بہا، شکر درہ اور مٹہ وغیرہ کا رُخ کرتی ہے جب کہ مین روڈ پر آگے جاتے ہوئے پولیس چوکی کے قریب ایک سڑک جس پر ہمیں آگے بڑھنا ہے، مشرق کی طرف خم کھا کر ہمیں میاں دم پہنچا دیتی ہے، جو فتح پور سے قریباً 9 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ جگہ سطح سمندر سے 6000 فٹ بلند ہے۔ یہاں کی آبادی قریباً سات ہزار افراد پر مشتمل ہے۔
میاں دم کی حدود میں داخل ہوتے ہی ٹھنڈک اور عطر بیزی کا ایک پُرمسرت احساس رگ و پے میں دوڑ جاتا ہے۔ چڑھائی پر چڑھتے ہوئے جوں جوں آپ میاں دم کے قریب ہوتے جائیں گے، اس خوب صورت وادی اور اس کی خوب صورت عمارات کے دل رُبا مناظر آپ پر اپنا جلوہ ظاہر کرتے چلے جائیں گے۔ میاں دم میں داخل ہوتے ہی وادی میں مشرق کی جانب واقع سرسبز بیل بُوٹوں، گھنے سایہ دار درختوں اور افسانوی ماحول میں رچا بسا پی ٹی ڈی سی کا "میاں دم ریسٹ ہاؤس” آپ کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔




وادئی میاں دم کے ماتھے کا جھومر "میاں دم ریسٹ ہاؤس” (فوٹو: سلمان رشید)

پہلے پہل اس علاقے میں میاں دم کے نام سے کوئی جگہ موجود نہیں تھی۔ جو مقام اب میاں دم کہلاتا ہے، وہ یہاں کے دو مشہور گاؤں گوجر کلے (گوجرو خوڑ) اور سواتی کلے (سواتو خوڑ) کے مابین حدِ فاصل تھا۔ ایک بار یہاں پر سید خاندان کے ایک بزرگ تشریف لائے اور موجودہ بس اڈے کے قریب ایک مکان میں مقیم ہوگئے۔ وہ مختلف بیماریوں اور تکالیف میں مبتلا افراد کا علاج آیاتِ قرآنی کا دَم کرکے کرنے لگے۔ اُن کا نام میاں "عثمان بابا جی” تھا لیکن علاقے کے لوگ احتراماً انہیں میاں جی کہا کرتے تھے۔ میاں جی کے علاج کی شہرت اور تاثیر کے چرچے اس قدر پھیلے کہ رفتہ رفتہ یہ پورا علاقہ ہی "میاں دم” کہلانے لگا۔ یہاں تک کہ اس علاقے کے دوسرے مشہور مقامات بشمول گوجر کلے اور سواتی کلے بھی "میاں دم” کی مرکزی شناخت میں ضم ہو کر رہ گئے۔
جنگلات کی قیمتی دولت سے مالا مال، بلند و بالا پہاڑوں کے طویل سلسلوں کے دامن میں واقع، میاں دم کا پورا علاقہ نہایت صحت بخش، خوب صورت، پُرسکون اور دل کش ہے۔ سیاحوں کی رہائش کے لیے یہاں پر جدید ہوٹل، موٹل اور تین دل کش ریسٹ ہاؤس ہیں جو بہت آرام دہ اور صاف ستھرے ہیں۔ ریسٹ ہاؤسز میں گھنے درخت، کھلے ہوئے حسین مہکتے پھول، ہر طرف سبزے کی بچھی ہوئی دل موہ لینے والی چادر اور تاحدِ نظر پُرلطف نظارے، قابلِ رشک ماحول فراہم کرتے ہیں۔
میاں دم کا خوب صورت بازار قریباً دو درجن دُکانوں پر مشتمل ہے جہاں زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے علاوہ سیاحتی سہولتیں بھی فراواں ہیں۔ دست کاری کی دُکانوں میں قدیم و جدید طرز کی خوب صورت شالیں، روایتی سواتی کشیدہ کاری سے مزین ملبوسات، علاقے کے مخصوص چاندی کے زیورات، منقش لکڑی کا قدیم سامان اور دیگر مقامی مصنوعات سیاحوں کی دل چسپی کا مرکزبنی رہتی ہیں۔ یہاں ٹیلی فون کی سہولت بھی موجود ہے جس کے ذریعے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک فوراً ہی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
میاں دم کی طرف جاتے ہوئے راستے میں برہم پٹی، سینے، نرے تنگے اور خیر آباد کے مقامات آتے ہیں، ان میں "سینے” تاریخی اعتبار سے اہم ہے۔ کیوں کہ یہاں ایک طرف پہاڑوں میں قریباً دو ہزار سال پُرانے آثارِ قدیمہ ہیں۔ اس مقام سے وقتاً فوقتاً پکی مٹی کے بنے ہوئے قدیم برتن اور دیگر نوادرات برآمد ہوتے رہے ہیں۔ "سینے” کے پیچھے ایک پُرانا تاریخی چینہ (چشمہ) بھی ہے جو "شاہ توت چینہ” کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا پانی پہاڑوں میں موجود بہت سی صحت بخش اور قیمتی جڑی بوٹیوں سے کشید ہوتا ہوا آتا ہے، اس لیے مٹھاس کے علاوہ یہ پانی اپنے اندر قدرتی طور پر شِفا بھی رکھتا ہے ۔
میاں دم کے آس پاس پہاڑی مقامات میں مُلا بانڈہ، شام سر اور کافر بانڈہ بھی کافی مشہور ہیں۔ واضح رہے کہ پشتو زبان میں "بانڈہ” یا "بانڈئی” کا مطلب گاؤں یا دیہات ہے۔ ان تینوں میں "شام سر” کی شہرت زیادہ ہے۔ شام پرندے کے علاوہ یہاں کے جنگلوں میں مرغ زریں بھی پایا جاتا ہے نیز ریچھ، بندر، گیدڑ وغیرہ بھی وافر ملتے ہیں۔
شام سر پہاڑ کے آخری حصے کے مغرب کی طرف سڑک کے کنارے پر "برہم پٹی” نامی گاؤں آباد ہے۔ یہ اور اِس کے ارد گرد کا علاقہ بدھ مت کے آثار سے مالا مال ہے۔ برہم پٹی سے مدین کی طرف جاتے ہوئے ٹانگو کے مقام پر سڑک سے نیچے مہاتما بُدھ کا ایک مجسمہ ہے۔ مجسمے کے دائیں ہاتھ میں ایک ٹہنی ہے جس کے کنارے پر ایک پُھول ہے۔ پھول مجسمے کے چہرے کی طرف جُھکا ہوا ہے اور دائیں ہاتھ ہی کی ایک انگلی پھول کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ لوگ اس مجسمے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دور دراز کے مقامات سے آتے ہیں۔ ٹانگو سے مدین تک پیدل بھی جایا جا سکتا ہے۔
میاں دم کے چاروں طرف اونچے برف پوش پہاڑ سر اُٹھائے کھڑے ہیں۔ اس کی بائیں جانب چھوٹا سا گاؤں "گوجر کلے” سطحِ سمندر سے سات ہزار فٹ کی اُونچائی پر واقع ہے۔ اس کے عین سامنے "گنہگار پہاڑ” کا طویل برف پوش سلسلہ نظر آتا ہے۔ جس کی صحیح وجۂ تسمیہ تو معلوم نہیں، البتہ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ شاید کسی خطا کی پاداش میں یہ پہاڑ سارا سال برف تلے دبا رہتا ہے۔

سردی کے مہینوں میں جب وادی برف کی سفید چادر تان لیتی ہے۔ (Photo: Pakistan Tours Guide)

میاں دم کے عین وسط میں صاف و شفاف پانی کی دو ندیاں گن گناتے جھرنوں اور شور مچاتی آب شاروں کے ساتھ بہ رہی ہیں۔ ان ندیوں کا سرچشمہ، پہاڑی چوٹیوں پر مستقل جمی ہوئی برف ہے، جس میں مختلف پہاڑی چشمے بھی اپنا حصہ ڈال دیتے ہیں۔ دُور سے دیکھنے پر یہ برف، بادلوں اور سُورج کی شعاعوں کے حسین امتزاج سے نہایت خوب صورت اور دل آویز منظر کو جنم دیتی ہے۔ خاص کر شام کے ملگجے اندھیرے میں یہ رنگ و روپ مزید نکھر آتا ہے، جس کی وجہ سے پوری وادی پر ایک حسین و جمیل طلسماتی سرزمین کا گمان گزرنے لگتا ہے۔ یہاں کا درجۂ حرارت جون جولائی کے مہینوں میں 30 سے زیادہ نہیں ہوتا۔
میاں دم کے پہاڑوں پر سرسبز و شاداب دشت واقع ہیں۔ تاہم سیاحوں کی وہاں تک رسائی ذرا مشکل ہے۔ اُن تک پہنچنے کے لیے دشوار گزار پہاڑوں پر چڑھنا پڑتا ہے۔ یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ سوات کی مشہور بشیگرام جھیل تک جانے کے لیے میاں دم کے پہاڑی راستوں کے ذریعے باآسانی پہنچا جا سکتا ہے۔ عام طور پر سیاح، بشیگرام تک جانے کے لیے مدین میں علاقہ "چیل” کی طرف سے روانہ ہوتے ہیں جو طویل اور دشوار گزار راستہ ہے۔ اس کے مقابلے میں میاں دم کا پہاڑی راستہ بہت آسان ہے۔
میاں دم میں خالص سواتی شہد اور موسمی پھل کافی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ مشروم یعنی کھمبی یہاں کی خاص پیداوار ہے۔ یہ علاقہ مختلف قیمتی اور نادر و نایاب جڑی بوٹیوں کے لیے بہت شہرت رکھتا ہے۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ مخصوص پشتون تہذیب پر عمل پیرا یہ لوگ بہت سیدھی سادی زندگی گزارتے ہیں۔ (فضل ربی راہیؔ "سوات سیاحوں کی جنت” سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے