1,016 total views, 1 views today

9 نومبر کو یعنی آج کے دن پاکستانی قوم اپنے قومی شاعر، عظیم مفکر و فلسفی، عاشقِ رسولؐ اور اتحاد بین المسلمین کے داعی حضرت علامہ محمد اقبال کا 142واں یوم پیدائش منارہی ہے۔ علامہ کی ہمہ جہت شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ بڑے بڑے علما، فضلا اور مفکرین نے ان کی علمی حیثیت اور فکری سمت کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ علامہ نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی۔ آپ مسلمان کو ایک ایسے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے جو باقی دنیا کے لیے نمونہ ہو۔ علامہ نے اپنے کلام میں ایک صاحبِ کردار مسلمان کو ’’شاہین‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔ یہ صرف شاعرانہ خیال آفرینی نہیں بلکہ اسلامی فقر کی جتنی بھی خصوصیات ہیں، وہ سب کی سب اس پرندے میں پائی جاتی ہیں۔ اقبال نے ایک معترض کے جواب میں شاہین کی مندرجہ ذیل پانچ خصوصیات گنوائی ہیں:
1:۔ وہ بلند پرواز کرتا ہے۔
2:۔ وہ کبھی اپنا آشیانہ نہیں بناتا۔
3:۔ دوسروں کا ماراہوا شکارنہیں کھاتا۔
4:۔ وہ اپنے شکار سے کل کے لیے کچھ اٹھا نہیں رکھتا۔
5:۔ وہ کم آمیز ہوتا ہے۔
ذیل میں ہم علامہ (مرحوم) کے کلام کی روشنی میں مذکورہ بالاخصوصیات پر روشنی ڈالتے ہیں۔
1:۔ بلند پروازی:
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کی گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاروں کے چٹانوں میں
تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
کہ ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
2:۔ کبھی آشیانہ نہیں بناتا:
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زروِ بازو کا
کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی
3:۔ دوسروں کامارا ہوا یا جھوٹا شکار نہیں کھاتا:
حمام وکبوتر کا بھوکا نہیں میں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
4:۔ وہ اپنے شکار سے کل کے لیے کچھ اُٹھا نہیں رکھتا۔
جھپٹنا پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
5:۔ خلوت نشین یا کم آمیز ہوتا ہے:
بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو
ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ
بلند پرواز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ مسلمان نوجوان سے یہ اُمید رکھ کر کہتے ہیں کہ
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اُن کو اپنی منزل آسمانوں میں
قارئین، آخر میں علامہ محمد اقبال (مرحوم) رحمۃ اللہ علیہ کی ایک مسلمان نوجوان کے لیے تمنا اور دعا ملاحظہ ہو جسے انہوں نے ایک قطعہ کی شکل میں پیش کیا ہے:
جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو مری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کردے
اضافی
وہ شکست خوردہ شاہیں جو پلا ہو کرگسوں میں
اُسے کیا خبر کہ کیا ہے رسم و راہ شہبازی

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے