341 total views, 1 views today

تقسیمِ ہند سے پہلے ایک علاقے میں ہندو مسلم فساد ہوا، جس میں مسلمانوں کو ہندوؤں پر غلبہ حاصل ہوا۔ اس پر ہندوؤں کے مسلمہ قائد اور رہنما گاندھی جی نے یہ تبصرہ کیا کہ ’’مسلمان غنڈے ہیں اور ہندو بزدل۔‘‘ اگر گاندھی جی کے اس قول کا اطلاق ہم آج کے پاکستان میں عوام اور نوکر شاہی کے درمیان تعلق اور سلوک پر کریں، تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ عوام کو اپنے حقوق، عزتِ نفس اور حیثیت کا شعور نہیں اور نوکر شاہی ایک ظالم اور بد معاش نوکر کا کردار ادا کررہی ہے۔
معاشرے کے اندر رہتے ہوئے اس حقیقت کا بار بار مشاہدہ اور تجربہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے سرکاری اہل کار اپنی حیثیت کو یا تو سمجھتے نہیں یا جان بوجھ کر اس کو فراموش کیا ہے، یا ان کے تربیتی اداروں میں ان کو اس بات کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے کہ عوام پر حکمرانی کرنی ہے۔ عوام کو اپنا غلام اور رعایا سمجھ کر ان کو دبا کر رکھنا ہے۔ اس حقیقت کا مشاہدہ ایک دن مجھے اس طرح ہوا کہ سوات میں فوجی حکمرانی کے دوران میں ایک سیکورٹی اہلکارچیک پوسٹ پر لوگوں سے شناختی کارڈ طلب کر رہا تھا۔ ہر آدمی اپنا اپنا شناختی کارڈ پیش کر رہا تھا۔ ایک نوجوان کو جیب سے شناختی کارڈ نکالنے میں ذرا دیر ہوئی، تو سیکورٹی اہل کار کے یہ الفاظ آج تک میرے حافظے سے محو نہیں ہوئے: ’’کیا میں تیرے باپ کا نوکر ہوں کہ تیرے انتظار میں کھڑا رہوں گا؟‘‘ــیعنی اس سیکورٹی اہلکار کو اپنے نوکر ہونے کا احساس نہیں تھا اور نہ اس بات کا شعور کہ میں قومی خزانے سے تنخواہ لیتا ہوں اور یہ عوام جن پر میں حکم چلا رہا ہوں محنت مزدوری، تجارت، کاروبار اور مختلف قسم کی محنت و مشقت کے ذریعے قومی خزانے میں ٹیکس جمع کر تے ہیں۔
اگر آپ کو کبھی کسی کام کے لیے پولیس سٹیشن یا چوکی میں جانا پڑا، تو پولیس کے ادنیٰ سپاہی کے انداز و اطوار، لہجہ اور سلوک دیکھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ ان کو پولیسنگ کی تربیت تو درکنار انسانیت اور شرافت کی بھی تعلیم نہیں دی گئی۔ ایک مرتبہ ایک کام کے سلسلے میں ڈی سی آفس کے ایک اہل کار سے واسطہ پڑا۔ اس نے مجھے اُس کام کے سلسلے میں جو آسان طریقہ اور نسخہ بتایا، اُس کے بجائے میں نے مشکل اور پراسس کے مطابق طریقۂ اختیار کیا۔ اس کے بعد جب میں اس سے ملنے جاتا، تو اس کی میز کے سامنے اور اس کے سر پر کھڑا ہونے کے باوجود وہ مجھے آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی زحمت گوارا نہ کرتا۔ ایک دن اس طرح کے سلوک پر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور میں نے اس سے کہا کہ میں اس ملک کا ایک عمر رسیدہ شہری اور تمہارے دادا کی عمر کا ہوں، لیکن تمہیں تمہارے گھر والوں نے اتنی تمیز نہیں سکھائی کہ اپنے دادا کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں؟ اپنے سے بڑی عمر کے بزرگوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ روا رکھا جاتا ہے؟
آپ ڈائریکٹریٹ اور سیکر ٹریٹ کے کسی بھی سرکاری محکمے کے دفتر میں جائیں، تو آپ کو بہت سے دفاتر خالی کرسیوں کے ساتھ ملیں گے، لیکن اگر کسی ایک دفتر میں کوئی اہل کار ملا بھی تو وہ آپ کو ٹرخانے اور چلتا کرنے کا گر خوب جانتا ہے۔ یہ ضلعی محکمے اپنی جگہ ایک یونین ، ایک جھتا اور ایک گروہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان محکموں میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو آپ کو آپ کے کام کے سلسلے میں مقررہ رقم کی ادائیگی کا طریقہ بتا تے ہیں۔
اس طرح ترقیاتی سکیموں سے متعلق اداروں کا اپنا اندازِ کار ہے۔ ان کے اہلِ کار ہفتے میں بمشکل تین دن دفتر میں حاضری دیتے ہیں۔ جمعہ کے دن صبح سے یہ اپنی ہفتہ وار تعطیل شروع کرتے ہیں اور پیر کے دن حاضر باش اہل کار ڈیوٹی پر آنے کی تکلف کرتا ہے، وہ بھی گیارہ بجے کے بعد ۔ اگر آپ کو بیک وقت تین چار اہلکاروں سے کام ہے، تو کبھی ایک نہیں، تو کبھی دوسرا موجود نہیں۔ اس طرح آپ کے کام میں مہینے لگ سکتے ہیں۔ رشوت ، کمیشن اور عوام کے نیازمندانہ سلوک کے یہ عادی ہیں اور یہ چیزیں ان کے لیے بالکل ’’حق الخدمت‘‘ کا درجہ رکھتی ہیں۔ لیکن عوام بھی کالانعام ہیں۔ ایک تو ان میں اپنی حیثیت اور عزتِ نفس کا شعور نہیں۔ دوسرا، وہ غلط اوردو نمبر کام کرانے کے لیے ان اہلکا روں کی نیاز مندی اور رشوت و سفارش کے لیے مجبور ہیں، لیکن جو شخص میرٹ، استحقاق اور جائز کام کے لیے ناجائز ذرائع اختیار کرنے سے انکار کرتا ہے، وہ راندہ درگاہ ہو کر دفتر دفتر خوار و ذلیل اور نامراد ہو کر چکر لگاتا رہتا ہے۔تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے کسی حد تک سرکاری اہلکاروں کو لگام دینے، جواب دہ بنانے اور دباؤ میں لانے کے لیے کچھ اقدامات ضرور کیے ہیں۔ مثلاً وزیر اعظم کا شکایات سیل، وزیر اعلیٰ کا شکایات سیل لیکن ان چالباز اور ہر قسم کی چالاکیوں اور ہتھکنڈوں سے لیس بیروکریسی نے اس کا بھی توڑ نکال لیا ہے۔ وہ اس طرح کہ اگر آپ وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم شکایات سیل میں کسی محکمے کے بارے میں شکایت درج کرائیں، تو متعلقہ اتھارٹی وہ شکایت ضلعی ڈپٹی کمشنر کو ریفر کرے گی، ڈی سی صاحب اسی محکمے کو انکوائری کے لیے وہ شکایت بھیجیں گے۔ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ جس کے خلاف شکایت ہے آپ نے اسی کو حاکم بنایا اور اس کو اپنے خلاف شکایت سننے اور مسئلہ حل کرنے کا اختیار دے دیا۔
عوامی نمائندوں کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ ان محکموں کے اہل کار اکثر ان عوامی نمائندوں کے حجروں، ڈیروں میں ’’حاضر باش‘‘ درباری کی حیثیت سے روزانہ حاضری لگاتے ہیں۔ ماشاء اللہ اگر ڈیڈک چیئر مین جو ان اداروں کی نگرانی اور کارکردگی دیکھنے کا ذمہ دار ہے، وہ استقبالی تقریبات، دعوتوں اور اپنے پسندیدہ مشغلوں میں مصروف ہے، تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان اہلکاروں کو کون اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے؟
یہ ہے تبدیلی اور نعرہ بازی۔ نعرہ بازی، نت نئے نعروں اور اور پُرفریب وعدوں سے عوام کو بے وقوف تو بنایا جا سکتا ہے، لیکن عوام کی خدمت اور ’’گڈ گورننس‘‘ کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں بنایا جا سکتا۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے