405 total views, 1 views today

پارلیمانی سیاست کا آغاز انتخابات سے ہوتا ہے۔ ملک میں عوام اپنے نمائندے ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں اور ان کو تختِ اقتدار تک پہنچاتے ہیں، لیکن بجائے اس کے کہ عوامی نمائندگی حاصل کرنے کے لیے یہ انتخابات ضابطۂ اخلاق کے مطابق پُرامن ماحول میں ہوں۔ عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کے لیے ساز گار اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جائے۔ نمائندوں کے انتخاب کے لیے عوامی شعور کو بیدار کیا جائے اور دستور میں طے کردہ شرائط کے مطابق افراد کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے۔ مگر ہوتا یوں ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوتے ہی ملک میں ایک قسم کی ہنگامی حالت اور ایک ہنگامہ بر پا ہو جاتا ہے ۔
پاکستانی تاریخ میں الیکشن کمیشن اکثر پاک و صاف اور شفاف الیکشن کرانے میں ناکام قرار پاتا ہے۔ ضابطۂ اخلاق پر عمل در آمد کرانا تو دور کی بات ہے، اس کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ امیدوار ایک دوسرے پر بے سر و پا اور غلط الزامات لگاتے ہیں۔ جھوٹ اور بہتان تراشی کا ایک طوفان برپا کیا جاتا ہے اور الیکشن جیتنے کے لیے ایسے ایسے حربے اور طریقے استعمال کیے جاتے ہیں کہ شیطان بھی شرمندہ ہو کر سر پیٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہیں سے دشمنی، کدورت اور کھینچا تانی کا آغاز ہوتا ہے، جو آگے چل کر بہت بڑی محاذ آرائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ حکمرانوں اور حزبِ اختلاف کے درمیان یہ مخاصمت، دشمنی اور محاذ آرائی پورے پانچ سال جاری رہتی ہے۔ حزبِ اختلاف حکومت گرانے اور حزبِ اقتدار اپنا اقتدار بچانے میں مصروف رہتا ہے اور ملکی سا لمیت، امن و امان اور ترقی کا پروگرام پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یوں دونوں گروپوں کی توجہ ملکی ترقی کے بجائے محاذ آرائی پر مرکوز رہتی ہے۔
اگرآپ موجودہ صورتحال پر ایک نظر ڈالیں، تو مذکورہ بالا صورتحال آپ کو واضح طور پر نظر آجائے گی۔ اگر ایک طرف تحریکِ انصاف نے الیکشن سے پہلے ماحول کو الزامات، دشنام طرازی اور مخالفین کی کردار کشی سے گرم رکھا، تو دوسری طرف تمام پارٹیوں نے بھی الزامات و اتہامات اور جھوٹے پروپیگنڈے سے جواب دیا۔ سوشل میڈیا پر تو پروپیگنڈے اور کردار کشی کا وہ طوفان برپا کیا گیا کہ شیطان بھی سر پیٹ کر رہ گیا۔ الیکشن میں ادھوری اور کمزور کامیابی کے بعد تحریکِ انصاف نے ان عناصر کے ذریعے اپنے نمبر پورے کرنے کی کوشش کی جو مفادات کے اسیر، اہلِ غرض اور سیاسی پارٹیاں بدلنے کے عادی تھے۔ ان عناصر کی شمولیت سے جو حکومت بنی، وہ اپنی ساکھ ، سیاسی حیثیت اور عزت و وقار کے لحاظ سے کمزور ہے۔ اگرچہ تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان نے روایتی حکمرانی سے ہٹ کر کچھ فیصلے ایسے کیے جس نے عوام میں خوشگوار ماحول پیدا کیا۔ حکومتی سطح پر سادگی، کفایت شعاری اور اسراف و تبذیر سے گریز کا آغاز پوری قوم کے لیے نویدِ جاں فزا بنی۔ اگرچہ کابینہ کے پرانے کھلاڑی ارکان کے بارے میں شکوک و شبہات کا ماحول برقرار رہا اور ان پرانے گھاک کھلاڑیوں کے بارے میں عوامی تاثر بہتر نہ ہوسکا، لیکن بہرحال کچھ فیصلے ایسے کیے گئے کہ اگر ان پر عمل درآمد کیا گیا، تو اِن شاء اللہ آئندہ کے لیے سیاسی ماحول پر اس کا خوشگوار اثر ہوگا۔ ایک بنیادی فیصلہ جو دور رس نتائج کا حامل ہے کہ ارکانِ اسمبلی کو قانون سازی اور فیصلہ سازی تک محدود کیا جائے اور ان کو ترقیاتی فنڈنہ دیا جائے، یہ سیاست میں مفاد پرست اور سیاست کے ذریعے دولت کمانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ دوسرا بڑا فیصلہ یہ کہ کرپشن کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر اس فیصلہ پر عمل درآمدکا آغاز اپنی پارٹی سے کیا جائے، تو اس کے بہتر نتائج حاصل ہوں گے اور کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا۔
نیب کو جو احتساب کے لیے بنایا گیا ادارہ ہے، ایسے عناصر سے پاک و صاف کیا جائے جو خود کرپشن میں ملوث ہیں۔ اس ادارے کو قانونی لحاظ سے بااختیار اور طاقتور بنایا جائے اور اس میں اہل ، دیانت دار ، امانت دار اور با صلاحیت افراد کا تقرر کیا جائے۔ محاذ آرائی اور اختلاف کو ختم کرنے کے لیے حزبِ اختلاف کے ساتھ عزت و احترام اور معروف پارلیمانی روایات کو ملحوظ رکھا جائے اور الزام در الزام کا ماحول ختم کیا جائے۔ شائستگی اور باوقار رویے کا مظاہرہ کیا جائے، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جن افراد پر کرپشن کے الزامات ہیں، ان کے ساتھ ’’این آر او‘‘ کا معاملہ کیا جائے، بلکہ ایسے کرپٹ افراد اور خاندان جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں کرپشن کی، بیرونِ ملک اثاثے بنائے، ملکی دولت اور خزانے کو عیش و عشرت کے لیے استعمال کیا، ان کو عدل و انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور ان پر قانون کا آہنی ہاتھ ڈالا جائے، تاکہ آئندہ ان کو قومی دولت لوٹنے کا حوصلہ نہ ہو۔
حزب اختلاف کی پارٹیوں کے لیے یہ امتحان اور آزمائش کا وقت ہے۔ اگر انہوں نے اختلاف برائے اختلاف کا رویہ چھوڑ کر ملکی ترقی، اداروں کے استحکام اور پاکستان کی بقا اور تحفظ کے لیے معروف پارلیمانی رویے کا مظاہرہ کیا۔ قانون کا سامنا کرکے اپنے آپ کو کرپشن کے الزامات سے پاک صاف ثابت کیا، تو ان کا ملکی سیاست میں کردار محفوظ ہو جائے گا اور وہ آئندہ الیکشن میں عوام کے سامنے اجلے اور صاف چہرے لیکر جائیں گے۔
آخر میں وفاقی اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ضلعی اور تحصیل سطح پر اداروں کی اصلاح کی جائے۔ یہ پبلک ہیلتھ، سی اینڈ ڈبلیو، لوکل گورنمنٹ، ایری گیشن، سوئی گیس، واپڈا اور دیگر ادارے ہر حکومت کے لیے نیک نامی کی بجائے بدنامی اور شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں رشوت عام ہے۔ کام چوری اور دفتر میں عدم حاضری معمول ہے۔ ہر ادارے نے ایک مافیا اور گینگ کی شکل اختیار کی ہے۔ تنخواہوں، مراعات اور الاؤنسز کے لیے تو آئے روز ہڑتالیں اور دھرنے دیے جاتے ہیں، لیکن اپنا فرضِ منصبی ادا کرنے میں ان اداروں کے ذمہ دار ناکام ہیں۔

…………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے