491 total views, 2 views today

برمکّی خاندان خلافتِ عباسیہ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل رہا اور اسی خاندان کے ایک سپوت یحی برمکی نے عباسی خاندان کو انتظام حکومت چلانے میں ہر قسم کی کمک فراہم کی۔ برمکیوں سے عباسیوں کا رشتہ آخر تک کیسا رہا، یہ تاریخ میں سر کھپانے والا ایک الگ موضوع ہے، لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اگر برمکی نہ ہوتے، تو شائد بنو عباس کبھی بھی دو صدیوں سے زیادہ حکومت نہ کرتے۔
یحی برمکی، خلیفہ ہارون رشید کا انتہائی معتمد وزیراوراستاد تھا۔ خلیفہ اس کے ساتھ رازو نیاز رکھتا تھا، یہاں تک کہ حکومتی اور خلیفہ کے ذاتی معاملات میں بھی اگر کوئی بہت سنجیدہ نوعیت کا مسئلہ درپیش ہوتا، تو بھی یحی برمکی قصر خلافت میں موجود رہتا۔ ایک دفعہ خلافت کی معاشی حالت انتہائی ابتر ہوگئی، یہاں تک کہ اشیائے خور و نوش کی قلت تک بات آگئی۔ ہارون دربار میں افسردہ اور غیر فعال بیٹھا کسی گہرے سوچ میں غرق تھا کہ اچانک یحی برمکی کی آمد ہوئی۔ ہارون نے جب ان کو دیکھا تو اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا اور بغیر کسی حیل و حجت کے قحط زدہ ملت کا رونا رونے لگا۔ یحی نے جب خلیفہ کی پریشانی دیکھی، تو وہ زیر لب مسکرایا اور خلیفہ سے مخاطب ہوکر کہنے لگا: ’’یہ تو بہت آسان سا معاملہ ہے، بس آپ میری ایک کہانی سنیے اور اس کے بعد خود کو، اپنے خاندان کو، دربار کے وزرا کو اور خلافت سے منسلک تمام افراد کو کام پر لگایئے۔‘‘ خلیفہ تو پہلے بہت حیران ہوا، لیکن بعد میں فوراً اس کی کہانی سننے پر آمادہ ہوا۔
یحییٰ برمکی کہنے لگا: ’’ایک جنگل میں بندر اپنے ایک نومولود بچے کے ساتھ زندگی بسر کر رہا تھا۔ ایک دن بندر کو ایک ضروری کام کے سلسلے میں جنگل سے بہت دور جانے کی ضرورت پیش آئی۔ بندر اپنے نومولود بچے کو ظاہر ہے اتنے طویل سفر پر نہیں لے جاسکتا تھا، اس لیے کافی سوچ بچار کے بعد اس نے اپنا بچہ جنگل کے بادشاہ شیر کے حوالے کیا اور اس سے وعدہ لیا کہ جب وہ واپس آئے گا، تو شیر اس کو اس کا بچہ صحیح سلامت واپس دے گا۔ شیر اور بندر کے درمیان معاہدہ ہوا اور بندر دل پر پتھر رکھ کر عازمِ سفر ہوا۔ وقت گزرتا رہا، بندر کا بچہ اور شیر ایک دوسرے سے کافی مانوس ہوگئے۔ یہاں تک کہ شیرہر وقت اپنی پیٹھ پر بندر کا بچہ لیے گھومتا رہتا۔ جنگل کے دوسرے جانور بھی یہ پورا کھیل دیکھتے رہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی بندر کے بچے کو وہ عزت،مقام اور اہمیت دیتے جس کا وہ ہر گز حق دار نہ تھا۔ ایک دن شیر بندر کے بچے کو پیٹھ پر بٹھائے جنگل میں ٹہل رہا تھا کہ آسمان سے ایک چیل آیا اور پلک جھپکنے کی دیر میں بندر کا بچہ اُڑا کر لے گیا۔ شیر آسمان کی طرف منھ اُٹھائے بہت دوڑا، چھنگاڑا لیکن بندر کا بچہ چیل کے پنجوں میں تھا، جہاں شیر کی پہنچ نہیں تھی۔ شیر بے بسی کے عالم میں آہیں بھر رہا تھا اور پہلی دفعہ اس کے دل میں ایک عجیب بات آئی کہ کاش، میں زمین سے چند گز اوپر اُڑ سکتا، تو آج چیل کو وہ سبق سکھاتا کہ وہ زندگی بھر یاد رکھتا۔ چند دنوں بعد جب بندر آیا، تو اس نے اپنا بچہ مانگا۔ شیر نے اپنی بے بسی ظاہر کی جس پر بندر کو یقین نہ آیا۔ پھر شیر نے ایک بہت ہی زبردست بات کی: ’’دیکھو میں زمین کا بادشاہ ہوں اور زمین پر کبھی کسی نے اُس کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہیں کی، لیکن اس کو اُٹھایا آسمان کے بادشاہ نے ہے اور میری وہاں کوئی پہنچ نہیں۔‘‘
یہ آخری جملہ کہہ کر یحی برمکی خاموش ہوا اور خلیفہ کی طرف دیکھ کر کہنے لگا: ’’محترم امیرِ ملّت، یہ مسائل اللہ کی طرف سے ہیں۔ ہم اگر آج پوری امت کو گھمبیر مسائل میں دیکھ رہے ہیں، تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم ایسے ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جائیں۔ ہم اگر حقیقت میں ان تمام مسائل کا حل چاہتے ہیں، تو ہمیں دو انتہائی اہم کام کرنا ہوں گے۔ پہلا کام، ہمیں زمین پر انسانوں کی طرح جینا ہوگا۔ ہم دنیا کی اس عارضی زندگی میں اپنے اوقات بھول جاتے ہیں، یہاں تک کہ ہم خود کو پہچانتے تک نہیں کہ ہم کون ہیں اور ہماری اصلیت کیا ہے؟ ہم اگر حقیقت میں ان تمام بحرانوں کا جن کی وجہ سے قصرِ خلافت کا ماحول تناؤ میں ہے، حل چاہتے ہیں، تو ہمیں جینے کا انداز بدلنا ہوگا۔ ہم بادشاہ نہیں، اس زمین پر ہم سے پہلے جو عظیم لوگ گزرے ہیں ان کی زندگی میں سادگی اور عاجزی تھی۔ ہم جب تک خلیفہ سے لے کر عام انسان تک کا یہ ’’گیپ‘‘ ختم نہیں کریں گے، تب تک ایسے ہی ہم ہر چیز کا رونا روئیں گے۔ ہمیں یہ حقیقت ماننی ہوگی کہ ہماری یہ زندگی عارضی ہے اور ایک دن ہمیں پلٹ کر یہاں سے کوچ کر جانا ہے۔ ہمیں سجدہ سیکھ کر اللہ کی طرف رجوع کرکے اس سے مدد مانگنی ہوگی اور اپنی زندگی کا ہر عمل اس کی مرضی کے تابع بنانا ہوگا۔ ہم ایسا کریں گے، تو کبھی کوئی پریشانی ہمیں رونے پر مجبور نہیں کرسکے گی۔ دوسرا کام، ہمیں کم از کم یہ حقیقت ماننی پڑے گی کہ اللہ کے ہر حکم اور ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ وہ ہمیں بحرانوں میں مبتلا اسی لیے کرتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف رجوع کریں اور رجوع کے بعد یہ تسلیم کرلیں کہ وہی مالکِ کل ہے اور ہم اس کے بندے ہیں۔ زوال سے مبرا بادشاہی صرف اسی کا حق ہے۔ آپ کی یہ پریشانی اس وجہ سے ہے کہ آپ ایک غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ آپ ہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے۔‘‘
کہانی اور اس کے بعد یحی برمکی کی باتیں سننے کے بعد خلیفہ اٹھا اور کام پر لگ گیا۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ حالات اسی نہج پر آگئے جہاں پر ہونے چاہیے تھے۔
قارئین، ہم اگر دیکھ لیں، تو پاکستان بھی پچھلے کئی عشروں سے بحران میں مبتلا ہے، لیکن آج تک کسی یحی برمکی نے بھی بادشاہِ وقت کو یہ سمجھانے کی کوشش نہیں کی کہ یہ مسائل کیوں روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ اس حقیقت سے ہم غیر ارادی طور پر انکاری ہیں کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام ہی ان تمام مسائل کا حل ہے۔ اللہ کی طرف رجوع اور سجدہ ریز ہونا اس عارضی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم اصول ہے۔ جب تک قومیں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہیں، ان پر بحران اگر آبھی جائیں، تو ان کا حل آسان ہوتا ہے۔ ہم نہ خود اپنی اصلیت دنیا کے سامنے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ یہ حقیقت کھلے عام مانتے ہیں کہ اللہ ہی ہمارا مالک ہے، اور ہم اس کے بندے ہیں۔ اسی بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے تمام مسائل کا حل اللہ ہی سے مانگیں۔ یہ دنیاوی بحران عارضی ہوتے ہیں۔ ان میں اللہ کی طرف سے واضح پیغام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہر حال میں پرکھ رہا ہوتا ہے کہ ان پر جب امتحان آتے ہیں، تو ان کا رویہ کیا ہوتا ہے؟ آج اگر ہم دیکھ لیں، تو مذہبی مسائل پر بھی ہم ’’من حیث القوم‘‘ خاموش ہوجاتے ہیں اور ریاست پر بھی عام لوگوں کا اعتماد ختم ہوچکا ہے۔ عام آدمی کی زندگی اتنی اجیرن بن چکی ہے کہ اس کو اپنی بقا کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آرہا اور ستم ظریفی یہ ہے کہ حکمران نہ تو یحی برمکی جیسے لوگ ہیں اور نہ ہارون رشید جیسے۔ ہم اگر ان تمام مسائل کا حل چاہتے ہیں، تو ہمیں ایک آسان سے حل کی طرف جانا ہوگا۔
ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور اس سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگنی ہوگی۔ کیوں کہ ہمارے اجتماعی گناہوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہوچکا ہے کہ جس کی وجہ سے ہم رجوع کی طرف سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہم لاکھ کوشش کریں، لاکھ ہاتھ پاؤں اِدھر اُدھر ماریں، لیکن کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ ہم اگر حقیقت میں پاکستان کو تاقیامت اسلام کا قلعہ بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں اللہ کا نظام ہی نافذ کرنا ہوگا۔ ہمارے حکمرانوں، وزیروں اور مشیروں کو سادہ زندگی گزارنی ہوگی اور عوام کو بھی اس جانب راغب کرنا ہوگا۔
ہم اس آسان حل کی طرف بڑھیں گے، تو ہمارا نام ونشان رہے گا، ورنہ زندگی بھر ایک کے بعد ایک بحران ہماری طرف بڑھے گا۔

………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے