610 total views, 1 views today

جب سے بی جے پی نے دہلی میں مرکزی حکومت اور ہندوستان کے بیشتر صوبوں کے اقتدار پر قبضہ کیا ہے، ہزاروں سال پرانی گنگا جمنی تہذیب کے خلاف ہندوستان کے مسلمانوں میں خوف وہراس پیدا کیا جا رہا ہے۔ حالاں کہ ضرورت تھی کہ ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کے نعرہ کو عملی جامہ پہنایا جاتا۔ بجلی، پانی اور کپڑا مکان جیسے عوامی مسائل کو حل کیا جاتا۔ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے کم از کم گفتگو ہی کی جاتی۔ خواتین کے ساتھ سچی ہمدردی کا نمونہ پیش کرکے ان کو روزگار مہیا کرایا جاتا۔ ملک کو سٹے بازاروں سے پاک کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اُن شراب خانوں کو بند کرنے کی کوشش کی جاتی، جہاں ہندوستانی قوانین کی دھجیاں اڑا کر صحت کے لیے انتہائی نقصان دِہ شراب تیار کی جاتی ہے۔ عیاشی کے اڈوں کو بند کرنے کے فیصلے کیے جاتے۔ غنڈوں کو سلاخوں کے پیچھے بند کیا جاتا۔ اُن لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی جو چند پیسوں کی خاطر لوگوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ رشوت خوری، دھوکا دہی، کھانے کی اشیا حتی کہ دواؤں میں ملاوٹ، چوری، ڈکیتی اور شراب نوشی جیسے مسائل پر پہلے توجہ دی جاتی۔
حال ہی میں کرناٹک کے ضمنی الیکشن میں شکست سے دوچار بی جے پی حکومت نے اسی سال چھتیس گڑھ، راجستھان، مدھیہ پردیش، تلنگانہ اور میزورم میں ہونے والے الیکشن، نیز 2019ء کے پارلیمنٹ کے الیکشن میں جیت کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی امن وسلامتی کی فضا میں گھناؤنے بادلوں کو منڈلانے کی غرض سے مسجد و مندر کے مسائل کو اٹھانا شروع کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے قضیہ پر بحث کو آئندہ سال تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے، جس سے شر پسند عناصر کو بہت دھچکا لگا ہے۔ مودی حکومت نے جو بڑے بڑے وعدے کرکے 2014ء کے الیکشن میں جیت حاصل کی تھی، اب اُن کا حساب دینے کا وقت آگیا ہے، جب کہ اُن وعدوں کو پورا کرنا اُن کے لیے ممکن ہی نہیں جیسا کہ اُن کے ایک وزیر نے خود اس کا اعتراف کیا ہے۔ لوگوں کی توجہ اُن وعدوں سے ہٹانے اور مسلمانوں کے خلاف ہندؤوں کے جذبات کو ابھارکر چھتیس گڑھ، راجستھان، مدھیہ پردیش کے سیمی فائنل اور 2019ء کے فائنل میں جیت حاصل کرنے کے لیے مسجد و مندر کے مسائل کو اٹھا یا جارہا ہے۔
اسی ایجنڈے کے پیش نظر تاج محل کی شاہ جہانی مسجد میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ حالاں کہ اس مسجد میں کئی سو سال سے پانچوں وقت کی نماز کے ساتھ جمعہ، عیدین اور نمازِ تروایح پابندی سے ادا کی جاتی رہی ہے۔ شاہجہاں کے زمانہ میں متعین شاہی امام کی تنخواہ صرف پندرہ روپیہ تھی، ہندوستان کی حکومت آج تک وہی پندر روپیہ دیتی آرہی ہے۔ غالباً حکومت کی جانب سے ملنے والی یہ سب سے کم تنخواہ ہوگی۔ حالاں کہ حکومت کو تاج محل سے کروڑوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ حکومتِ ہند صرف مسجد کی صفائی کا انتظام کرتی ہے، باقی کام حتی کہ مسجد میں صفوں کا انتظام بھی خود مقامی لوگ اپنے تعاون سے کرتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ صفائی کرنے والے ملازم کی تنخواہ پندر ہزار وپیہ جب کہ شاہی امام کی تنخواہ صرف پندرہ روپیہ!

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے